رسائی کے لنکس

ٹک ٹاک سے پاکستان میں تین ماہ کے دوران 64 لاکھ ویڈیوز ہٹائی گئیں


تین ماہ کے دوران دنیا بھر میں ٹک ٹاک نے چھ کروڑ 19 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹائی گئیں۔ جو کہ اس عرصے میں اس پلیٹ فارم پر اپ لوڈ ہونے والی ویڈیوز کی ایک فی صد سے بھی کم تعداد بنتی ہے۔ (فائل فوٹو)

چین کے مختصر ویڈیوز بنانے اور شیئر کرنے والے پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے سہ ماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک نے اپنے پلیٹ فارم سے 64 لاکھ 96 ہزار ویڈیوز ہٹائیں۔ جب کہ امریکہ میں ہٹائی جانے والی ویڈیوز کی تعداد 85 لاکھ ہے۔ یوں پاکستان امریکہ کے بعد دوسری بڑی مارکیٹ بن گئی ہے جہاں سب سے زیادہ ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں۔

ٹک ٹاک نے 2021 کی جنوری سے مارچ تک کی اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ تین ماہ کے دوران دنیا بھر میں ٹک ٹاک نے چھ کروڑ 19 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹائی گئیں۔ جو کہ اس عرصے میں اس پلیٹ فارم پر اپ لوڈ ہونے والی ویڈیوز کی ایک فی صد سے بھی کم تعداد بنتی ہے۔

ٹک ٹاک کی رپورٹ کے مطابق ان ویڈیوز میں سے 93 فی صد ویڈیوز پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ہٹائی گئیں جب کہ 81 فی صد ویڈیوز دیکھے جانے سے قبل ہی ہٹائی جا چکی تھیں۔

ٹک ٹاک کے مطابق پاکستان دوسری بڑی مارکیٹ ہے جہاں کمیونٹی گائیڈ لائنز، ٹرمز آف سروس کی خلاف ورزی کرنے اور کرونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے پر ویڈیوز ہٹائی گئیں۔

ٹک ٹاک سے سب سے زیادہ ویڈیوز امریکہ اور پھر پاکستان سے ہٹائی گئیں۔
ٹک ٹاک سے سب سے زیادہ ویڈیوز امریکہ اور پھر پاکستان سے ہٹائی گئیں۔

ٹک ٹاک کے ایشیا پیسیفک کے لیے ریجنل پروڈکٹ پالیسی، ٹرسٹ اینڈ سیفٹی کے سربراہ جامِن تان نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک نے وہ ویڈیوز ہٹائیں جن میں گمراہ کن معلومات تھیں۔

دنیا بھر میں ہٹائی جانے والی ویڈیوز کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سہ ماہی میں ٹک ٹاک نے 28 لاکھ 33 ہزار ویڈیوز کو اپیل کے بعد بحال بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاک پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والی ویڈیوز کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔ ٹک ٹاک کے مطابق وہ ویڈیوز بنانے والوں کو بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی ویڈیوز ہٹائے جانے کے خلاف اپیل کر سکیں۔ اپیل پر ٹک ٹاک ویڈیو کا دوبارہ جائزہ لیتا ہے اور پالیسی کی خلاف ورزی نہ ہونے پر ویڈیوز بحال کر دی جاتی ہیں۔

پاکستان میں ٹک ٹاک پر تیسری بار پابندی

واضح رہے کہ تین روز قبل 28 جون کو سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان میں ایک بار پھر ویڈیو شئیرنگ ایپ ٹک ٹاک کو معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ تیسری بار ہے جب ٹک ٹاک کا پاکستان میں آپریشن معطل کیا گیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر ایسی ویڈیوز چلائی جا رہی ہیں جن سے نوجوان نسل پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فحاشی پر مبنی ایسے مواد کو جاری کیا جاتا ہے جو ملکی ثقافت اور مذہبی اصولوں کے خلاف ہیں۔ اسی طرح ٹک ٹاک پر حال ہی میں ہم جنس پرستی کو بھی فخریہ طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ٹک ٹاک سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں۔
ٹک ٹاک سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں۔

درخواست گزار کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہی وجوہات کی بنا پر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ٹک ٹاک کا آپریشن پاکستان میں بند کرنے کی استدعا کی تھی۔ پشاور ہائی کورٹ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) حکام نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت نے ٹک ٹاک انتظامیہ سے اپنے مواد کو ریگولیٹ کرنے اور انہیں مقامی قوانین کے مطابق ڈھالنے کو کہا ہے۔ حکومت کے اس جواب پر پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی ختم کر دی تھی۔ البتہ اس کے باوجود بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

عدالت نے اس درخواست پر ٹک ٹاک کا پاکستان بھر میں آپریشن فوری بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔ کیس کی مزید سماعت آٹھ جولائی کو ہو گی۔

اس سے قبل پی ٹی اے کے وکیل نے پشاور ہائی کورٹ میں دوران سماعت عدالت کا آگاہ کیا تھا کہ ٹک ٹاک پر شائع کی جانے والی غیر اخلاقی اور قابلِ اعتراض مواد رکھنے والی 80 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹانے کے علاوہ چار لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بھی بلاک کئے گئے ہیں۔ پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک انتظامیہ نے ویب سائٹ کی نگرانی کے لیے ایک فوکل پرسن بھی تعینات کیا ہے۔

پاکستان میں 'ٹک ٹاک' پر بار بار پابندی کیوں لگ رہی ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:38 0:00

ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی اور پاکستان میں مواد سے متعلق فوکل پرسن تعینات کرنے پر عدالت نے 21 اپریل کو ٹک ٹاک پر عائد پابندی اس شرط پر ہٹا دی کہ شیئرنگ ایپ پر غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کی جائیں گی۔

عدالت نے 10 مارچ 2021 کو ٹک ٹاک پر ملک بھر میں مشروط پابندی عائد کی تھی۔ پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کو بھی ٹک ٹاک کی انتظامیہ سے رابطہ قائم کرنے اور اسے عدالت کے تحفظات سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 40 افراد نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ سے پابندی کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا تھا کہ اس طرح کے فیصلے کرتے ہوئے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ان فیصلوں سے ملک کا معاشی مستقبل متاثر ہوتا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں بھی پی ٹی اے نے غیر اخلاقی مواد شیئر ہونے کی شکایت پر ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی تھی جسے 10 روز بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔

پاکستان میں اس سے قبل یوٹیوب پر بھی تین سال تک پابندی عائد رہی تھی جو 2016 میں صارفین کے لیے دوبارہ بحال کی گئی تھی۔

ٹک ٹاک پاکستان میں فیس بک کے بعد دوسرا مقبول ترین سوشل میڈیا نیٹ ورک ہے۔ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں ماہانہ دو کروڑ افراد ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں۔

ٹک ٹاک ایک چینی سوشل نیٹ ورکنگ ایپلی کیشن ہے جو صارفین کو ویڈیو کلپس، گانوں پر لپ سنک اور چھوٹی ویڈیوز بنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔​

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG