رسائی کے لنکس

یورو 2020 کا تاج کس کے سر سجے گا؟ ٹورنامنٹ فیصلہ کن مرحلے میں داخل


برطانیہ کی یوکرین کے خلاف کامیابی پر مداح لندن میں جشن منا رہے ہیں۔

براعظم یورپ کی بہترین فٹ بال ٹیم کون سی ہے اس کا فیصلہ ہونے میں اب صرف تین میچ باقی ہیں۔ لیکن جہاں جہاں بڑی بڑی ٹیموں کو ایونٹ میں شکست ہوئی وہیں سیمی فائنل میں جگہ بنانے والی چاروں ٹیمیں آگے بڑھنے کے لیے پر امید ہیں۔

ایونٹ کا پہلا سیمی فائنل پاکستانی وقت کے مطابق بدھ سات جولائی کو رات 12 بجے اٹلی اور اسپین کے درمیان ہو گا جب کہ دوسرا سیمی فائنل جمعرات آٹھ جولائی کو رات 12 بجے انگلینڈ اور ڈنمارک کے درمیان کھیلا جائے گا۔

ایونٹ کے آخری تینوں میچز جس میں فائنل بھی شامل ہے۔ انگلینڈ کے شہر لندن کے ویمبلی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

دیگر ٹیموں کے مقابلے میں انگلش فٹ بال ٹیم کو دوسروں پر ایک برتری حاصل رہی، اس نے کوارٹر فائنل کے علاوہ باقی تمام میچز ہوم گراؤنڈ پر اور ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیلے۔

اٹلی بمقابلہ اسپین، کس میں کتنا ہے دم؟

ایونٹ کا پہلا سیمی فائنل اٹلی اور اسپین کے درمیان ہو گا جس میں چار مرتبہ سیمی فائنل کے لیے کوالی فائی کرنے والی ہسپانوی ٹیم کا مقابلہ اطالوی ٹیم کے ساتھ ہو گا۔

ایک طرف ہسپانوی ٹیم جس نے جب بھی لاسٹ فور میں جگہ بنائی اسے کامیابی ہوئی چار مرتبہ فائنل کھیلنے والی اس ٹیم نے تین مرتبہ ٹرافی اپنے نام کی۔ پہلی کامیابی اسے 1964، دوسری 2008 ور تیسری 2012 میں حاصل ہو ئی جب کہ اسے گرینڈ فینالے میں واحد ناکامی 1984 میں ہوئی۔

دوسری جانب ہے اطالوی ٹیم جس نے ٹورنامنٹ کا فائنل تو تین مرتبہ کھیلا، لیکن سیمی فائنل میں پانچ بار جگہ بنائی۔ اس نے پہلی بار یہ ایونٹ 1968 میں جیتا جب کہ 1980 اور 1988 میں اس نے سیمی فائنل کے لیے کوالی فائی کیا۔ لیکن 2000 اور 2012 میں فائنل کھیلنے کے باوجود اس کی ٹرافی کی تعداد ایک ہی رہی۔

پانچ دہائیوں سے اٹلی کے فٹ بالرز کو ٹرافی چھونے کی تمنا ہے، 2012 میں اٹلی اور اسپین کی ٹیمیں ایونٹ کے فائنل میں پہنچی تھیں جس میں اسپین نے اٹلی کو چار صفر سے زیر کیا تھا۔

دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ پہلی اور ڈنمارک دوسری مرتبہ فائنل میں پہنچنے کی کوشش کرے گا۔

دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو ہوم ایڈوانٹیج تو ہو گا۔ لیکن ڈنمارک کے پاس فائنل کھیلنے اور جیتنے کا تجربہ ہے جو انگلش ٹیم کے پاس نہیں۔

سن 1992 کی فاتح ڈینش ٹیم نے 1964 اور 1984 میں ایونٹ کا سیمی فائنل کھیلا جب کہ انگلینڈ نے یہاں تک رسائی 1968 اور 1996 میں حاصل کی۔

اگر ڈنمارک کی ٹیم فاتح ہوئی تو 1992 کے بعد پہلا اور اگر انگلش ٹیم نے لاسٹ فور معرکہ جیتا تو یوئیفا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فائنل میں جگہ بنائے گی۔

چاروں ٹیموں کی سیمی فائنل تک کے سفر پر ایک نظر!

فٹ بال کے میدان میں اٹلی کی مہارت دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آج تک یورو کپ کا تاج اس ٹیم پر صرف ایک بار سجا۔

اس بار بھی اٹلی کی ٹیم نے گروپ اے میں تینوں میچز جیت کر پہلی پوزیشن حاصل کی جس میں ترکی کے خلاف تین صفر، سوئٹزر لینڈ کے خلاف تین صفر اور ویلز کے خلاف ایک صفر سے کامیابیاں شامل تھیں۔

پری کوارٹر فائنل میں اس نے آسٹریا کو دو ایک سے زیر کیا اور کوارٹر فائنل میں عالمی نمبر ایک بیلجیم کو دو ایک سے شکست دی۔

دوسری جانب ٹیم نے نہ تو اپنے گروپ میں ٹاپ کیا نہ ہی اس نے سارے میچز جیتے، لیکن پھر بھی سیمی فائنل میں جگہ بنالی۔

سوئیڈن سے اس کا میچ بغیر کسی گول کے ختم ہوا، پولینڈ کے خلاف اس نے اگر ایک گول اسکور کیا تو اس کے خلاف بھی ایک گول اسکور ہوا جب کہ اسے واحد کامیابی سلواکیہ کے خلاف پانچ صفر سے حاصل ہوئی جس میں دو اون گول بھی شامل تھے۔

پری کوارٹر فائنل میں اسپین نے کروشیا کو اضافی وقت میں تین کے مقابلے میں پانچ گول سے ہرایا جب کہ کوارٹر فائنل میں اسے سوئٹزر لینڈ کے خلاف فتح پنلٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے ملی۔

ڈنمارک نے اپنے پہلے گروپ میچ میں فن لینڈ کو ایک صفر سے شکست دی جب کہ عالمی نمبر ایک بیلجیم سے دوسرا میچ دو ایک سے ہار گئے۔ تیسرے اور آخری گروپ میچ میں ڈنمارک نے روس کو ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر گروپ بی کے پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔

پری کوارٹر فائنل میں ڈنمارک نے ویلز کو چار صفر سے ہرا کر کامیابی حاصل کی جس کے بعد کوارٹر فائنل میں چیک ری پبلک کو دو ایک سے زیر کر کے لاسٹ فور میں جگہ بنائی۔

ادھر انگلینڈ نے اپنے پہلے گروپ میچ میں کروشیا کو ایک صفر سے شکست دی، اسکاٹ لینڈ سے اس کا میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا جب کہ چیک ری پبلک کو اس نے ایک صفر سے ہرا کر گروپ ڈی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

پری کوارٹر فائنل میں انگلینڈ نے فیورٹ جرمنی کو دو صفر اور کوارٹر فائنل میں یوکرین کو چار صفر سے زیر کر کے سیمی فائنل کے لیے کوالی فائی کیا۔

ایونٹ کے ٹاپ اسکورر، اب ایونٹ کا حصہ نہیں!

پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو ہوں اور چیک ری پبلک کے پیٹرک شیک، بیلجیم کے رومیلو لوکاکو ہوں، فرانس کے کریم بینزیما یا سوئیڈن کے ایمل فورسبرگ، ایونٹ کے ٹاپ فائیو اسکوررز میں سے کوئی بھی اس وقت لاسٹ فور کا حصہ نہیں۔

اگر کسی کے پاس ٹاپ اسکورر بننے کا سنہری موقع ہے تو وہ ہیں تین گول اسکور کرنے والے ڈنمارک کے کیسپر ڈولبرگ، انگلینڈ کے ہیری کین اور رحیم اسٹرلنگ۔ چار اور پانچ گول اسکور کرنے والے کھلاڑی یا تو اپنے گھر کو روانہ ہو چکے ہیں، یا روانہ ہونے والے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG