رسائی کے لنکس

امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں فوج اور جنگی ساز و سامان میں کمی کی منصوبہ بندی


ہر اینٹی میزائل بیٹری کو چلانے کے لیے سینکڑوں فوجی و سول اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

پینٹاگون نے امریکہ کے اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطی سے میں فوجی اہلکاروں کی تعداد کم کرے گا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکہ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر جو بائیڈن ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں۔ 2019 میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے دوران خطے میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اسی طرح جنگی ساز و سامان میں اینٹی میزائل پیٹریاٹ بیٹریز کو عراق، کویت، اردن اور سعودی عرب سے منتقل کیا جا رہا ہے۔ جب کہ سعودی عرب سے تھاڈ نامی اینٹی میزائل سسٹم بھی کہیں اور منتقل کیا جائے گا۔

ہر اینٹی میزائل بیٹری کو چلانے کے لیے کئی فوجی و سول حکام اور اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ترجمان پینٹاگون کمانڈر جیسیکا میک نیلٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ فوجی یونٹ دوسرے ممالک میں تعینات کیے جا رہے ہیں جب کہ دیگر فوجی یونٹس انتظامی معاملات کی بنیاد پر امریکہ واپس لائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ کن ممالک میں یہ فوجی یونٹس بھیجے جائیں گے۔

انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو ایک ای میل میں آگاہ کیا کہ یہ فیصلہ ان میزبان ممالک سے مشاورت اور اس بات کی مکمل یقینی بنانے کے بعد کیا گیا ہے کہ امریکہ اپنے دفاعی معاہدوں پر مکمل طور پر عمل کرنے کے قابل رہے۔

ان کے مطابق کسی بھی خطرے کے سامنے امریکہ کی طاقت خطے میں قائم رہے گی اور ان تبدیلیوں کا امریکی قومی سلامتی مفادات پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

کمانڈر جیسیکا میک نلٹی کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع کی حکم پر اب بھی مشرقِ وسطی میں ہزاروں فوجی تعینات ہیں جن کے ساتھ امریکہ کا جدید ہوائی اور بحری جنگی ساز و سامان موجود ہے تاکہ خطے میں شراکت داروں کے ساتھ امریکی قومی مفادات کی حفاظت ممکن بنائی جائے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی فوج افغانستان سے نکلنے کے عمل کے دوران دنیا بھر میں اپنی موجودگی کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں اور ایشیا پیسفک میں چین کے خطرے کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

پینٹاگون نے گزشتہ برس عراق کی فوج کے داعش کے خلاف لڑائی میں معاونت کرنے والی امریکی فوج میں 2500 اہلکاروں تک کی کمی کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ مشرقِ وسطی میں ایران کو اب بھی سب سے بڑا خطرہ گردانتا ہے لیکن بائیڈن انتظامیہ تہران کو اس کے ایٹمی پروگرام سے روکنے اور معاہدے میں واپسی کے لیے مذاکرات میں مصروف ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG