رسائی کے لنکس

برسوں کی محنت رنگ لے آئی، پاکستانی فاسٹ بالر تابش خان کا 36 سال کی عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو


تابس خان پاکستان کی تاریخ میں عمر رسیدہ ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔  گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران ان سے عمر میں بڑے صرف ایک فاسٹ بالر نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔

انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور 36 سال اور 146 دن کی عمر میں پاکستان کے فاسٹ بالر تابش خان نے بالآخر وہ ٹیسٹ کیپ حاصل کر ہی لی جس کے لیے انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں کئی برس محنت کی۔

سال 2003 میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی کو یہاں تک پہنچنے میں 18 سال لگے جس کے دوران انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 598 کھلاڑیوں کو پویلین کا راستہ دکھایا۔

تابش خان کے ڈیبیو کے ساتھ ہی انہوں نے کئی ریکارڈز بھی اپنے نام کر لیے۔

وہ پاکستان کی تاریخ میں عمر رسیدہ ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران ان سے عمر میں بڑے صرف ایک فاسٹ بالر نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تابش خان نے 137 فرسٹ کلاس میچز کے بعد ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔

سب سے زیادہ فرسٹ کلاس میچز کے بعد ڈیبیو کا ریکارڈ پاکستان میں خالد عبادو اللہ کے پاس ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے 1960 کی دہائی میں چار ٹیسٹ میچز کھیلے تھے۔

خالد عباد اللہ نے 218 فرسٹ کلاس میچز کے بعد پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا تھا اور اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے تھے۔

سوشل میڈیا صارفین بھی خاموش نہ رہ سکے

سوشل میڈیا پر بھی تابش خان کے ڈیبیو کے حوالے سے صارفین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ جب تابش خان نے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا۔ تو اس وقت قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی عمر آٹھ سال تھی۔

تو کسی نے کہا کہ گزشتہ 60 برس میں جتنے بھی کرکٹرز نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا تابش خان کا زائد العمری کے لحاظ سے ان میں 14 واں نمبر ہے۔

ایک مبصر نے تو یہ بھی لکھا کہ تابش خان سے زیادہ وکٹیں کسی اور پاکستانی کھلاڑی نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں حاصل نہیں کیں۔ ان کے بقول ٹیسٹ ڈیبیو سے قبل انہوں نے جنوبی افریقہ کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے عمران طاہر اور پاکستانی ٹیسٹ آل راؤنڈر یاسر عرفات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

زیادہ عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کس کس نے کیا؟

36 سال، 146 دن کی عمر میں تابش خان نے پاکستان کی جب ٹیسٹ کیپ حاصل کی تو وہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں نمائندگی کرنے والے 245ویں کرکٹر تو بن گئے۔ البتہ عمر کے لحاظ سے دوسرے زائد العمر کھلاڑی ہیں۔

سب سے زیادہ عمر میں ٹیسٹ کرکٹر بننے کا پاکستان میں ریکارڈ آج بھی میراں بخش کے پاس ہے جنہوں نے 47 سال اور 284 دن کی عمر میں بھارت کے خلاف لاہور میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔

میراں بخش پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں صرف ایک اور میچ میں نمائندگی کر سکے تھے اور بحیثیت آف اسپنر دو وکٹیں ہی حاصل کر سکے تھے۔

بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کی نمائندگی کرنے والے امیر الہی بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔ انہوں نے 1947 میں 39 سال اور 102 دن کی عمر میں بھارت کے لیے ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور پھر پانچ سال بعد پاکستان کی پانچ ٹیسٹ میچز میں نمائندگی کی وہ بھی بھارت کے خلاف۔​

ٹیم میں تاخیر سے آمد کی وجوہات

تابش خان کی ٹیسٹ کرکٹ میں دیر سے آمد میں کئی باتوں کا عمل دخل تھا۔ کبھی ٹیم میں ان کی جگہ نہیں بنتی تھی تو کبھی سلیکٹرز نے ان کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے قابل نہ سمجھا۔

انہوں نے ساتھی کرکٹر فواد عالم کی طرح ہمت نہیں ہاری اور 18 سال کی انتھک محنت کے بعد وہ ٹیسٹ کیپ حاصل کر ہی لی جس کی انہیں تلاش تھی۔

زیادہ عمر میں ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی

اس صدی میں ان سے زیادہ عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں میں سے تین کا تعلق آئرلینڈ سے، ایک کا انگلینڈ اور ایک کا آسٹریلیا سے ہے۔ ان پانچ میں سے آئرلینڈ کے ایڈ جوائس، ٹم مرٹا اور نائیل او برائن اور انگلینڈ کے شان اوڈال نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ جب کہ آسٹریلوی لیگ اسپنر برائس مک گین نے جنوبی افریقہ کے خلاف ڈیبیو کیا تھا۔

اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کے وقت برائس مک گین کی عمر 36 سال 359 دن تھی۔ ٹیسٹ میچ کے اختتام پر انہوں نے اپنی 37ویں سالگرہ تو منائی لیکن دوبارہ آسٹریلیا کی نمائندگی نہیں کی۔

آئرلینڈ کے اولین ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے اس ریکارڈ ساز دن ایڈ جوائس 39 سال اور 231 دن اور ٹم مرٹا 36 سال 282 دن کے تھے۔ جب کہ نائل او برائن کی عمر 36 سال اور 184 دن تھی۔

مرٹا نے تو اپنے ملک کی جانب سے مزید دو ٹیسٹ کھیلے لیکن جوائس اور برائن ون ٹیسٹ ونڈر کلب کا حصہ بن کر رہ گئے۔

انگلش آف اسپنر شان اوڈال کی پاکستان کے خلاف ڈیبیو کے وقت عمر 36 سال 239 دن تھی اور گریم سوان کی وجہ سے وہ زیادہ عرصہ انگلینڈ کی نمائندگی نہ کر سکے۔

آخر کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ڈیبیو میں اتنی دیر لگتی ہی کیوں ہے؟

کرکٹ کا کھیل آج کل تو نوجوانوں کا کھیل مانا جاتا ہے۔ لیکن پرانے زمانے میں اس میں عمر کی کوئی قید نہیں تھی اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو ٹیم میں شامل کیا جاتا تھا۔

ٹیسٹ کرکٹ کے اولین میچ میں ڈیبیو کرنے والے انگلش کرکٹر جیمز سدرٹن کے پاس آج بھی سب سے زیادہ عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کا ریکارڈ ہے۔ تاریخ ساز ٹیسٹ میچ میں شرکت کرتے وقت ان کی عمر 49 سال اور 119 دن تھی۔ ان کے نام کرکٹ کا ایک اور ریکارڈ بھی ہے اور وہ ہے انتقال کرنے والے پہلے ٹیسٹ کرکٹر کا۔ صرف دو ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والے اس کرکٹر کی موت ٹیسٹ ڈیبیو کے تین سال بعد 52 سال کی عمر میں ہوئی۔

زائد العمر ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسرا نمبر پاکستان کے میراں بخش کا ہے۔ جب کہ تیسرے نمبر پر آسٹریلیا کے ڈونلڈ بلیکی ہیں۔

میراں بخش کی عمر ٹیسٹ کیپ حاصل کرتے وقت 47 سال 284 دن، جب کہ ڈونلڈ بلیکی 46 سال 253 دن کے تھے۔

ان کے علاوہ بھی کئی نامور کھلاڑیوں نے اپنے کیریئر کے آخری حصے میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ ان میں سری لنکا کے سوما چندرا ڈی سلوا شامل ہیں۔

سری لنکا نے ٹیسٹ کرکٹ میں 1982 میں قدم رکھا اور اس کے اولین ٹیسٹ میں شامل ہونے والے لیگ اسپنر سوما چندرا ڈی سلوا کی عمر اس وقت 39 سال اور 251 دن تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے ملک کی مزید دو سال تک نمائندگی کی اور 12 ٹیسٹ اور 41 ون ڈے میچز کھیلنے میں کامیاب ہوئے۔

کچھ بات ہو جائے جنوبی افریقہ کی، جس کے تین کھلاڑیوں نے لیٹ ڈیبیو کیا۔ البتہ اس میں ان کی غلطی نہیں، بلکہ سیاسی حالات کا عمل دخل تھا۔

اومار ہنری، جمی کک اور پیٹر کرسٹن بہت پہلے ٹیسٹ کرکٹ کھیل لیتے اگر سیاہ فام افراد کے ساتھ معتصبانہ رویے کی وجہ سے جنوبی افریقہ کو دنیا بھر کے اسپورٹس سے باہر نہ کیا گیا ہوتا۔

اومار ہنری نے 40 سال 295 دن، جب کہ جمی کک نے 39 سال 105 دن کی عمر میں اس لیے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ کیوں کہ ان کے کیریئر کے زیادہ تر حصے میں جنوبی افریقہ کا دنیا بھر نے اسپورٹس بائی کاٹ کیا ہوا تھا۔ پیٹر کرسٹن نے بھی 36 سال 340 دن کی عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور بعد میں جاکر اپنے ساتھی زائد العمر کھلاڑیوں کی طرح ون ڈے کرکٹ میں بھی جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی۔

اسی طرح 1992 میں ٹیسٹ کرکٹ میں انٹری مارنے والے زمبابوے کی جانب سے میلکم جارویس اور اینڈی پائیکرافٹ زائد العمر کرکٹرز کی فہرست میں آتے ہیں۔

میلکم جارویس اپنے ڈیبیو کے وقت 36 سال 317 دن کے تھے۔ جب کہ اینڈی پائیکرافٹ کی عمر 36 سال 134 دن تھی۔

اسی فہرست میں زمبابوے کے ایک اور کھلاڑی کا نام آتا ہے اور وہ ہے اینڈی والر، جنہوں نے 37 سال 84 دن کی عمر میں انگلینڈ کے خلاف 1996 میں ڈیبیو کیا۔ ون ڈے میں تیز بیٹنگ کرنے کی وجہ سے اس بیٹسمین کو متعدد ورلڈ کپس میں تو سلیکٹ کیا گیا۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا انتظار اتنا بڑھ گیا کہ صرف دو میچز ہی کھیل کر اس فارمیٹ سے دور ہو گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG