رسائی کے لنکس

logo-print

لائیو بلاگ کرونا وائرس: امریکہ میں ایک دن میں ریکارڈ تین ہزار اموات، دو لاکھ نئے کیسز رپورٹ

آخری بار اپڈیٹ کیا گیا دسمبر 02, 2020

بھارت میں یومیہ کیسز کم کیوں ہو رہے ہیں؟

دنیا کے متعدد ملکوں کو کرونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے لیکن بھارت میں یومیہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

نئی دہلی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے مقابلے میں نومبر میں کرونا کیسز میں 32 فی صد تک کمی آئی۔

بھارت میں جہاں اکتوبر میں یومیہ کیسز تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ گئے تھے۔ وہیں اب گزشتہ تین ہفتوں سے یومیہ پچاس ہزار سے بھی کم کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 35 ہزار 551 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جب کہ اس وبا کے شکار 526 افراد ہلاک ہوئے۔

اس طرح بھارت میں کرونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 95 لاکھ سے تجاوز کر گئی اور ہلاک شدگان کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 648 تک پہنچ گئی۔

سکریٹری صحت راجیش بھوشن کے مطابق بھارت میں کرونا کی وبا ماہِ ستمبر میں اپنے عروج پر تھی اور اس وقت یومیہ تقریباً ایک لاکھ کیسز رپورٹ ہو رہے تھے لیکن اب وہ دور ختم ہو چکا ہے۔

مزید جانیے

16:58 3.12.2020

اسلام آباد ہائی کورٹ: سیاسی و مذہبی اجتماعات پر پابندی کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں سیاسی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی لگانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جمعرات کو درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان اور انتظامی ادارے کرونا وائرس کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قوم کو متحد کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ درخواست گزار پارلیمان اور انتظامی اداروں پر اعتماد کرے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر شہری، سیاسی قیادت اور اداروں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ موجودہ بحران میں عوام کی رہنمائی میں پارلیمان کا کردار سب سے اہم ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق کرونا وائس کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ کو فعال بنانا منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ عوام کی جانیں بچانے کے لیے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا حکومت کا فرض ہے۔ جب حکومت فیصلوں پر عمل درآمد کی صلاحیت سے خالی ہو تو عدالتی فیصلے بے معنی ہو جاتے ہیں۔

16:22 3.12.2020

اگلے تین ماہ امریکی صحتِ عامہ کے لیے بہت مشکل ہوں گے: سی ڈی سی

امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگران ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وبا کے پیشِ نظر دسمبر، جنوری اور فروری امریکہ میں صحتِ عامہ کے لیے نہایت مشکل ہوں گے۔

سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ موسم کی شدت کے ساتھ ہی کرونا وائرس کیسز میں بھی اضافہ ہو گا جس سے لامحالہ اسپتالوں پر مزید بوجھ پڑے گا۔

سی ڈی سی کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے بدھ کو امریکی چیمبر آف کامرس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ایک ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ حقیقت ہے کہ دسمبر، جنوری اور فروری بہت مشکل وقت ہو گا۔ میرا یہ واقعی خیال ہے کہ یہ ہماری صحتِ عامہ کی تاریخ میں مشکل ترین وقت ہو گا۔"

ریڈ فیلڈ کا کہنا ہے کہ موجودہ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ گزشتہ لہر سے بہت زیادہ ہے۔ یہ اضافہ جغرافیائی طور پر بھی پہلے سے زیادہ ہے اور امریکہ میں اوسطً روزانہ دو ہزار افراد اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں۔

مزید جانیے

16:11 3.12.2020

روسی صدر کی حکومت کو آئندہ ہفتے سے بڑے پیمانے پر ویکسین فراہمی کی ہدایت

روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ بڑے پیمانے پر کرونا وائرس کے انسداد کی ویکسین شہریوں کو دینے کا آئندہ ہفتے آغاز کیا جائے۔

رپورٹس کے مطابق روس مقامی طور پر تیار کردہ اسپوتنک-فائیو ویکسین کی دستیابی کے لیے کوشاں ہے۔

روس کی تیار کردہ ویکسین کے اثر پذیر ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ البتہ صدر پوٹن نے وزارتِ دفاع کے میڈیکل اداروں سے ٹیلی کانفرنسنگ کے دوران ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے احکامات جاری کیے۔

روس کے صدر نے یہ احکامات ایک ایسے موقع پر جاری کیے جب برطانیہ نے امریکہ اور جرمنی کے اداروں کے اشتراک سے تیار کردہ ویکسین شہریوں کو دینے کی منظوری دی ہے۔ اس ویکسین کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ 95 فی صد مؤثر ہے۔ جب کہ اس سے بڑی عمر کے افراد کی حفاظت ممکن ہو سکے گی۔

صدر پوٹن نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ روس کی حکومت نے کرونا وائرس کے انسداد کی پہلی ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ البتہ اس ویکسین کے فیز تھر کے ٹرائل ابھی نہیں ہوئے۔ جب کہ یہ ویکسین صرف چند درجن افراد کو ہی دی گئی ہے۔ محققین نے بھی اس حوالے سے صرف ابتدائی معلومات فراہم کی ہیں تاکہ سائنس دان اس کا جائزہ لے سکیں۔

صدر پوٹن کے مطابق اسپتنک فائیو کے 20 لاکھ ڈوز مستقبل قریب میں دستیاب ہوں گے۔ جو کہ ابتدائی طور پر طبی عملے اور اساتذہ کو دیے جائیں گے۔

انہوں نے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ ہفتے میں 11 دسمبر سے بڑے پیمانے پر ویکسین کی فراہمی شروع کی جائے۔

16:02 3.12.2020

امریکہ میں ایک دن میں ریکارڈ تین ہزار سے زائد اموات

امریکہ میں کرونا وائرس سے اموات کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔ اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 3157 افراد وبا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ میں وبا سے پہلی بار ایک دن میں تین ہزار سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

قبل ازیں امریکہ میں سب سے زیادہ یومیہ اموات 2607 رواں برس 15 اپریل کو ہوئی تھیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی اموات گزشتہ ریکارڈ اموات سے بھی 30 فی صد زیادہ ہیں۔

امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3157 ہلاکتوں کے بعد مجموعی اموات دو لاکھ 73 ہزار 835 ہو گئی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ دنیا بھر میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ جہاں اموات اور متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

14:20 3.12.2020

امریکہ میں ایک بار پھر دو لاکھ سے زائد یومیہ کیسز رپورٹ

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ میں دوسری بار دو لاکھ سے زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں دو لاکھ 700 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ قبل ازیں 27 نومبر کو دو لاکھ پانچ ہزار کیسز سامنے آئے تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک ایک کروڑ 39 لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ جن میں سے 35 لاکھ 22 ہزار افراد کے صحت یاب ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

13:38 3.12.2020

امریکہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں

امریکہ میں جہاں ایک طرف کرونا ویکسین عوام تک پہنچانےکی تیاریاں کی جا رہی ہیں، وہیں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ سے بھی بڑھ چکی ہے۔ امریکہ میں کرونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں جانتے ہیں وائس آف امریکہ کے ندیم یعقوب سے اسد اللہ خالد کی گفتگو میں۔

امریکہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:46 0:00

13:31 3.12.2020

بائیڈن کی کانگریس سے دسمبر میں کرونا ریلیف پیکیج منظور کرنے کی اپیل

امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسی معیشت بنانا چاہتے ہیں جو تمام امریکیوں کے حق میں کام کرے۔

وہ کرونا بحران سے پیدا ہونے والے مسائل کے تناظر میں 20 جنوری سے شروع ہونے والی اپنی چار سالہ صدارت میں اقتصادی پالیسیوں کے متعلق بات کر رہے تھے۔

اپنے آبائی شہر ولمنگٹن میں نئی انتظامیہ کے لیے اقتصادی امور کی ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ یہ ایک کٹھن دور ہے، لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے لیے امداد آ رہی ہے۔

بائیڈن نے فیڈرل ریزرو کی سابقہ چیئر پرسن جینٹ ییلن کو وزیرِ خزانہ نامزد کرتے ہوئے کانگریس سے کہا کہ وہ دسمبر میں ہی نئے قانون ساز ارکان کے آنے سے پہلے عوام کے لیے کرونا امدادی ریلیف پیکیج کا بل پاس کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی امداد کی فراہمی محض ایک آغاز ہو گی اور جب وہ حکومت کی باگ دوڑ سنبھالیں گے تو نئی تجاویز دیں گے۔

مزید جانیے

13:30 3.12.2020

عام لوگوں تک کرونا ویکسین پہنچانا کتنا مشکل ہو گا؟

کرونا وائرس کی ویکسین کی عام لوگوں تک رسائی کتنی مشکل ہو گی؟ کیا ویکسین آنے کے بعد بھی ٹیسٹنگ کی ضرورت ہو گی؟ اور کیا کرونا وائرس کی ویکسین کچھ لوگوں کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے؟ جانیے یہ سب اور بہت کچھ وائس آف امریکہ کے 'آئن لائن کلینک' کی چوتھی قسط میں۔

13:10 3.12.2020

وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم کرونا سے متاثر

پاکستان کی وزارتِ قانون کے ترجمان نے کہا ہے کہ وفاقی وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا۔

بیان میں وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وہ وبا کی معمولی علامات محسوس کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کراچی میں اپنے گھر سے سرکاری امور کی انجام دہی جاری رکھیں گے۔

13:07 3.12.2020
مزید
Previous slide
Next slide

XS
SM
MD
LG