رسائی کے لنکس

ترکی کی مریخ جیسی جھیل: 'سالدا کو اپنی شہرت سے خطرہ ہے'


ترکی کی سالدا جھیل اپنے سفید جزیرے کی وجہ سے مشہور ہے۔

ترکی میں مریخ کے ماحول سے مماثلت رکھنے والی ’سالدا‘ جھیل کی شہرت اس کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

اس جھیل سے متعلق رواں برس مارچ میں امریکی خلائی ادارے (ناسا) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی کے شمال مغربی جزیرے کی 'سالدا' جھیل کے پتھر اور معدنیات مریخ کے علاقے جزیرہ ’کریٹر سے مماثلت رکھتے ہیں۔

سیارے مریخ کی سطح پر ناسا کا تحقیقی روبوٹ 'پرسیورینس' نمونے اکٹھے کرنے کے لیے اترا تھا۔ روبوٹ نے مریخ کے علاقے جزیرہ 'کریٹر' سے جو نمونے جمع کیے تھے ان کی بنیاد پر خیال کیا جا رہا ہے کہ کسی زمانے میں وہاں پانی موجود تھا۔

ناسا کے روبوٹ کی بھیجی گئی تصاویر اور معلومات کے بعد 'سالدا' جھیل کا مریخ کے ماحول سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ناسا کی ’جیٹ پرپلشن' لیبارٹری نے 'سالدا' جھیل کی تصاویر پوسٹ کر کے یہ تبصرہ کیا کہ یہ اربوں سال پہلے کے ’آبی‘ مارس سے مماثلت رکھتی ہے۔

ناسا کی جھیل سے متعلق آبزرویشن ایسے موقع پر سامنے آئی تھی جب ترک صدر رجب طیب ایردوان کے 'نیشنل گارڈن' منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے جس کا اعلان 2018 میں کیا گیا تھا۔

ترک صدر کے مذکورہ منصوبے میں سالدا جھیل بھی شامل ہے جس کے 16 اعشاریہ نو مربع میل کے علاقے کو عوامی استعمال کے لیے سرسبز بنانے پر کام جاری ہے۔

سالدا جھیل سے متعلق ترک صدر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد مقامی سماجی کارکن اور وکلا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ناسا کی جانب سے جھیل کے بارے میں عام کردہ معلومات اور طیب ایردوان کے منصوبے کے بعد یہاں سیاحوں کا سیلاب امڈ آنے کا خدشہ ہے۔

جھیل کے ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اس جھیل کا ماحولیاتی نظام ہی اس کی انفرادیت ہے اور یہاں آنے والا 'انسانوں کا سمندر' اس کی انفرادیت کو درہم برہم کر دے گا۔

یاد رہے کہ ترکی کی سالدا جھیل اپنے سفید جزیرے کی وجہ سے مشہور ہے جس کی ریت کو بہترین قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پائے جانے والی نباتاتی اور حیوانی حیات بھی اسے منفرد بناتی ہیں۔

ناسا کا خیال ہے کہ سالدا جھیل میں مختلف اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں۔ ان معدنیات میں ہائیڈرومیگنیسائٹ مریخ کے کریٹر جزیرے سے ملنے والی کاربونیٹڈ معدنیات سے مماثلت رکھتے ہیں۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مریخ پر خوردبینی حیات کی تلاش کے سلسلے میں سالدا جھیل سے ملنے والے نمونے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

’ماحولیاتی نظام کی وجہ سے جھیل ایک زندہ وجود رکھتی ہے'

سالدا زمین کی تہہ میں پلیٹوں کی حرکت سے بننے والی جھیل ہے اور زمین پر ایسی متعدد جھیلیں موجود ہیں۔ لیکن ارضیاتی انجینیئر ثروت جیونی کا کہنا ہے کہ یہ جھیل اپنے خاص ماحولیاتی نظام کی وجہ سے ایک زندہ وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جھیل کسی بھی بیرونی مداخلت کے حوالے سے بہت حساس ہے۔

گزشتہ برس اگست میں ترک وزارتِ ماحولیات نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سالدا جھیل کو ’اسپیشل انوائرمینٹل پروٹیکشن ایریا‘ قرار دے دیا گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق وزارتِ ماحولیات نے اس جھیل سے ملحقہ علاقے میں محفوظ شدہ قرار دیے گئے علاقے کا رقبہ بھی 10900 ایکڑ سے بڑھا کر 73 ہزار ایکڑ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جھیل پر انسانی آمد و رفت سے ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے جھیل کے مخصوص حصوں میں نہانے پر پابندی سمیت دیگر پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔

ادھر ترک حکومت نے اپنے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جس پر ’لیک سالدا پریزرویشن ایسوسی ایشن‘ کے سربراہ غازی عثمان ساکر کا کہنا ہے کہ اس کی سفید ریت کو مجوزہ 'پیپلز بیچ' کے لیے تعمیر ہونے والی سڑک کے لیے منتقل کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

ساکر کا کہنا ہے کہ اس مںصوبے کو رکنا چاہیے۔ اس جھیل کا استعمال کیا گیا تو اسے محفوظ نہیں رکھا جاسکے گا۔

’تیراکی ممنوع قرار دی جائے‘

سفید جزیرے میں تیراکی ممنوع ہے لیکن دوسرے حصوں میں اس کی اجازت ہے۔

ساکر کی ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ جھیل کے ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے یہاں تیراکی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا جائے۔

ان کی تجویز ہے کہ جھیل کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کے لیے چوکیاں بنائی جائیں جہاں سے وہ جھیل کا مشاہدہ کریں۔

ثروت جیونی کا کہنا ہے کہ اگر یہاں خوردبینی حیات مرتی ہے تو یہ سالدا جھیل بھی ختم ہوجائے گی۔ اس کے سفید جزیرے کی تجدید نہیں کی جاسکے گی۔

سالدا جھیل کی بقا اور حکومتی منصوبے کے خلاف 'پریزرویشن ایسوسی ایشن' نے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا جہاں ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ تاہم ایسوسی ایشن کے سربراہ مہم چلا رہے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) اسے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرے۔

سیاحوں کی تعداد محدود کرنے کا اعلان

گزشتہ ماہ ترک وزارتِ ماحولیات نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سفید جزیرے کے علاقے میں سیاحوں کی تعداد کو پانچ لاکھ 70 ہزار سالانہ تک محدود کیا جائے گا۔

سن 2019 میں 15 لاکھ افراد یہاں آئے تھے جب کہ گزشتہ برس کرونا وائرس کے باعث ہونے والی پابندیوں کی وجہ سے آٹھ لاکھ سیاحوں نے وزٹ کیا تھا۔

ترکی کے جنوب مغربی صوبے ’بوردور‘ کی بار ایسوسی ایشن کی ماحولیاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ سالدا جھیل ایک قدرتی میوزیم ہے۔ سیاحوں کی تعداد پر مجوزہ حد جھیل کی حفاظت کے لیے ناکافی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG