رسائی کے لنکس

امریکی فوج کے انخلا کے باوجود ترکی افغانستان میں کیوں رکنا چاہتا ہے؟


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی اپنے ترک ہم منصب طیب ایردوان سے برسلز میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں ملاقات ہوئی ہے۔

جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد دونوں رہنماؤں کی اس پہلی ملاقات کو افغانستان میں ترکی کے ممکنہ کردار کی وجہ سے اہمیت دی جا رہی تھی۔

صدر ایردوان کے مطابق اس ملاقات میں ترکی کے افغانستان میں کردار اور کابل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی ترکی کے حوالے کرنے سے متعلق مجوزہ منصوبے پر بات ہوئی ہے لیکن اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

صدر ایردوان نے اتوار کو نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز روانگی کے موقعے ہی پر اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ وہ صدر بائیڈن سے ہونے والی پہلی دو بدو ملاقات میں افغانستان میں ترکی کے کردار پربات کریں گے۔

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ امریکہ جلد ہی افغانستان چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس کے بعد واحد قابلِ اعتماد ملک جو اس عمل کو جاری رکھ سکتا ہے وہ ترکی ہی ہو گا۔

صدر بائیڈن کے اعلان کے مطابق امریکہ رواں برس نائن الیون حملوں کے 20 برس مکمل ہونے پر ستمبر میں افغانستان سے اپنی فوج نکال لے گا اور اس کے ساتھ ہی نیٹو فورسز بھی افغانستان سے روانہ ہو جائیں گی۔

افغانستان میں ترکی کی فورسز رکھنے اور کابل ایئر پورٹ کی حفاظت ترک فوج کو دینے کی تجویز گردش میں ہے۔

امریکہ کے محکمۂ دفاع کے ترجمان جان کربی نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد دارالحکومت کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی پر ترکی اور امریکہ کے درمیان ابتدائی گفتگو ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ترک حکام نے رواں برس مئی میں کابل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کی ذمے داری لینے کی پیش کش کی تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے نیٹو اور امریکہ سے بات چیت بھی شروع کر دی گئی تھی۔

لیکن طالبان کابل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی ترکی کے حوالے کرنے کی تجویز مسترد کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق 2020 کے معاہدے کے تحت ترکی کو بھی نیٹو فورسز کے ساتھ افغانستان سے نکلنا ہو گا۔

ترکی کیا چاہتا ہے؟

افغانستان میں نیٹو کے تحت ترکی کی فوج کے 500 اہلکار موجود ہیں جو افغان فورسز کی تربیت کر رہے ہیں۔

کابل ایئر پورٹ افغانستان میں غیر ملکی سربراہان مملکت، سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں کی آمد و رفت کا سب سے اہم مرکز ہے۔ اس لیے افغانستان میں سفارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے کابل ایئر پورٹ کا تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کے باعث دارالحکومت کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئی خدشات پائے جاتے ہیں اور گزشتہ ماہ آسٹریلیا کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر چکا ہے۔

ترک حکومت کے حامی اخبار ’صباح‘ کے مطابق اگر ایسے حالات میں ترکی کابل کے بین الاقوامی ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کی ذمے داری لیتا ہے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات میں گزشتہ برسوں کے دوران آنے والی کشیدگی میں کمی ہو گی۔

خیال رہے کہ روس سے میزائل دفاعی نظام ایس 400 کی خریداری اور مغربی بحیرہٴ روم میں تیل کے ذخائر کی ڈرلنگ پر یورپ اور امریکہ کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران دوریاں پیدا ہونا شروع ہوئی تھیں۔

روس سے دفاعی میزائل نظام خریدنے پر امریکہ نے ترکی کے دفاعی شعبے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اس کے ساتھ ہی ترکی کے ساتھ اپنے 100 ایف 35 جنگی طیاروں کا سودا بھی منسوخ کر دیا تھا۔

اس کے بعد ترکی نے امریکہ پر شام میں کرد ملیشیا ’وائے پی جی‘ کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ ترکی اس ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے اور 2016 سے اس کے خلاف شام سے ملحقہ اپنے سرحدی علاقے میں کارروائیاں بھی کر رہا ہے۔

رواں سال صدر بائیڈن نے جب سلطنت عثمانیہ میں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام اورآبادیوں سے بے دخل کرنے کے واقعات کو ’نسل کشی‘ قرار دیا تھا تو اس کے بعد بھی ترک صدر طیب ایردوان کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

’ترکی امریکہ کی بہت زیادہ مدد مانگ رہا ہے‘

ترک اخبار ’صباح‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے ترکی کے وزیرِ دفاع خلوصی آکار کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ کابل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کی ذمے داری لینے سے متعلق ترکی کی پیش کش کا انحصار اس کے اتحادیوں سے ملنے والے تعاون پر ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام کی کچھ شرائط ہوں گی۔ ان شرائط میں سیاسی اور معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ دفاعی ساز و سامان کی فراہمی شامل ہے۔ اگر یہ شرائط پوری ہوتی ہیں تو ترک فورسز کابل ایئر پورٹ پر رکنے کے لیے تیار ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کے لیے ترکی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ترکی اس مشن کے لیے امریکہ کی بہت زیادہ ’مدد‘ مانگ رہا ہے۔

امریکی حکام نے کئی امور پر ترکی کے ساتھ اختلاف رائے کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے قابل اعتبار ہونے کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

امریکہ کے مؤقر اخبار ’دی نیو یارک ٹائمز‘ کی استنبول میں بیور چیف کارلوٹا گال نے حال ہی میں ترکی کے افغانستان میں کردار پر ایک مضمون لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس اور معاشی بد حالی کی وجہ سے بے روزگاری اور ترک کرنسی ’لیرا‘ کمزور ہونے کے باعث ایردوان کو ملک کے اندر مشکلات کا سامنا ہے۔

اُن کے مطابق ایردوان کو اس وقت اپنے ملک میں مغربی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اسی لیے انہوں نے روس کے خلاف یوکرین کی حمایت کرکے ماسکو کو برہم کیا ہے اور روس کے انتباہ کے باوجود پولینڈ کو ترکی میں تیار کردہ ڈرونز فروخت کیے ہیں۔

کارلوٹا گال کا کہنا ہے کہ ایردوان کے پاس کھیلنے کے لیے اہم پتے ہیں۔ ترکی نیٹو میں شامل ہے۔ یہ لاکھوں پناہ گزینوں کی جائے پناہ ہے اور افغانستان میں اس کی فوج کی موجودگی اسے مغرب کے لیے زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

ترکی کے بیرونِ ملک اڈے

نیٹو میں شامل ترکی واحد مسلمان ملک ہے جس کی فوج افغانستان میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ عراق، شام ، خلیجِ فارس، بحیرۂ احمر اور افریقہ میں بھی ترکی کی فوجی تنصیبات ہیں۔

قطر، صومالیہ، شمالی قبرص اور سوڈان میں ترکی کے ہوائی اڈے ہیں اور ان ممالک میں ترکی کی فوج میزبان ممالک کے معاہدوں کے تحت موجود ہے۔

لیبیا میں بھی ترکی ’غیر رسمی‘ طور پر موجود ہے جہاں وہ اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت ’گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ‘ کو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ’لیبین نیشنل آرمی‘ (ایل این اے) کے خلاف مدد فراہم کر رہا ہے۔

افغانستان میں ترکی کو اپنی فوج رکھنے کے لیے نیٹو اور اس کے بعد افغانستان کے اندر فریقین کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔

ترک حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگرکابل ایئر پورٹ کی حفاظت ترکی کے حوالے کی جاتی ہے تو وہاں پہلے سے موجود 500 اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہو گا۔

طالبان غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاہدے کے تحت کسی دوسرے ملک کی افغانستان میں موجودگی کے امکان کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

’تصادم کا خطرہ موجود ہے‘

افغان امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے حال ہی میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی چوں کہ نیٹو کا رکن ہے اور اس کی فوج بھی افغانستان میں تعینات ہے اس لیے طالبان ترکی سے بھی اپنی فوج کو افغانستان سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی عجیب صورتِ حال ہو گی اگر باقی ممالک اپنی افواج افغانستان سے نکالتے ہیں اور ترکی کی فوج افغانستان ہی میں رہتی ہے۔

ان کے مطابق دیگر قوتوں کے ساتھ ساتھ اگر اس معاملے میں طالبان کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا تو تصادم کا خطرہ موجود ہے کیوں کہ طالبان اگر ایئر پورٹ پر حملہ آور ہوتے ہیں تو نتیجے میں ترکی کی فوج دفاعی کارروائی پر مجبور ہو گی۔ اس صورت میں امریکہ بھی اسے فضائی مدد کے لیے آگے بڑھے گا جس کے بعد قیامِ امن کی تمام کوششیں دم توڑ جائیں گی اور افغانستان میں لڑائی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق ترکی کی خواہش ہے کہ وہ استنبول کانفرنس کے ذریعے افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے اقدامات کرے۔ لیکن افغانستان میں فوجیوں کی موجودگی کے باعث اس کی غیر جانب داری پر بھی سوال اٹھائے جائیں گے۔

نئے دور کا آغاز؟

برسلز میں نیٹو کے اہم اجلاس کے موقعے پر ترکی افغانستان میں اپنے مجوزہ کردار کی پیش کش پر قائم رہا ہے۔

صدر ایردوان نے کانفرنس میں شرکت سے قبل ہی کہا تھا کہ ترک حکام افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد امریکہ کو انقرہ کے منصوبوں سے متعلق آگاہ کر چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان منصوبوں کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

ایک ترک عہدے دار کے مطابق مغربی قوتیں بھی کابل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی ترکی کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہیں۔

لیکن برسلز میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں اس حوالے سے صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی ہے۔

صدر ایردوان نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ ایک نیا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہاں اور یہاں کئی افواہیں ہیں۔ ہمیں انہیں پیچھے چھوڑ کر اس پر بات کرنی ہو گی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔

طیب ایردوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم امریکہ سے ایسے اندازِ فکر کی توقع رکھتے ہیں جس میں ’اگر مگر‘ نہ ہو۔

برسلز میں دونوں رہنماؤں کی ہونے والی ملاقات کے بعد اس سلسلے میں کوئی بڑی پیش رفت تو نہیں ہو سکی۔ البتہ مبصرین کا خیال ہے کہ صدر ایردوان امریکہ سے تعلقات کے بارے میں اپنی پالیسی میں تبدیلی کی طرف مائل ضرور نظر آتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG