رسائی کے لنکس

کابل میں آخری ڈرون حملہ: امریکہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرے گا


پینٹاگون کے مطابق وزارتِ دفاع اس حملے میں بچ جانے والے افراد کی امریکہ منتقلی کے لیے وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان کی جانب سے معاوضے کے طور پر دی جانے والی رقم کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی وزارتِ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ ان 10 افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے پر عزم ہے جو رواں برس اگست میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکہ کے ڈرون حملے میں غلطی سے مارے گئے تھے۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا جمعے کو جاری کردہ بیان میں کہنا تھا کہ وزارتِ دفاع اس حملے میں بچ جانے والے افراد کی امریکہ منتقلی کے لیے وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ رواں ہفتے جمعرات کو وزارتِ دفاع کے انڈر سیکریٹری برائے پالیسی ڈاکٹر کولن کاہل اور غیر منافع بخش تنظیم کے صدر ڈاکٹر اسٹیون کون کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران اٹھایا گیا۔

جان کربی کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر کاہل نے امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کو ان خاندانوں کی مدد کرنے کا اعادہ ظاہر کیا جس میں ان خاندانوں کو دیا جانے والا معاوضہ بھی شامل ہے۔

تاہم جان کربی کی طرف سے معاوضے کے طور پر دی جانے والی رقم کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

خیال رہے کہ 29 اگست کو امریکہ کے ڈورن حملے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کار کو زمیری احمدی چلا رہے تھے۔ انہوں اس کار کو اپنے کمپاؤنڈ میں کھڑا کیا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے میں احمدی کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سات بچے بھی شامل تھے۔

تاہم کچھ ہفتوں بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مکینزی نے اس حملے کو ‘سنگین غلطی’ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حملے میں معصوم شہری ہلاک ہوئے۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران بتایا گیا کہ احمدی ‘این ای آئی’ کے لیے کئی برس سے کام کر رہے تھے اور وہ افغانستان میں اموات کی بلند شرح کا سامنا کرنے والے لوگوں کی دیکھ بھال اور ان کی جان بچانے میں مدد فراہم کرتے تھے۔

اس حملے کے کچھ دن بعد امریکہ کی فوج کے اعلیٰ ترین افسر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے بھی اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا تھا۔

جنرل ملی کا رواں ماہ یکم ستمبر کو پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ انہیں دیگر ذرائع سے بھی یہ معلوم ہوا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے کم از کم ایک فرد داعش کا سہولت کار تھا۔

ان کے بقول اس ضمن میں درست طریقۂ کار اپنایا گیا تھا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے دعوؤں کے بعد مختلف خبریں سامنے آئی تھیں کہ امریکہ کی فوج کے ڈرون حملے میں داعش خراسان کے سہولت کار کے بجائے ازمرائی احمدی نامی امدادی رضاکار کو ہلاک کیا گیا ہے جو کہ امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم کے امدادی کارکن تھے اور جنہوں نے امریکہ منتقل ہونے کے لیے درخواست بھی دے رکھی تھی۔

امریکی اخبارات ‘نیو یارک ٹائمز’ اور ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی تحقیقات نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک پیدا کر دیے تھے۔

امریکی اخبارات ‘نیو یارک ٹائمز’ اور ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی تحقیقات نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک پیدا کر دیے تھے۔ (فائل فوٹو)
امریکی اخبارات ‘نیو یارک ٹائمز’ اور ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی تحقیقات نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک پیدا کر دیے تھے۔ (فائل فوٹو)

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کی ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کرنے کے بعد رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ کی فوج نے ممکنہ طور پر دیکھا ہو گا کہ ازمرائی احمدی اور ان کے ساتھی گاڑی میں کنستر یا گیلن رکھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ گیلن پانی سے بھرے ہوئے تھے کیوں کہ کابل کے جس علاقے میں ان کا گھر تھا، وہاں پانی کی قلت ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق اس کے علاوہ امریکہ کی فوج نے دیکھا ہو گا کہ ان کے پاس لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی ہیں۔

خیال رہے کہ اس ڈرون حملے سے قبل کابل ایئر پورٹ کے ایک دروازے پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں 169 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ جس کی ذمہ داری داعش کی ذیلی تنظیم نے قبول کی تھی۔

گزشتہ ماہ جنرل مکینزی کا کہنا تھا کہ امریکہ ڈرون حملے کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

اس خبر کے لیے معلومات امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG