رسائی کے لنکس

کیا یمن کے ویران جزیرے پر پراسرار فوجی اڈا متحدہ عرب امارات کا ہے؟


پلینٹ لیب کی جانب سے ریلز کی جانے والی سیٹلائٹ تصویر میں یمن کے مائن جزیرے پر پراسرار تعمیرات دکھائی دے رہی ہیں۔ 25 مئی 2021

یمن کے عہدے داروں نے خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے بعد یمن کے ایک ایسے جزیرے پر، جو سمندری نگرانی کے اعتبار سے بہت اہم ہے، پراسرار طور پر تعمیر ہونے والے ہوائی اڈا کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک قانون ساز علی المعماری نے رپورٹ کی بنیاد پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس تعمیر کا تعلق متحدہ عرب امارت سے ہے؟

یمن کے ایک اور سرکاری عہدے دار نے واضح تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارت یمن میں صدر عبدی ربو منصور ہادی کی حکومت کو 'کمزور' کر رہا ہے۔

یمن کئی برس سے خانہ جنگی سے گزر رہا ہے، جس کا آغاز 2015 میں ہوثی قبائل کے ساتھ لڑائیوں سے ہوا تھا۔ ہوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے، جب کہ سعودی قیادت کا ایک فوجی اتحاد صدر ہادی کی جانب سے ان کے خلاف لڑ رہا ہے۔ یمن کے دارالحکومت پر ہوثی قابض ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے ہوائی اڈے کی تعمیر سے متعلق سوال کا متعدد بار کی جانے والی درخواستوں کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی بدھ تک ان کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے آیا۔

ہوثی باغیوں کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے خلاف صنعا میں امریکی سفارت خانے کے سامنے ان کا مظاہرہ۔ 18 جنوری 2021
ہوثی باغیوں کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے خلاف صنعا میں امریکی سفارت خانے کے سامنے ان کا مظاہرہ۔ 18 جنوری 2021

مائن نامی جزیرے پر ہوائی اڈے کی تعمیر سے اس سمندری علاقے پر کنٹرول اور یمن کے مرکزی علاقے پر فضائی حملے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اسے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور مشرقی افریقہ میں فوجی مہمات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جزیرے پر رن وے اور عمارتیں بن چکی ہیں۔ 11 اپریل کو حاصل کئے جانے والے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق جزیرے پر بنائے گئے تقریبا دو کلومیٹر طویل رن وے پر تعمیراتی سامان کے ٹرک اور زیر تعمیر عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

18 مئی تک بظاہر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے، اور رن وے کے جنوب میں طیاروں کے تین ہینگرز تقریباً مکمل ہو گئے ہیں۔ منگل کے روز لی گئی تصاویر میں عمارتوں کے سامنے گاڑیاں کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔

تعمیر کیے جانے والے رن وے کو نگرانی کرنے والے طیاروں اور ٹرانسپورٹ طیاروں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر ہادی کی حکومت کے ایک عہدے دار نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ ہوائی اڈا متحدہ عرب امارات نے بنایا ہے اور اس نے حالیہ ہفتوں میں بحری جہازوں پر وہاں فوجی ساز و سامان اور اہل کار بھجوائے ہیں۔

فوجی افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ہادی کی حکومت اور متحدہ عرب امارت کے درمیان کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اماراتیوں نے یہ دباؤ ڈالا کہ مائن جزیرہ انہیں 20 سال کے لیے لیز پر دے دیا جائے۔

متحدہ عرب امارات کے عہدےدار صدر ہادی کی حکومت سے کسی طرح کے اختلاف سے انکار کرتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا ملک 2019 میں یمن کی جنگ سے لاتعلق ہو گیا تھا۔

ہادی کی حکومت متحدہ عرب امارت پر یہ الزام لگاتی ہے کہ وہ یمن کی جنگ میں علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اماراتیوں کی ایما پر کیے گئے ایک حملے میں 30 سرکاری فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

ہادی حکومت کے ایک قانون ساز علی اشعال نے حکام کو ایک خط میں پوچھا ہے کہ اطلاعات کے مطابق اماراتی ہمارے جزیرے مائن میں فوجی اڈا تعمیر کر رہے ہیں جس سے ارکان حکومت لاعلم ہیں۔

صدر ہادی کی وزارت اطلاعات کے ایک عہدے دار محمد قائسان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے مائن جزیرے کے حوالے سے ہمارے ملک میں دراندازی کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG