رسائی کے لنکس

شمالی سندھ میں خونریز قبائلی تنازعات پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا؟


سندھ کے شمالی اضلاع میں قبائلی جھگڑوں کے خلاف لوگ سراپا احتجاج بھی رہتے ہیں۔

پاکستان کے صوبۂ سندھ کے سرحدی ضلع کشمور کے ایک گاؤں میں عید کے تیسرے روز قبائلی تنازع میں 10 افراد کی ہلاکت نے اس علاقے میں خونریزی اور قبائلی جھگڑوں کا معاملہ ایک بار پھر اُجاگر کر دیا ہے۔

پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع کشمور کندھ کوٹ میں واقع کچے کے علاقے گاؤں زمان چاچڑ میں 15 مئی کی رات سبزوئی اور جاگیرانی قبائل سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کے حملے میں چاچڑ قبیلے کے 10 افراد ہلاک ہوئے۔

مویشی چوری کے مسئلے پر شروع ہونے والے قبائلی تنازع پر اب تک فریقین کے درجنوں سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے 17 مئی کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جب کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔

ان کے بقول "کشمور کا واقعہ کافی افسوس ناک ہے اور حکومت قبائلی تنازعات کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔"

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی قبائلی تنازع میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر میں قبائلی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ہر سطح پر اقدامات کیے جائیں گے۔

قبائلی تنازعات، ایک سنگین مسئلہ

انسانی حقوق کے کارکنان اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی سندھ کے علاقوں میں قبائلی تنازعات امن و امان کا ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر قابو پانے میں بقول ان کے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام ہو چکے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ریجنل کوآرڈینیٹر امداد چانڈیو نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی سندھ کے اضلاع کشمور کندھ کوٹ، گھوٹکی، شکارپور، جیکب آباد، لاڑکانہ، سکھر، خیرپور اور شہداد کوٹ میں مسلح قبائلی لڑائیاں خطے میں امن وامان کی صورت حال کو ابتر کر رہی ہیں۔ جب کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر قابو پانے میں بالکل ناکام رہے ہیں۔

ان کے بقول "بعض لڑائیاں شروع ہوئے تو کئی برس بیت جاتے ہیں جو درجنوں بے گناہ افراد کی جانیں لینے کے باوجود ختم نہیں ہو سکیں۔"

دس اپریل کو ضلع جیکب آباد میں جلبانی قبیلے کے مسلح افراد نے کٹوہر قبیلے کے ایک گاؤں پرحملہ کر دیا جس سے کٹوہر قبیلے کے آٹھ افراد مارے گئے جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔ یوں کٹوہر جلبانی قبائلی تنازع میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 17 ہو گئی۔

قبائلی لڑائیوں کی وجوہات

شمالی سندھ کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بیشتر قبائل کے درمیان تنازعات کی بنیاد انتہائی معمولی معاملات ہیں جو عام طور پر کاروکاری، زمین کے کسی ٹکڑے کے حقِ ملکیت، بغیراجازت زمین سے گزرنے، مویشی چوری یا بچوں کے مابین کسی چھوٹے موٹے جھگڑے سے شروع ہوتی ہیں اور پھر ان کا اختتام بڑی بڑی ہولناک لڑائیوں پر ہوتا ہے۔

کشمور کے رہائشی 44 سالہ افضل کھوسو نے اپنی زندگی میں متعدد قبائلی تنازعات دیکھے ہیں۔

ان کے بقول ’’دو قبائل کے مابین تنازعات کی صورت میں دونوں قبائل اپنے اپنے گاؤں میں مورچہ بند رہتے ہیں اور یہ علاقے ایک دوسرے کے قبیلے کے لوگوں کے لیے’نو گو ایریا‘ بن جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ تنازعات کی وجہ سے اسکول جانے کی عمر والے نوجوانوں کے کندھوں پر کلاشنکوف اور راکٹ لانچرز دکھائی دیتے ہیں اور کوئی چرواہا اگر بھینسیں یا بکریاں چرانے جاتا ہے تو خود کار اسلحہ سے مسلح ہوتا ہے۔

سندھ پولیس کی جانب سے 2020 میں قبائلی تنازعات کے حوالے سے کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ قبائلی لڑائیاں صرف سندھ کے دو ڈویژنز لاڑکانہ اور سکھر کے اضلاع تک محدود ہیں جب کہ کراچی، حیدر آباد اور میر پور خاص ڈویژنز میں یہ مسئلہ نہیں پایا جاتا۔

تیغانی، بجارانی تنازع

سندھ پولیس رپورٹ کے مطابق ضلع شکار پور میں تیغانی اور بجارانی قبائل کے مابین تنازع اکتوبر 2012 میں اس وقت شروع ہوا جب تیغانی قبیلے کے افراد نے تعلقہ گڑھی خیرو میں مبینہ طورپر بجارانی قبیلے کے افراد پرحملہ کر کے ان کے 60 مویشی زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ’’چھ برس جاری رہنے والے اس تنازع میں لگ بھگ 60 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ جنوری 2019 میں شکارپور میں ہونے والے ایک جرگے میں تنازع کے تصفیے کے لیے فی قتل 10 لاکھ روپے معاوضہ کا تعین کیا گیا مگر رخمیوں کو معاوضے نہ دینے کے سبب یہ تنازع ختم نہ ہو سکا۔’’

خیال رہے کہ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جرگہ اور پنچایت کے انعقاد پر پاپندی عائدکی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پاپند کیا گیا ہے کہ وہ جرگوں کے انعقاد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔

قنبرانی، مارفانی تنازع

سندھ پولیس کی رپورٹ میں ضلع شکارپور میں قنبرانی اور مارفانی قبیلے کے مابین جاری تنازع کے حوالے سے کہا گیا کہ زمین کے تنازع پر شروع ہونے والے یہ مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔

پولیس کے مطابق قنبرانی قبیلے کے افراد نے 2005 میں توتو مارفانی نامی شخص کو ہلاک کرنے سے شروع ہونے والا یہ تنازع 2016 میں ایک جرگے کی وجہ سے ختم ہوگیا تھا۔ لیکن قنبرانی قبیلے کے سردار دیوال قنبرانی کے بھتیجے کی 2018 میں ہلاکت کے بعد یہ تنازع دوبارہ شروع ہوا۔

اس تنازع میں اب تک دونوں قبائل کے 50 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کرکٹ میچ اور کھیت میں مویشی داخل ہونے پر لڑائیاں

ضلع جیکب آباد میں اوڈھو اور جھکرانی قبائل کے مابین 2018 میں بچوں کے کرکٹ میچ کے دوران جھگڑے سے شروع ہونے والے قبائلی تنازع میں اب تک 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اس حوالے سے انتظامیہ کے دونوں قبائل کے سرداروں کے ساتھ 20 سے زائد اجلاس ہونے کے باوجود یہ تنازع حل نہیں ہو سکا۔

اسی طرح 2014 میں ضلع خیرپور میں کناسرا کمیونٹی کے افراد نے اپنے کھیتوں میں پتافی کمیونٹی کے ایک لڑکے کے مویشی کھیت میں داخل ہونے پر اسے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جس کا بدلہ لینے کے لیے پتافیوں نے کناسرا کمیونٹی کے تین افراد بشمول ایک وکیل کو مار ڈالا۔

اسی طرح شکارپور کے گڑھی یاسین کے علاقے میں اوڈھو اور کروس قبائل کے مابین 2010 سے جاری تنازع میں اب تک 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں مگر کروس قبائل کے علاقے سے نقل مکانی کے بعد قبائل کے مابین مسلح تصادم عارضی طور پر رک چکا ہے۔

اس کے علادہ بھی درجنوں چھوٹے بڑے تنازعات شمالی سندھ کے مختلف اضلاع میں کئی برسوں سے چل رہے ہیں۔

مقامی پولیس بھی محتاط

شمالی سندھ میں مختلف عہدوں پر پولیس افسران نے وائس اف امریکہ سے بات چیت کے دوران اعتراف کیا کہ قبائلی تنازعات میں مسلح افراد کے خلاف کارروائی میں شرکت سے پولیس اہلکار گریزاں رہتے ہیں۔ کیوں کہ کسی کو گرفتار کرنے یا پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد یہ مسئلہ ان پولیس افسران اور اہلکاروں کے لیے قبائلی مسئلہ بن جاتا ہے۔

ان کے بقول "شمالی سندھ میں پولیسنگ کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ سرداری نظام ہے کیوں کہ اس خطے میں اتنے سردار ہیں کہ اگر کوئی پتھر بھی پھینکے گا تو کسی نہ کسی سردار کو ہی لگے گا۔"

سندھ پولیس کی رپورٹ میں بھی ضلع خیرپور میں 2016 میں پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا جو بعد میں ناریجو اور بھٹہ قبائل کی لڑائی میں تبدیل ہو گیا کیوں کہ پولیس مقابلے میں ایک پولیس اہلکار بھٹہ قبیلے جب کہ مرنے والا ناریجو قبیلے سے تعلق رکھنے والے مشہور ڈکیت احمدو ناریجو کا بھتیجا تھا۔

احمدو ناریجو نے اپنے بھتیجے کے بدلے میں اب تک تین بھٹہ قبائل کے افراد جب کہ بھٹہ افراد بھی ناریجو قبیلے کے ایک فرد کو ہلاک کیا ہے۔

شمالی سندھ میں تعینات رہنے والے ایک نیم فوجی ادارے سے وابستہ سینئر اہلکار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قبائلی تنازعات میں کسی بھی فریق کے خلاف کارروائی کرنے سے شمالی سندھ سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اُن کے بقول ایک پالیسی کے تحت کئی برسوں سے خیبرپختونخوا، پنجاب یا سندھ کے کراچی اور حیدرآباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے افسران کو شمالی سندھ میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول ماضی میں کئی ضلعی پولیس سربراہ مختلف قبائل کے ڈاکوؤں اور مسلح افراد کو جوابی کارروائی میں ہلاک کرنے پر جرگوں کے ذریعے ان قبائل کے سربراہوں کو بھاری جرمانہ ادا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

قبائلی سرداروں کا کردار

سیاسی مبصرین اور مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ ان قبائلی جھگڑوں سے ان جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ساتھ مقامی سردار، پولیس افسران بھی بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

'ایچ آر سی پی' کے امداد چانڈیو کا کہنا ہے کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں شمالی سندھ کے خطے میں سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں سرداروں کو سیاسی منظر نامے میں متعارف کیا گیا جو قبائلی لڑائیوں کی پشت پناہی کرتے رہتے ہیں۔

ان کے بقول "آج کل اب سیاسی جماعتوں خصوصاً صوبے کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی میں افراد کے سیاسی کردار کے بجائے اس کے قبائلی اثرونفوس کواہمیت دی جاتی ہے۔"

مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ خطے میں فعال جرائم پیشہ افراد خصوصاً ڈاکو لڑنے والے قبائل کے ہاں آ کر ٹھہرتے ہیں اور قبائل کے مابین ہونے والے خونی جھگڑوں میں حصہ لے کر جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔

بھاری ہتھیار کہاں سے آتے ہیں؟

مبینہ طورپر شمالی سندھ کے مختلف قبائل کے افراد کی خصوصاً بچوں کے ساتھ جدید ہتھیار کے ہمراہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔

شمالی سندھ میں تعینات پولیس افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ تصاویر بالکل اصلی ہو سکتی ہیں کیوں کہ قبائلی لڑائیوں میں ممنوعہ بور کے ہتھیار اور راکٹ لانچر تک استعمال کیے جاتے ہیں۔

ان کے بقول "بلوچستان سے سرحد ہونے کی وجہ سے اسلحہ آسانی سے خریدا جاتا ہے۔"

خواتین اور بچے بھی متاثر

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق قبائلی لڑائیوں میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

شکارپور میں خواتین کی صحت پر کام کرنے والی سماجی کارکن رشیدہ بتول کے بقول قبائلی تنازعات والے علاقوں میں صحت کے اکثر مراکز بھی بند ہو چکے ہیں کیوں کہ کوئی ڈاکٹر یا نیم طبّی عملہ اپنی سیکیورٹی کے پیشِ نظر متحارب علاقوں کے اسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز میں جانے کو تیار نہیں ہوتا۔

ان کے بقول "مقامی طور پر صحت کی سہولیات دستیاب نہ ہونے پر لوگ مریضوں کو قریبی قصبوں یا شہروں تک علاج کے لیے لے کر نہیں جاتے کیوں کہ مخالف قبائل کے مسلح افراد ایسے مواقع کی تاک میں رہتے ہیں۔ یوں صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی سے عورتیں اور بچے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔"

مہردر آرٹ اینڈ پروڈکشن نامی ایک سول سوسائٹی کی تنظیم شمالی سندھ کے نوجوانوں کو امن کی طرف راغب کرنے کی مختلف سرگرمیوں میں فعال ہے۔

تنٖظیم کے سربراہ محمد فہیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شدت پسندی کے ساتھ ساتھ قبائلی تنازعات بھی نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں اور 10 سے 12 برس کے بچے ہتھیار اُٹھانے اور مرنے مارنے پر مجبور ہیں۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق قبائلی تنازعات کے دوران جب بڑے اپنے گاؤں میں اپنے دفاع کے لیے تیار کردہ بنکروں میں سوتے ہیں تو بچوں کو ان کی سیکیورٹی کی ذمے داری دی جاتی ہے۔

لڑائیاں ختم کرانے کی ناکام کوششیں

حکومت کی جانب سے قبائلی لڑائیاں روکنے میں عدم دلچسپی کے سبب سیاسی اور مذہبی جماعتیں کبھی کبھار متحارب فریقین کے ہاں جا کر ان لڑائیوں کو بند کروانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ کوششیں رنگ نہیں لاتیں۔

ماضی میں جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) کے سربراہ مرحوم بشیر قریشی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق صوبائی جنرل سیکریٹری ڈاکٹرخالد محمود سومرو، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور دیگر سول سوسائٹی کے گروہوں کی جانب سے قبائلی تنازعات ختم کرانے کی ناکام کوششیں کی گئی۔

حال ہی میں یہ کوششیں جماعتِ اسلامی شمالی سندھ کے رہنما کر رہے ہیں جنہوں نے اپریل میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالحفیظ بجارانی اور کشمور کے علاقے غوث پور کی معروف روحانی شخصیت پیر سید محمد شاہ سے ملاقات کر کے انہیں اپنا اثرونفوس استعمال کر کے علاقے میں جاری قبائلی تنازعات کو حل کرنے کی اپیل کی۔

جماعت اسلامی کشمور میں 10 افراد کی ہلاکت کے بعد منگل 18 مئی کو ضلع ہی میں ایک آل پارٹیز کانفرنس بلارہی ہے جہاں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور قبائلی سرداروں کو مدعو کیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے عبدالحفیظ بجارانی نے قبائلی تنازعات کو دہشت گردی قراردیتے ہوئے کہا کہ شمالی سندھ میں حکومت اور پولیس کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے اور قبائلی تنازعات کو جرم نہیں سمجھا جاتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG