رسائی کے لنکس

روہنگیا آبادی سے متعلق اقوام متحدہ میں مذمتی قرارداد منظور


فائل فوٹو

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو ایک قرارداد منظور کی ہے۔ جس میں میانمار کی روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، تشدد، ریپ اور سزائے موت دیے جانے کے واقعات کی مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی 193 ممالک پر مشتمل باڈی نے نو کے مقابلے میں 134 اراکین کی حمایت سے مذکورہ قرارداد منظور کی۔ قرارداد میں میانمار کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ریاستوں راکھائن، کاچھن اور شان میں مظالم بند کرائے۔

قرارداد میں روہنگیا آبادی کی بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش ہجرت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ گزشتہ 40 سالوں کے دوران لگ بھگ 11 لاکھ روہنگیا افراد بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔ جن میں 7 لاکھ 44 ہزار نے 2017 کی فوجی کارروائی کے بعد ہجرت کی۔

اقوام متحدہ میں میانمار کے نمائندے ہاؤ دو سوان نے قرارداد کی منظوری کو دوہرا معیار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد کسی کو ہدف بنا کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے مترادف ہے۔ اور یہ میانمار پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی ہے۔

بدھ مت کے ماننے والوں کے اکثریتی ملک میانمار کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ روہنگیا مسلمان بنگالی ہیں جو بنگلہ دیش سے یہاں آئے۔ البتہ ان کے خاندان عرصہ دراز سے یہاں آباد ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کثرت رائے سے قرارداد منظور کی گئی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کثرت رائے سے قرارداد منظور کی گئی۔

میانمار نے 1982 سے ان افراد کو شہریت دینے کا سلسلہ ترک کر دیا تھا۔ جس کے بعد نقل و حمل میں مشکلات کے علاوہ یہ دیگر بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔

یہ مسئلہ 25 اگست 2017 کو شدت اختیار کر گیا تھا۔ جب میانمار کی افواج نے روہنگیا باغیوں کے حملوں کے جواب میں راکھائن میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر مظالم ڈھائے گئے۔ ریپ کے علاوہ متعدد افراد کو ہلاک جبکہ کئی گھر بھی جلائے گئے۔ اس دوران لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی جانب دھکیل دیا گیا۔

میانمار کے نمائندے کا کہنا تھا کہ قرارداد میں اس پیچیدہ مسئلے کا حل تجویز کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اور نہ ہی میانمار حکومت کی اس ضمن میں کاوشوں کو سراہا گیا۔

ہاؤ دو سوان نے کہا کہ اس قرارداد سے خطے میں بداعتمادی کے بیج بو دیے گئے ہیں۔

جنرل اسمبلی نے عالمی ادارے کے فیکٹ فائنڈنگ مشن رپورٹ کو بھی قرارداد کا حصہ بنایا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کے منافی اقدامات کیے گئے۔ مشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے بلاشبہ یہ اقدامات عالمی قوانین کے تحت جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

قرارداد میں میانمار کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نہتے لوگوں کے خلاف جرائم فوری طور پر بند کرائے۔ ان علاقوں میں لڑائی کے خاتمے اور لوگوں کے تحفظ کا بھی کہا گیا ہے۔

جنرل اسمبلی کی قرارداد میں روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف رائج بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قوانین ختم کرنے اور انہیں زندگی بسر کرنے کے لیے مناسب اور باعزت ماحول فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں پناہ گزین روہنگیا مسلمان دو مرتبہ عدم تحفظ کے پیش نظر واپس میانمار جانے سے انکار کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG