رسائی کے لنکس

افغانستان میں امریکی فوج کی مدد کرنے والوں کی امریکہ منتقلی کے عمل میں تیزی


افغان مترجم کابل میں امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ 30 اپریل 2021

امریکہ ان ہزاروں افغان باشندوں کو امریکہ میں لا کر آباد کرنے کے پروگرام میں تیزی لا رہا ہے جنہوں نے گزشتہ تقریباً 20 سال کے عرصے میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی فورسز کی مدد کی ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار نےجمعرات کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ افغانستان میں امریکی فورسز کی مدد کرنے والے افغان مترجموں اور دوسری حیثیت میں کام کرنے والے افغان باشندوں کی امریکہ منتقلی کے کام میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے۔

امریکی فورسز کی مدد کرنے والوں کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد کو بھی امریکہ منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ایک امریکی فوجی ہلمند میں ایک افغان مترجم کے ساتھ گشت کر رہا ہے۔ فائل فوٹو
ایک امریکی فوجی ہلمند میں ایک افغان مترجم کے ساتھ گشت کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے اس سلسلے میں قانون سازوں کی بریفنگ شروع کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر طرح کی صورت حال کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں اور تمام امکانات کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم اضافی نقل مکانی اور انخلا کے آپشنز پر بھی غور کریں گے۔

وائٹ ہاؤس امریکی فورسز کی مدد کرنے والے افغان باشندوں کی امریکہ منتقلی کے پروگرام میں ایک ایسے موقع پر تیزی لا رہا ہے جب افغانستان کے صدر اشرف غنی اپنے اعلیٰ عہدے داروں کے ہمراہ جمعے کے روز افغانستان کی صورت حال پر صدر بائیڈن سے ملاقات کر رہے ہیں۔

افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا سے ساتھ ہی طالبان کےحملوں میں تیزی آئی ہے اور افغان فورسز کئی اضلاع سے نکل گئی ہیں۔
افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا سے ساتھ ہی طالبان کےحملوں میں تیزی آئی ہے اور افغان فورسز کئی اضلاع سے نکل گئی ہیں۔

صدر بائیڈن نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ امریکہ پر دہشت گرد حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پرافغانستان سے اپنی تمام فورسز واپس بلا لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکہ کا مشن مکمل ہو چکا ہے۔ امریکہ پر حملہ کرنے والا اسامہ بن لادن مارا جا چکا ہے اور افغانستان میں اس کے دہشت گرد گروپ القاعدہ کو تتربتر کر دیا گیا ہے۔

امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے افغان مترجموں اور دوسرے شعبوں کے افراد نے انہیں اور ان کے خاندانوں کو امریکہ منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فورسز کے جانے کے بعد وہ طالبان کے رحم و کرم پر ہوں گے اور ان کی جان خطرے میں ہو گی۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج اپنا انخلا جاری رکھے ہوئے ہیں، طالبان اپنی لڑائیوں میں شدت لے آئے ہیں اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران 50 کے لگ بھگ اضلاع پر قابض ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG