رسائی کے لنکس

طالبان کے خلاف لڑنے والے 'سنگوریان' جنگجو کون ہیں؟


ظاہری وضع قطع اور طرزِ زندگی میں طالبان سے مماثلت رکھنے والی اس ملیشیا میں ایک اندازے کے مطابق 500 سے ایک ہزار کے لگ بھگ جنگجو ہیں۔

امریکہ کے افغانستان سے فوجی انخلا کے دوران طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ افغان صوبے ہلمند میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ 'سنگوریان' نامی ملیشیا کے جنگجو بھی طالبان کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

'سنگوریان' جنگجو گروپ کا زیادہ اثر و رسوخ ہلمند میں ہی ہے جہاں اُن کی طالبان کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہتا ہے۔

ظاہری وضع قطع اور طرزِ زندگی میں طالبان سے مماثلت رکھنے والی اس ملیشیا میں ایک اندازے کے مطابق 500 سے 1000 کے لگ بھگ جنگجو ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اس جنگجو گروہ کی بنیاد 2015 میں سیاست دان اور فوجی کمانڈر عبدالجبار قھہرمان نے رکھی تھی جو بعد ازاں 2018 میں طالبان کے ایک بم حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

عبدالجبار قھرمان (فائل فوٹو)
عبدالجبار قھرمان (فائل فوٹو)

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتداً اس گروپ کو خفیہ رکھا گیا اور اسے افغان خفیہ ایجنسیوں اور غیر ملکی فورسز نے تربیت دی تاکہ وہ طالبان کی صفوں میں گھس کر انہیں تقسیم اور کمزور کر سکیں۔

البتہ حالیہ لڑائی کے دوران گروپ کے جنگجو اب افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف صف آرا ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گروپ نے اپنا نام ترک ٹی وی سیریل 'سنگوریان' سے متاثر ہو کر رکھا۔ سیریل کی کہانی خفیہ اہل کاروں کے گرد گھومتی ہے جو مختلف خفیہ آپریشنز کرتے ہیں۔

تجزیہ کار سنگوریان کو طالبان کے لیے بڑا خطرہ نہیں سمجھتے۔
تجزیہ کار سنگوریان کو طالبان کے لیے بڑا خطرہ نہیں سمجھتے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 'سنگوریان' میں ایسے سابق طالبان جنگجو بھی شامل ہیں جو کسی وجہ سے طالبان قیادت سے ناراض ہو گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان انہیں سخت ناپسند کرتے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک 'جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن' کے مطابق اسی مخاصمت کی بنیاد پر طالبان 'سنگوریان' کے خلاف سخت پرتشدد کارروائیاں کرتے رہے ہیں اور اس ملیشیا کے کئی ارکان کو ہلاک بھی کر چکے ہیں۔

'سنگوریان' طالبان کے لیے بڑا خطرہ نہیں'

البتہ ماہرین 'سنگوریان' کو طالبان کے لیے زیادہ بڑا خطرہ نہیں سمجھتے۔

افغان اُمور کے ماہر بریگیڈیئر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ملیشیا صرف صوبہ ہلمند اور اس کے بھی دارالحکومت لشکر گاہ تک محدود ہے جب کہ طالبان کو اصل چیلنج شمال میں ازبک اور تاجک جنگجو گروہوں سے ہے۔ تاہم فی الحال وہاں بھی طالبان کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں۔

خیال رہے کہ نوے کی دہائی میں جب طالبان نے افغانستان کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا تو اس کے باوجود شمال میں مزار شریف اور ملحقہ علاقوں میں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں سرگرم شمالی اتحاد نے وہاں طالبان کو قدم نہیں جمانے دیے تھے۔

سنگوریان صوبہ ہلمند میں طالبان کے خلاف سرگرم ہیں۔
سنگوریان صوبہ ہلمند میں طالبان کے خلاف سرگرم ہیں۔

البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر طالبان کے خلاف فی الحال بڑے ملیشیا گروپ متحرک نہیں اور یہی وجہ ہے کہ طالبان تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

افغان اُمور کے تجزیہ کار سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ 'سنگوریان' کا وجود ایک محدود علاقے میں ہے اور یہ طالبان کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس ملیشیا گروپ کو افغان حکومت کی حمایت سے طالبان کے خلاف منظم کیا گیا۔

سمیع یوسف زئی کے بقول طالبان نے کافی حد تک اس گروپ کو کمزور کر دیا ہے۔ لہٰذا وہ نہیں سمجھتے کہ یہ گروپ زیادہ دیر تک طالبان کے سامنے کھڑا رہے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان جنگجو 20 برس سے امریکہ اور افغان فورسز کے خلاف سرگرم رہے ہیں۔ لہٰذا وہ طویل عرصے تک لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ 'سنگوریان' جیسے چھوٹے گروہ ان کے خلاف زیادہ مزاحمت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

لشکر گاہ کے دفاع کا عزم

'سنگوریان' ملیشیا میں شامل جنگجوؤں کا الزام ہے کہ اُن کے عزیز و اقارب مبینہ طور پر طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں اور وہ طالبان سے بدلہ لینے اور اپنے علاقے کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں۔

'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے ایک جنگجو عزت اللہ ماما نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ لڑائی کے دوران اُن کا بیٹا، بھائی اور تین کزن ہلاک ہوئے ہیں۔ لہٰذا وہ طالبان سے بدلہ لینے کے لیے آخری وقت تک لڑتے رہیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پانچ برس قبل طالبان نے لشکر گاہ پر حملہ کیا تھا جس سے اُن کے خاندان کے افراد کے علاوہ کئی مقامی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ لہٰذا طالبان کی تازہ پیش قدمی کے بعد اب وہ اس شہر کا بھرپور دفاع کریں گے۔

طالبان کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز اور اُن کے حامیوں کو نشانہ بناتے ہیں جب کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا کبھی بھی اُن کا ہدف نہیں رہا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنگجو دھڑے وقت اور حالات کے مطابق اپنا رُخ بدلتے رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ حلیف، حریف اور حریف، حلیف بنتے رہتے ہیں۔ لہذا سنگوریان کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG