رسائی کے لنکس

یمن کے لیے ناکافی امداد کے باعث لاکھوں لوگ غذا سے محروم رہ جائیں گے، عالمی ادارہ خوراک


یمن میں ایک رضاکار غذائی قلت کی شکار ایک بچی کا معائنہ کر رہی ہے (فائل فوٹو)

امریکہ اور یورپی یونین نے یمن کے لئے مزید 600 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وجہ سے یمن میں لاکھوں لوگ غذا سے محروم رہ جائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے یمن کے لئے مزید 290 ملین ڈالرز کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کا مستقل حل صرف جنگ بندی ہے، جب کہ اقوام متحدہ نے یمن کو بدترین انسانی المیہ قرار دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے اقوام متحدہ کی ایک تقریب میں امداد کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ، "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی امداد یقیناً مددگار ہوتی ہے، مگر یہ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔"

بلنکن نے یمن پر مہلک فضائی حملے کرنے والے سعودی عرب کے ساتھ حوثی باغیوں اور یمنی حکومت سے کہا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی ممکن بنائیں، تاکہ یمنی عوام تک اشیائے ضرورت پہنچتی رہیں۔

یورپی یونین نے بھی یمن امدادی فنڈ میں 139 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

غربت کے خاتمے کے عالمی ادارے، اوکسفیم کے مطابق یمن کے لئے اس تقریب میں 600 ملین ڈالرز کی امداد کے وعدے کئے گئے ہیں، حالانکہ اقوام متحدہ نے 3.9 ارب ڈالرز کی اپیل کی تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس فنڈ میں ابھی مزید ایک ارب ڈالرز درکار ہیں۔

عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈیوڈ بیسلی کے مطابق یمن کی لگ بھگ آدھی آبادی جو 12 کروڑ 90 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اس کا بیرونی امداد پر انحصار ہے۔

ادارے کے مطابق، امداد میں کمی کی وجہ سے انہیں اگلے ماہ 32 لاکھ افراد کا راشن بند کرنا پڑے گا اور دسمبر تک مزید لوگ راشن سے محروم ہوجائیں گے۔

گو کہ بیرونی دنیا سے آنے والی امداد یمن میں غذائی قلت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، مگر ملک میں اب بھی ہر دس منٹ میں ایک بچہ ایسی وجوہات کی وجہ سے ہلاک ہو جاتا ہے جنہیں روکا جا سکتا تھا۔

ڈیوڈ بیسلی نے خبردار کیا کہ اگر اگلے چھ ماہ میں انہیں یمن کے لئے آٹھ سو ملین ڈالرز کی رقم نہ ملی تو اگلے سال میں پانچ سال کی عمر سے کم چار لاکھ بچوں کے ہلاک ہو جانے کا خدشہ ہے۔

بیسلی نے اس موقعے پر کہا کہ، "کیا ہوتا اگر یہ آپ کی بیٹی یا بیٹا ہوتا؟ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور ان کی مدد کریں".

بیسلی نے یمن میں حوثی باغیوں، سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت اور یہاں جنگ میں شامل سعودی اتحادیوں کے درمیان جنگ بندی پر زور دیا۔

بیسلی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ، "اگر امداد دینے والے تھک چکے ہیں تو پھر جنگ ختم کرائیں".

XS
SM
MD
LG