رسائی کے لنکس

طالبان حکومت کے وزیرِ اعظم کا قوم سے خطاب، 'افغان عوام کو صبر نہیں ریلیف چاہیے'


طالبان حکومت کے وزیرِ اعظم ملا حسن آخند (فائل فوٹو)

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرِ اعظم ملا حسن آخند نے عالمی برادری اور رفاہی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کریں ورنہ بھوک اور افلاس کے باعث ملک مزید مشکلات سے دوچار ہو سکتا ہے۔

ہفتے کو افغان عوام سے اپنے پہلے خطاب میں ملا حسن کا کہنا تھا کہ افغانستان اب ہمسایہ ممالک سمیت دنیا کے کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔

ملا حسن آخند نے افغان عوام کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی پہلی ترجیح افغان عوام کو مشکلات سے نکالنا ہے۔

طالبان حکومت کے وزیرِ اعظم کے خطاب پر افغانستان میں ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے جب کہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملا حسن آخند کی تقریر مایوسی میں گھرے افغان عوام کے لیے متاثر کن نہیں تھی۔

طالبان اقتدار کے 100 دن

طالبان کو اقتدار سنبھالے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جس میں وہ فخریہ انداز میں افغانستان میں امن کے قیام کا دعویٰ کرتے ہیں۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے جو کہ نہ صرف افغان شہریوں کی اولین ترجیح تھی بلکہ بین الاقوامی برادری بھی گزشتہ 20 برسوں میں اس کی کوششیں کر رہی تھیں جس کے لیے اُنہوں نے اربوں ڈالر خرچ کیے۔

ملا حسن آخند کا قوم سے پہلا خطاب اب عوام میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

محمد نادم کابل کے بازار میں ٹھیلا لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمِ سرما شروع ہو چکا ہے تاہم ان کی سیل گزشتہ ادوار کے مقابلے میں بہت کم ہے جس کی وجہ سے ان کا گزارہ بمشکل ہو رہا ہے۔

افغانستان سے انخلا میں والدین سے بچھڑنے والے ننھے فرزاد کی کہانی
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:47 0:00

ملا حسن کے خطاب پر گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر روزگار اور کاروبار نہ ہو تو ایسے امن کا کوئی کیا کرے گا؟

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ امن اور معاشی حالات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہذٰا افغان عوام چاہتے ہیں کہ اُن کے معاشی حالات بہتر ہوں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر موجودہ اقتصادی حالات بہتر نہ ہوئے تو ملک کا امن و امان دوبارہ سے خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ کابل میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ملا آخند کی یہ تقریر ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغانستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور عوام توقع کر رہے تھے کہ وہ افغان عوام کی بہتری کے لیے وہ معاشی پالیسی کا اعلان کریں گے۔

ملا حسن کی عوام کو اللہ پر بھروسہ کرنے کی تلقین

ملا آخند نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ افغان عوام کی ان مشکلات کو طالبان کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ طالبان نے کسی کے ساتھ معاش کی بہتری کے وعدے نہیں کیے تھے بلکہ رزق دینے والی ذات تو اللہ کی ہے۔ اس لیے آئیں سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تمام افغان شہریوں کے حالات پر رحم و کرم کرتے ہوئے آسانیاں پیدا کرے۔

اگرچہ یہ تقریر ٹیلی وژن پر بھی نشر کی گئی تاہم تقریباً آدھے گھنٹے پر محیط اس آڈیو خطاب میں صرف ملا حسن کی تصویر ہی کو دیکھایا گیا۔

کابل کا کنٹرول سنبھالے طالبان کو تین ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔ تاہم عالمی برادری کی جانب سے طالبان کی حکومت کو ابھی تک کسی ایک ملک نے بھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

عالمی برادری طالبان پر جامع حکومت کے قیام، خواتین کے حقوق اور عالمی برادری کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل پر زور دے رہی ہے۔

'طالبان کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان زیادہ متحرک ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:48 0:00

عوام سے خطاب کے دوران ملا آخند کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت میں تمام دھڑوں اور قوموں کی نمائندگی ہے۔ خواتین کے حقوق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے اور ان کے دورے حکومت میں انہیں کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک خواتین کے تعلیمی ادارے ملک بھر میں کھل چکے ہیں۔

طالبان وفد کا دورۂ قطر اور امیدیں

دریں اثنا افغانستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طالبان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی وفد قطر کے دورے پر ہے۔ جہاں وہ مختلف ممالک سے آئے وفود سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔

حلیمی کاکڑ کا تعلق افغانستان کے صوبہ جلال آباد سے ہے۔ ان کی طالبان وفد کی یورپی یونین اور امریکی عہدیداران کے ساتھ ملاقات پر گہری نظر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہیں لیکن گزشتہ چار ماہ سے انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملی ہے۔

اُن کے بقول اگر ان ملاقاتوں میں افغانستان کے منجمد اثاثے بحال ہو جاتے ہیں تو ان جیسے ہزاروں افراد کو ان کی تنخواہیں مل جائیں گی جس کے بعد وہ اپنے گھر کے لیے مناسب راشن خرید سکیں گے۔

حلیمی کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پورا ملک معاشی تباہی کے دہانے پر ہے اور خدشہ ہے کہ رواں موسمِ سرما میں عوام کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے کہ اُن کا وفد اس دورے میں افغانستان کو درپیش سیاسی مسائل، منجمد اثاثے، انسانی فلاح و بہبود کے حوالے سے امداد، تعلیم، صحت، سلامتی اور کابل میں سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے اور دیگر متعلقہ امور پر تبادلۂ خیال کر رہا ہے۔

کابل کی کاردان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے سابق سربراہ فہیم سادات کا کہنا ہے بطور وزیرِاعظم ملا آخند کا فرض بنتا تھا کہ وہ عوام کے لیے معاشی حکمت عملی کو واضح کرتے ہوئے انہیں مستقبل میں کاروبار، روزگار، صحتِ عامہ کے حوالے سے کچھ یقین دہانیاں کراتے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ ملا حسن آخند اپنی اس تقریر کے دوران اپنی کوئی بھی ایسی کارکردگی بیان نہیں کر سکے جس سے افغان عوام کو اطمینان ملا ہو اور اس سے ان کے معاشی مسائل میں کمی کی نوید سنائی دی ہو۔

افغانستان کے موجودہ اقتصادی مسائل پر بات کرتے ہوئے فہیم سادات کا مزید کہنا تھا کہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس وقت طالبان براہ راست عوام پر حکومت کر رہے ہیں لیکن جب بات عوام کو سہولت فراہم کرنے کی آئے تو وہ انہیں ریلیف دینے کے بجائے صبر کی تلقین کر رہے ہیں۔ حالاں کہ افغان عوام کو صبر نہیں بلکہ ریلیف چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ 21 ویں صدی ہے ایسے میں طالبان کو حکومتی بظم و نسق سنبھالنے کے بعد عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ بصورتِ دیگر افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG