رسائی کے لنکس

فلسطینی خواتین 'عبرانی' زبان کیوں سیکھ رہی ہیں؟


فلسطینی خواتین 'عبرانی' زبان کیوں سیکھ رہی ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:36 0:00

مشرقی یروشلم کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی فلسطینیوں پر مشتمل ہے جو زیادہ تر عربی بولتے ہیں۔ لیکن اب یہاں کی کئی خواتین 'عبرانی' زبان سیکھنے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ ایسا کیوں ہے دیکھیے اس رپورٹ میں۔

ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس شہر یروشلم ایک مخلوط شہر ہے، جس کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی فلسطینی ہیں جو مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں اور عربی بولتے ہیں۔ لیکن مشرقی یروشلم کی کئی خواتین یہودیت کے پیروکاروں کی 'عبرانی' زبان سیکھنے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ دیکھیے اس رپورٹ میں۔

فلسطینی خواتین 'عبرانی' زبان کیوں سیکھنے لگیں؟
فلسطینی خواتین یہودیت کے پیروکاروں کی 'عبرانی' زبان کیوں سیکھنے لگیں؟
فلسطینی خواتین یہودیوں کی 'عبرانی' زبان کیوں سیکھنے لگیں؟
فلسطینی خواتین 'عبرانی' زبان سیکھنے لگیں


ORIGINAL INTRO
ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کے لئے مقدس شہر یروشلم ایک مخلوط شہر ہے ، اور اس کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی فلسطینی ہیں جو مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں۔اور عربی بولتے ہیں۔۔۔لیکن مشرقی یروشلم کی کئی خواتین عبرانی زبان سیکھنے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔۔۔جو کہ یہودیت کے پیروکاروں کی زبان ہے۔ اور ایک غیر منافع بخش اسرایئلی تنظیم ان عرب خواتین کو عبرانی سیکھنے میں مدد دے رہی ہے۔



ان میں سے اکثر شہریوں کے بجائے مستقل رہائشی ہیں ، اور ان کی مادری زبان عربی ہے ، عبرانی نہیں۔ لیکن مشرقی یروشلم کی بہت سی خواتین عبرانی زبان سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں اور ایک اسرائیلی غیر منافع بخش گروپ اس مطالبہ کو پورا کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ لنڈا گریڈسٹین مشرقی یروشلم سے رپورٹ کرتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG