رسائی کے لنکس

حکومتِ پاکستان نے گاڑیوں کی قیمتیں ڈیڑھ لاکھ روپے تک کم ہونے کا عندیہ دے دیا


فائل فوٹو

وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ ملک میں گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی۔ چھوٹی گاڑیاں ایک لاکھ روپے سستی ہو جائیں گی جب کہ ایک ہزار سی سی گاڑی کی قیمت ایک لاکھ 42 ہزار روپے تک کم ہو گی جب کہ اس کے علاوہ دیگر گاڑیوں کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔

خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پہلی بار گاڑی لینے والوں کے لیے پیشگی قیمت 20 فی صد کر دی گئی جب کہ آٹو پالیسی میں لوکلائزیشن پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔

موٹر ڈیلرز اور آٹو انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد نے حکومت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا تھا اس کا کم ہونا ضروری ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ حکومت نے گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی ہے۔ گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو طلب میں اضافہ ہو گا۔

سالانہ چار لاکھ 15 ہزار گاڑیاں بنانے کی استعداد

انہوں نے کہا کہ حکومت نے گاڑیوں پر ایف ای ڈی کے ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس میں بھی کمی کی ہے۔ حکومت کا ہدف تھا کہ اپنی صلاحیت بڑھائیں کیوں کہ اب معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور معیشت مثبت سمت میں جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آٹو سیکٹر کی صلاحیت چار لاکھ 15 ہزار گاڑیاں بنانے کی ہے۔اس سال کوشش ہے کہ تین لاکھ گاڑیاں بنائی جائیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آٹو انڈسٹری کو عالمی معیار کے مطابق بنائیں گے۔

سالانہ 30 لاکھ موٹر سائیکلیں بنانے کا ہدف

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں گزشتہ برس 26 لاکھ موٹر سائیکلیں بنائی گئی ہیں۔ آئندہ برس 30 لاکھ موٹرسائیکلیں بنائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ آٹو سیکٹر میں پونے چار لاکھ نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

گاڑیوں کی قیمتوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

’معیشت میں تیزی آئے گی‘

پاکستان میں قیمتوں میں کمی کے معاملے پر گاڑیوں کے حوالے سے کام کرنے والی ویب سائٹ ’پاک ویلز‘ کے سربراہ سنیل سرفراز منج نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے معیشت میں تیزی آئے گی۔

سنیل سرفراز منج کا کہنا تھا کہ ان مراعات کے اعلان کے بعد گاڑیوں کی پیداوار اور اسے خریدنے والے دونوں خوش ہیں۔ کیوں کہ مینوفیکچررز کے لیے بھی بعض مراعات کا اعلان کیا گیا اور ان کے لیے امپورٹ ہونے والے بعض آلات میں ڈیوٹی کم کی گئی ہے جو اس صنعت کے لیے اچھا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے دی جانے والی مراعات کے بارے میں سنیل سرفراز منج نے کہا کہ حکومت نے دو قسم کی مراعات دی ہیں۔ ان میں سے ایک پاکستان میں جو بھی نئی گاڑی بنانا چاہتا ہے اسے صرف ایک فی صد جی ایس ٹی اور کسٹم ڈیوٹی پر گاڑی بنانے کی اجازت ہو گی۔ اگر مینوفکچررز الیکٹرک گاڑیاں بنانے پر جاتے ہیں تو انہیں بہت سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں میں وولٹیج کے مطابق گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنی چاہیے تھی۔ اب 70 کلو واٹ کی گاڑی پر 50 لاکھ روپے ڈیوٹی کم ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کے مقابلے میں کم وولٹیج کی عام گاڑیوں پر ڈیوٹی مزید کم کی جاتی تو اس سے عام لوگوں کو فائدہ ہوتا۔ اشرافیہ کی گاڑیوں کی قیمت میں کمی ہونے یا نہ ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

’خریدار کو گاڑی دینے میں تاخیر پر جرمانہ ہو گا‘

پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں گاڑیوں کی لیز کا طریقہ آسان کیا جائے گا۔ یہ سیکٹر ساڑھے تین سو ارب روپے ٹیکس دیتا ہے جو شخص گاڑی خریدنا چاہتا ہے گاڑی اسی کے نام پر رجسٹرڈ ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مینوفیکچررز گاڑی دینے میں تاخیر کرے گا تو اس پر جرمانہ ہو گا

گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 24-2023 تک گاڑیوں کی پیداوار کا پانچ لاکھ تک لے جانے کا ہدف ہے۔

پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کے معیار پر سوالات

پاکستان میں گاڑیوں کی قیمت خطے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر حکومت نے قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ نئی کمپنیوں کو بھی ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔

گاڑیوں کی انشورنس کے کاروبار سے منسلک اویس سلیم کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں سے الیکٹرک گاڑیوں پر خریداروں کی آنے والے وقت میں توجہ بڑھے گی اور ماحولیات کے لیے بہتر گاڑیاں مارکیٹ میں آئیں گی۔

اویس سلیم نے کہا کہ پاکستان میں چھوٹی گاڑیوں کی قیمت تو کم کی گئی ہے لیکن ان کا معیار ابھی بھی بیرون ملک سے آنے والی گاڑیوں کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل کیا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:55 0:00

پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے فیچرز جاپان میں بننے والی گاڑیوں سے بہت زیادہ کم ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں گاڑیاں کم قیمت میں تو دستیاب ہوں گی البتہ غیر معیاری ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ان کی مارکیٹ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ قیمتیں کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار پر بھی توجہ دی جائے۔

اویس سلیم کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر حکومتی فیصلے بہتر ہیں جن سے مارکیٹ میں تیزی آئے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG