رسائی کے لنکس

امریکہ کے عراق اور شام میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف فضائی کارروائی


فائل فوٹو

امریکہ نے اتوار کو عراق اور شام میں ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف ایک اور فضائی کارروائی کی ہے۔

یہ کارروائی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کی طرف سے عراق میں امریکی فوج کے اہلکاروں اور تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے دو اور عراق کے ایک ٹھکانے پر واقع آپریشنل اور اسلحے کے ذخیروں کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا آیا ان فضائی حملوں میں کوئی ہلاک یا زخمی ہوا۔ تاہم عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کا پتا لگایا جا رہا ہے۔

یہ فضائی حملے صدر جو بائیڈن کے احکامات کو بجا لاتے ہوئے کیے گئے۔

پانچ ماہ قبل عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر بائیڈن کی ہدایات پر ایرانی حمایت یافتہ ملشیا کے خلاف یہ دوسرا فضائی حملہ کیا گیا ہے۔

بائیڈن نے پچھلی بار رواں سال فروری میں عراق میں کیے جانے والے راکٹ حملوں کے جواب میں شام میں محدود فضائی حملوں کے احکامات دیے تھے۔

پینٹگان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں کی گئی فضائی کارروائیوں سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے صدر بائیڈن امریکی فوج کے اہلکاروں کے تحفظ کے معاملے پر ایک واضح پالیسی رکھتے ہیں۔

پینٹگان نے کہا کہ ہدف بنائی گئی تنصیبات ایران کی حمایت یافتہ سرگرم میلشیاؤں کے زیر استعمال تھیں، جن میں کتائب حزب اللہ اور کتائب سید الشہدا شامل ہیں۔

شام میں کی جانے والے کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب بائیڈن انتظامیہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ طور پر سن 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے کی بحالی کے لئے بات چیت کے ایک سے زائد ادوار ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG