رسائی کے لنکس

کوئٹہ: خواتین کی 'نازیبا' ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کے الزام میں دو افراد گرفتار


پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے ایک گروہ کے سرغنہ سمیت دو افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرتے رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان لڑکیوں کو پہلے نوکری کا جھانسہ دیتے اور بعد میں نشہ آور دوا دے کر ان کی نازیبا ویڈیوز بناتے تھے۔ بعدازاں اُنہیں ریپ اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

ملزمان پر کوئٹہ سے دو لڑکیوں کو اغوا کرنے کا بھی الزام ہے پولیس نے گروہ کے مزید ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

کوئٹہ میں قائد آباد پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے رواں ماہ تین دسمبر کو کوئٹہ کے علاقے مری آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا۔

پولیس نے کارروائی کے دوران مبینہ طور پر لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے اور انہیں بلیک میل کرنے والے گروہ کے سرغنہ ہدایت اللہ خلجی اور ان کے بھائی کو گرفتار کیا اور موقع سے ملزمان سے بڑی تعداد میں نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی جب کہ ملزم کا لیپ ٹاپ، موبائلز اور مختلف ڈیوائسز بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔

نازیبا ویڈیوز بنانے والے گروہ کے خلاف شکایت کس نے کی؟

پولیس کے مطابق تین دسمبر کو فوزیہ بی بی نامی ایک خاتون قائد آباد تھانے میں ملزمان کے خلاف شکایت درج کرانے آئی ان کی شکایت پر پولیس نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔

قائد آباد تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق کوئٹہ کے علاقے اے ون سٹی مری آباد کی رہائشی فوزیہ بی بی نے بتایا کہ ہدایت اللہ خلجی اور ان کے چھوٹے بھائی خلیل خلجی نامی ملزمان تقریباً دو برس سے اُن کی بیٹیوں کو بلیک میل کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ملزمان دونوں لڑکیوں کو برہنہ کر کے ان کی ویڈیوز بناتے رہے اور یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دے کر ان سے زبردستی عصمت فروشی کروانے میں ملوث ہیں۔

فوزیہ بی بی نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملزم ہدایت اللہ خلجی نے پانچ روز قبل ان کی دنوں بیٹیوں کو اغوا کیا اور گزشتہ روز ان کی برہنہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں۔

انہوں نے ملزمان کی جانب سے وائرل کی گئی ویڈیوز کی کاپی شدہ ایک یو ایس بی بطور ثبوت پولیس کے حوالے کی ہے۔

قائد آباد پولیس نے ملزمان کے خلاف ضابطہ فوج داری کی دفعات 506، 354 اور 365 دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

دفعہ 506 کسی شخص کو قتل کرنے کی دھمکی دینے، دفعہ 354 کسی خاتون کی بے حرمتی کرنے اور دفعہ 365 کسی کو اغوا کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں نے خواتین کی نازیبا ویڈیوز کو وائرل کرنے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر بلیک میل کرنے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

بلوچستان میں انسانی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم رکن حمیدہ نور کے بقول بلوچستان میں خواتین کو اس طرح ہراساں کرنے اور ان کی ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہم نے دیکھا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں بھی ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا جس میں خواتین کی کئی ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔ اتنا زیادہ پریشر ہونے کے باوجود کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوئی صرف چھوٹے ملازمین کو برطرف کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کے کوئی نتائج سامنے نہیں آئے جس کی وجہ سے ایسے مافیا کو اپنا یہ مکروہ کام جاری رکھنے کے لیے حوصلہ ملا۔

خیال رہے کہ 2019 میں بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے ذریعے طالبات کی ویڈیوز بنا کر اُنہیں ہراساں کرنے کا اسکینڈل کا سامنے آیا تھا جس کا نوٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی لیا تھا۔

'گرفتار ہونے والے افراد صرف مہرے ہیں'

حمیدہ نور کے مطابق ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی بڑھ رہی ہے جس کہ وجہ سے لڑکیاں اپنے ماں باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے گھروں سے کام کرنے کے لیے نکلتی ہیں مگر لوگ ان کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہیں کہ بعض ایسی جعلی تنظیمیں کوئٹہ میں موجود ہیں جو جعلی آسامیوں کو اعلان کرتے ہیں اور لڑکیوں کو انٹرویوز کے لیے اپنے آفس بلاتے ہیں اور وہاں انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔

حمیدہ نور نے کہا کہ جو ملزمان اس کیس میں گرفتار ہوئے ہیں وہ صرف مہرے ہیں اس کے پیچھے بڑے بڑے لوگ اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں ان کی خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

'پولیس پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں'

ادھر ڈی آئی جی کوئٹہ فدا حسن شاہ کا کہنا ہے ویڈیو اسکینڈل کیس میں پولیس پر کسی قسم کا کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے، واقعے میں ملوث دو ملزمان گرفتار ہیں جب کہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

جمعرات کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کی شکایت پر ملزم ہدایت اللہ خلجی اور خلیل خلجی کو قائد آباد تھانے کی پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر اغوا ہونے والی لڑکیوں کی لوکیشن افغانستان کے شہر کابل میں ٹریس ہوئی ہے جن کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پولیس ویڈیو اسکینڈل میں ملوث تیسرے ملزم شانی خلجی کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہےجو گرفتار ملزمان کا کزن ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG