رسائی کے لنکس

چار سیاحوں کی خلا سے بحفاظت واپسی: 'یہ زبردست ایڈوینچر تھا'


دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خلا میں جانے والے چار عام مسافروں نے اپنے سفر کو 'زبردست' قرار دیتے ہوئے بحفاظت زمین پر واپسی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ٹیسلا الیکٹرک آٹو میکر کے سی ای او ایلان مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی جانب سے خلا میں عام مسافروں کو بھیجنے کے لیے خلائی کیپسول فراہم کیا گیا تھا۔

اسپیس ایکس کا انسپیریشن فور کہلایا جانے والا یہ مشن بدھ 15 ستمبر کو خلا کی جانب روانہ ہوا تھا اور وہ وہاں تین روز گزارنے کے بعد ہفتے کو واپس پہنچ گیا تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ان مسافروں کی واپسی کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انسپیریشن فور وینچر کے مشن ڈائریکٹر ٹوڈ لیف ایرکسن نے کہا تھا کہ یہ خلائی تسخیر کی دوڑ میں ایک نیا قدم ہے۔

خلا کے اس کامیاب سفر کے بعد واپس آنے والے ان افراد نے ٹوئٹر پر اپنے تاثرات بیان کیے۔

ایک سیاح جیرڈ آئزک مین نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہمیں خلا سے محبت ہے لیکن یہ اچھا ہے کہ ہم واپس گھر لوٹ آئے۔

ہیلی آرسنو نے ٹوئٹ کیا کہ یہ سفر خوف اور تشکر سے بھرپور تھا۔ ہم نے گزشتہ روز دو مشنز مکمل کیے۔ پہلا یہ خلا کے لیے انسپیریشن فور مشن کامیاب رہا اور دوسرا یہ کہ سینٹ جوڈ کے لیے 20 کروڑ ڈالر فنڈ جمع کرنے کا ہم نے ہدف عبور کر لیا۔

بیالیس سالہ کرس سیمبروسکی نے ٹوئٹ کیا کہ کیا زبردست ایڈونچر تھا! میں زمین پر اپنے گھر واپس آکر اور اہلِ خانہ کے پاس جا کر خوش ہوں۔

انہوں نے انسپیریشن فور کی ٹیم کو بھی بہترین قرار دیتے ہوئے اسپیس ایکس کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یہ سفر ارب پتی شخصیت اور شفٹس فار پیمنٹس کمپنی کے سی ای او جیرڈ آئزک کی جانب سے کروڑوں کی ادائیگی کے بعد ہوا۔ البتہ اس کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی یہ واضح نہیں۔

اس سفر میں آئزک مین کے ساتھ جانے والوں میں 29 سالہ ہیلی آرسنو، جو سینٹ جوڈ کے معالج کی معاون ہیں۔ 42 سالہ کرس سیمبروسکی، جو ایک ڈیٹا انجنیئر ہیں جب کہ 51 سالہ سائن پروکٹر جو ایک کمیونٹی کالک ایجوکیٹر، سائنس دان اور آرٹسٹ ہیں، شامل تھے۔

'اے پی' کے مطابق خلا کی سیر پر جانے والے چاروں سیاح نے اپنے سفر کا اختتام ہفتے کو کیا تھا اور وہ فلوریڈا کے قریب بحرِ اوقیانوس میں بحفاظت اترے تھے۔

ان کا اسپیس ایکس کیپسول پیراشوٹ کے ذریعے سمندر میں طلوعِ آفتاب سے قبل اترا تھا اور یہ جگہ اس مقام سے زیادہ دور نہیں تھی جہاں سے تین دن قبل انہوں نے اپنے مشن کا آغاز کیا تھا۔

اسپیس ایکس کا مکمل خودکار ڈریگن کیپسول بدھ کی پرواز کے بعد 585 کلومیٹر کی ایک غیر معمولی بلندی تک پہنچا اور اس نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو بھی 160 کلومیٹر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اس خلائی کیپسول میں سوار مسافر اس پر بنی ایک بڑی کھڑکی سے زمین کا نظارہ کر سکتے تھے۔

واضح رہے کہ اسپانسر جیرڈ آئزک مین ایک انٹرپرینیور اور پائلٹ ہیں جن کا مقصد سینٹ جوڈ چلڈرن ریسرچ اسپتال کے لیے 20 کروڑ ڈالر جمع کرنا ہے۔ انہوں نے 10 کروڑ ڈالر خود سے عطیہ کیے ہیں جب کہ ان چار نشستوں میں سے ایک کے لیے انہوں نے قرعہ اندازی بھی کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے کاروبار شفٹ فار پیمنٹس کے ایلان ٹاؤن کے کلائنٹس کے لیے ایک مقابلے کا انعقاد بھی کیا تھا۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں اداروں 'ایسوسی ایٹڈ پریس' اور 'رائٹرز' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG