رسائی کے لنکس

'ہم ہیروز ہیں، بس کسی کو نظر نہیں آتے'؛ مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی خواتین


سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خواتین فیول اٹینڈینٹس کی تصاویر نے بھی خوب دھوم مچائی۔ جس میں کہیں تنقید تو زیادہ تر ستائش شامل تھی۔

'جس جگہ پر ہم کام کر رہے ہیں یہاں پر بہت خطرہ ہے۔ ہم اپنی جان پر کھیل کر یہ کام کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہم ہیروز ہیں۔ ہمیں خود پر اعتماد ہے تو اسی لیے ہمیں اس سے ڈر نہیں لگتا'۔

یہ کہنا ہے 29 سالہ علیشہ امان انصاری کا جو اس وقت کے الیکٹرک میں بطور گرڈ آپریٹنگ آفیسر کام کر رہی ہیں۔

لیاقت آباد کی رہائشی علیشہ نے ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کے والد اور بھائی بھی اسی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن گرڈ اسٹیشن میں کام کرنے والی پہلی پانچ خواتین میں علیشہ شامل ہوئیں تو یوں وہ ملک کی ہی نہیں، اپنے خاندان کی بھی پہلی خاتون جی او او بننے کا اعزاز پاگئیں۔

پاکستان کی پہلی خواتین گرڈ آپریٹنگ آفیسرز کون ہیں؟

علیشہ کا کہنا تھا کہ جب وہ پہلی بار یہاں آئی تو اتنا بڑا سسٹم دیکھا، اتنے سارے پینلز دیکھے تو ایک پل کو لگا کہ وہ کیسے کام کریں گے۔ لیکن یہاں پر کام کرنے والوں نے بہت سکھایا، ساتھ دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں سب سے ضروری تو یہ ہے کہ کوئی بھی کام کرنا ہے یا آپریشن میں حصہ لینا ہے تو تمام تر حٖفاظتی اقدامات اور اپنی سیفٹی کا خیال کرتے ہوئے کام شروع کرنا ہے۔ اس کے لیے ان کے کچھ ضابطے بنے ہوئے ہیں۔ جس کے تحت ہی انہیں کام کرنا ہوتا ہے۔ اس کو ہی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صبح آنے کے بعد سب سے پہلے تو وہ اس پورے گرڈ کو مانیٹر کرتی ہیں۔ اگر مانیٹرنگ کے دوران ہمیں کچھ غیر معمولی صورت حال نظر آئے جیسے کہ آواز سے ہمیں پتہ لگتا ہے، جب ہم ریڈنگ نوٹ کرتے ہیں تو انہیں کچھ شرائط اور اعشاریے متعین ہیں۔ اگر لوڈ زیادہ ہو اور ریڈنگ زیادہ آرہی ہے تو انہیں اسے نوٹ کر کے کنٹرول کو بتانا پڑتا ہے تاکہ وہ آگے کوئی فیصلہ لے سکیں۔

'ہم ہیروز ہیں، بس کسی کو نظر نہیں آتے'

علیشہ کا کہنا تھا کہ یہاں انہیں اپنے اعصاب کو مضبوط رکھتے ہوئے کام کرنا ہوتا ہے، ذرا سی لاپر واہی کوئی بھی غلط فیصلہ کروا سکتی ہے اور خاندان میں اب جب میرا جانا ہو اور وہاں انہیں دیکھتے ہی رشتے دارلوڈ شیڈنگ کا شکوہ اور غصے کا اظہار کریں تو میں انھیں بتاتی ہوں کہ جتنا آپ کو یہ آسان لگتا ہے، اتنا آسان ہے نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کہیں تار ٹوٹے ہیں تو وہاں بجلی بند کیے بغیر کام کروایا نہیں جاسکتا۔ اس دوران وہ یہاں دیکھ بھال کر رہے ہوتے ہیں۔ جب الیون کے وی (کلو والٹ) پر ہم ’ٹرالی ریک‘ ان اور ’ریک آوٹ‘ کر رہے ہوتے ہیں تو ہم اپنی جان پر کھیل کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس میں زندگی اور موت کا معاملہ ہوتا ہے تو ہم ہیروز ہیں، بس کسی کو نظر نہیں آتے۔

سعدیہ سحر بھی کے سی آر گرڈ اسٹیشن میں بطور جی او او تعینات ہیں۔

ان کے مطابق جب ان کی فیملی کو معلوم ہوا کہ وہ بطور جی او او منتخب ہو گئی ہیں تو ان کے لیے یہ خبر حیران کن تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بچپن گھر میں تاریں، سوئچس اور مختلف ٹیسٹرز کو دیکھ کر گزرا ہے۔ ان کے بھائی نے یونیورسٹی سے الیکٹرونکس میں انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ہیں۔ جب کہ انہوں نے اس میں ڈپلومہ لے رکھا ہے۔

اکیس سالہ سمن ایوب کورنگی کی کرسچن کالونی کی رہائشی ہیں۔ وہ پڑھتی بھی ہیں اور اپنے گھر کی کفیل بھی ہیں۔
اکیس سالہ سمن ایوب کورنگی کی کرسچن کالونی کی رہائشی ہیں۔ وہ پڑھتی بھی ہیں اور اپنے گھر کی کفیل بھی ہیں۔

سعدیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو چیلنج کر رکھا تھا کہ اگر لڑکے یہ کام کر سکتے ہیں تو وہ بھی کرسکتی ہیں۔ گھر میں کوئی بھی بجلی کا مسئلہ ہوتا وہ خود ہی اسے ٹھیک کر لیتں۔ یہاں تک کہ اگر خاندان میں کوئی فنکشن ہوتا تو میوزک سسٹم ہو یا لائیٹنگ کا کام، انہیں کہہ دیا جاتا تھا۔ لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہاں نوکری ملے گی۔ یہاں جاب ملنے پر گھر والے توخوش ہوئے ہی لیکن بھائی سب سے زیادہ خوش ہوئے۔ سعدیہ کے مطابق یہ ذمہ داری بہت بڑی ہے یہاں کام کرنے کے دوران ہم موبائل فون کا استعمال نہیں کرسکتے۔

'تو ہمارے سینئیر انچارج نے کہا کہ یہ وقت سیکھنے کا ہے'

ان کے بقول ابھی حال ہی میں کراچی میں بڑا پاور بریک ڈاؤن ہوا تھا۔ تو ہمارے سینئیر انچارج نے کہا کہ یہ وقت سیکھنے کا ہے۔ تو کام ان ہی خواتین جی او اوز سے کروایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ان کے ٹیپنگ انچارج کنٹرول روم میں تھے، انہوں نے انہیں سب بتایا۔ ساتھ میں سینئر جی او اوز کو بھی بھیجا، کام ’مینئیول‘ طریقے سے کرنا تھا۔ جو ہم نے سینیئزز کی رہنمائی میں کیا، یہ ہماری زندگی کا پہلا تجربہ تھا جسے ہم نے خوش اسلوبی سے سر انجام دیا۔

مارچ 2021 میں کے الیکٹرک نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار پانچ خواتین گریڈ آپریٹنگ آفیسرز کو بھرتی کیا۔ جن میں سے تین جی او اوز گلشن اقبال کے گرڈ اسٹیشن جب کہ دو کے سی آر گرڈ اسٹیشن میں تعینات ہیں۔

پانچ سو ایم وی اے (میگا والٹ ایمپئر)کے سی آر کراچی کے ان دس بڑے گرڈ اسٹیشنز میں سے ایک ہے جہاں سے شہر کے تیس فیصد حصے کو بجلی کی فراہمی ہوتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کے الیکٹرک کی چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن آفیسر سعدیہ داداکا کہنا تھا کہ ملک کی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور دفاتر میں بھی ایک بڑی تعداد کام کرنے والی خواتین کی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن ٹیکنیکل شعبوں میں یہ تعداد اب بھی انتہائی کم ہے۔

سمن کے بقول شروع شروع میں جب یہ کام کیا تو بہت سے لوگ فیولنگ کے لیے آتے تو حیران ہو جاتے۔
سمن کے بقول شروع شروع میں جب یہ کام کیا تو بہت سے لوگ فیولنگ کے لیے آتے تو حیران ہو جاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ عرصہ قبل انہوں نے خواتین میٹر ریڈرز کو بھرتی کیا۔ جس کا نتیجہ کافی حوصلہ افزا ثابت ہوا تو اسی وجہ سے وہ گرڈ آپریٹنگ میں خواتین کو لے کر آئے۔

سعدیہ کے مطابق تمام چیلنجنگ جابز کو مردوں سے منسوب کر دینا سراسر غلط ہے۔ یہ کام خواتین بھی اپنی قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر اسی طرح سر انجام دے سکتی ہیں۔

اس ضمن میں انہوں نے اس بات کا خصوصی خیال رکھا کہ اس شعبے میں جہاں پہلے مرد ہی ہوا کرتے تھے، خواتین کو بھی جگہ دی جائے۔ اس لیے ان کی تربیت، حفاظتی انتظامات، سہولیات کے خیال سے لے کر ان کی تنخواہوں کو بھی ایک مرد جی او او کے برابر رکھا ہے۔

سعدیہ کے مطابق ہم اس وقت چالیس خواتین کو سیفٹی ایمبیسڈر کے طور پر تربیت دے رہے ہیں کہ وہ گھر گھر جاکر لوگوں کو آگاہی فراہم کرسکیں۔ اس سلسلے میں وہ انہیں الیکٹریشن کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔ تاکہ خواتین میں ٹیکنیکل صلاحیتوں کو ابھارا جائے اور کے الیکٹرک متوازن ورک فورس بنا سکے۔

ملک کی پہلی خواتین فیول اٹینڈنٹس

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خواتین فیول اٹینڈینٹس کی تصاویر نے بھی خوب دھوم مچائی۔ جس میں کہیں تنقید تو زیادہ تر ستائش شامل تھی۔

وائس آف امریکہ نے کراچی کی ان پہلی فیول اٹینڈنٹس سے ملاقات کی جو اپنے کام میں مشغول تھیں۔

اکیس برس کی سمن ایوب کورنگی کی کرسچن کالونی کی رہائشی ہیں۔ وہ پڑھتی بھی ہیں اور اپنے گھر کی کفیل بھی ہیں۔

ماہ نور کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے انہیں منع کیا کہ یہ کام مت کرو کچھ اور کرلو، کسی اپنے نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا؟۔
ماہ نور کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے انہیں منع کیا کہ یہ کام مت کرو کچھ اور کرلو، کسی اپنے نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا؟۔

ان کے لیے نوکری کرنا کوئی نئی بات نہیں لیکن اس نوکری کا تجربہ نیا بھی ہے اور حوصلہ افزائی کا سبب بھی۔

سمن کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ خاص کر خواتین دیکھتی ہیں تو کہتی ہیں کہ ہمیں بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آپ محنت کر رہی ہو اور وہ کام کر رہی ہو جو ہمیں لگتا تھا کہ صرف مردوں کے لیے بنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ سیلیوٹ کر کے جاتے ہیں۔ جب وہ گھر جا کر یہ بتاتی ہیں تو گھر والے بھی خوش ہوتے ہیں۔

سمن کے بقول شروع شروع میں جب یہ کام کیا تو بہت سے لوگ فیولنگ کے لیے آتے تو حیران ہو جاتے اور پوچھتے کہ کیا آپ فیولنگ کریں گی؟ کچھ کھڑے ہو کر غور سے دیکھتے اور پھر شاباشی دیتے اور چلے جاتے۔

'جب آپ کام کر رہے ہیں تو ہم بھی کریں گے'

سمن کے مطابق جب سے وہ کام کر رہی ہیں انہیں کسی تلخ تجربے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ کچھ مرد شروع میں گھبرائے کہ کہیں میں فیولنگ کرتے ہوئے کوئی غلطی نہ کردوں لیکن ہم انہیں اعتماد دیتے ہیں کہ ہم یہاں اپنا کام بہتر انداز سے کرنے کے لیے کھڑے ہیں۔ پھر ہمارے ساتھ کام کرنے والے مرد ساتھی ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں۔ جب رش بڑھ جائے تو وہ ہمیں کہتے بھی ہیں کہ ہم اگر چاہیں تو آرام کرلیں لیکن میں ان سے یہی کہتی ہوں کہ جب آپ کام کر رہے ہیں تو ہم بھی کریں گے۔

سمن کی طرح انیس برس کی ماہ نور رفیق بھی فیول اٹینڈنٹ ہیں۔ اس سے قبل وہ ایک شاپنگ مال میں نوکری کرتی تھیں۔

ان کے لیے یہ نوکری نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اس لحاظ سے بہترین ہے کہ وہ یہاں آرام دہ لباس کے ساتھ حجاب بھی پہن سکتی ہیں۔

ماہ نور کو اس نوکری کو کرنے سے قبل خاندان کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

'یہاں کام دیکھا جاتا ہے، بناؤ سنگھار نہیں'

ماہ نور کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے انہیں منع کیا کہ یہ کام مت کرو کچھ اور کرلو، کسی اپنے نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا؟ کیسی کیسی باتیں ہوں گی کہ لڑکی ہوکر یہ کام کر رہی ہے لیکن ان کی امی نے بہت ساتھ دیا اور کہا کہ کام کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، انسان محنت سے ہی آگے جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کا ماحول بہت اچھا ہے۔ ہمارے ساتھ کوئی غلط رویہ اور برتاؤ نہیں دکھا سکتا کیونکہ ان کے سپر وائزر ہر وقت یہاں موجود ہوتے ہیں۔

ماہ نور کو بھی روز انہی لوگوں سے حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ اب وہ مرد حضرات جو بائیک پر خواتین کے ساتھ آتے ہوئے۔ پمپ کے باہر خاتون تو بائیک سے اتار دیا کرتے تھے کہ یہاں صرف مرد ہی مرد ہے۔ اب اس رویے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

ماہ نور کے مطابق وہ خواتین جو ضرورت مند ہیں اور اپنی شناخت ظاہر کیے بنا محنت کرنے کی خواہش مند ہیں۔ ان کے لیے یہ نوکری بہتر ہے کیونکہ بقول ان کے یہاں کام دیکھا جاتا ہے، بناؤ سنگھار نہیں۔

پاکستان اسٹیٹ آئل کے ریٹیل بزنس ساتھ کے ڈپٹی جنرل مینیجر افتخار امانت کے مطابق اگرچہ خواتین فیول اٹینڈینٹس کو بھرتی کرنے کا فیصلہ مشکل ضرور تھا لیکن ان کے نزدیک یہ سب سے اہم تھا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو با عزت روزگار کے مواقع میسر آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے یہ بات بھی تھی کہ معاشرے میں جو مائینڈ سیٹ ہے جو سوچ کا ایک ہی طرح کا زاویہ ہے۔ اسے بھی تبدیل کیا جائے۔ اسی لیے ہم اس شعبے میں بھی خواتین کو لے کر آئے کیونکہ یہ مواقع سب کے پاس نہیں ہیں کہ وہ اعلی تعلیم حاصل کرسکیں۔

ان کے بقول اس وقت پی ایس او نے پندرہ خواتین کے ساتھ اسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے شروع کیا ہے۔ جس میں کراچی میں چھ خواتین کام کر رہی ہیں اور مستقبل میں یہ تعداد بڑھائے جانے کا امکان ہے۔

افتخار امانت کے مطابق انہوں نے خواتین کے لیے کام کرنے کے اوقات صبح سے شام کے ہی رکھے ہیں۔ ان کے لیے علیحدہ ریسٹ روم، نماز کی جگہ، آرام کا کمرہ بھی بنایا ہے۔ جب کہ انہیں آنے اور جانے کے الاؤنسس بھی دے رہے ہیں۔

افتخار امانت کے مطابق انہوں نے خواتین کے لیےکام کرنے کے اوقات صبح سے شام کے ہی رکھے ہیں۔
افتخار امانت کے مطابق انہوں نے خواتین کے لیےکام کرنے کے اوقات صبح سے شام کے ہی رکھے ہیں۔

'پیٹرول پمپس پر ہر طرح کا شخص آتا ہے اور اس کا ہر قسم کا رویہ ہوسکتا ہے۔ ان خواتین کو کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کئے گئے؟ اس سوال کے جواب میں افتخار امانت کا کہنا تھا ان خواتین کو یہاں لانے سے قبل ہمیں ایسا سازگار ماحول بنانا تھا جس کو دیکھتے ہوئے مزید خواتین بھی اس جانب آئیں۔ تو انہوں نے پہلے تو آؤٹ لیٹ پر موجود مرد ورکرز کو یہ کہا کہ آپ نے ان کے ساتھ بطور فیملی اور ٹیم کام کرنا ہے، سکھانے سے لے کر آگے کوئی بھی مسئلہ آیا تو اسے خوش اسلوبی سے حل کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ خواتین اپنے ورکرز کے ساتھ اعتماد سے کام کر رہی ہیں اور اگر کوئی مشکل پیش آئے تو یہاں ان کی رہنمائی کے لیے سپر وائزر مسلسل موجود ہوتے ہیں'۔

ان دونوں شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کے مطابق انہیں اس جگہ نہ صرف کھلے دل سے تسلیم کیا گیا بلکہ مرد ساتھیوں نے ان کی ہر ممکن کام میں مدد اور رہنمائی بھی کی۔ جس کی بدولت وہ اپنی صلاحتیوں کو اس ماحول میں زیادہ بہتر انداز سے ثابت کر پا رہی ہیں۔

ان شعبوں میں آنے والی یہ خواتین پہلی ضروری ہیں لیکن آخری نہیں۔ کیونکہ ان کے آنے سے دوسری خواتین کے لیے نہ صرف روزگار کے دروازے کھلیں گے بلکہ انہیں یہ ہمت بھی ملے گی کہ اگر وہ چاہیں تو کیا کچھ نہیں کرسکتیں۔ اس لیے صرف ایک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG