رسائی کے لنکس

طالبان کی پیش قدمی اور ان کے خلاف ملیشیاز کی تشکیل تشویش ناک ہے: جنرل ملر


جنرل آسٹن اسکاٹ ملر صوبے وردک میں ایک چیک پوسٹ پر افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلنکاروں سے مصافحہ کر رہے ہیں (فائل فوٹو)

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کو ملک کے اندر سیکیورٹی کی خراب ہوتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش ہے جب امریکہ اور نیٹو افواج 11 ستمبر تک افغانستان سے مکمل انخلا کے عمل میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کی سیکیورٹی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ ایک ماہ میں 1906 کارروائیوں میں 6030 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں 33 پاکستانی بھی شامل تھے۔

جنرل آسٹن سکاٹ ملر نے، جو افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں، ایسے وقت میں یہ بیان دیا ہے جب طالبان جنگجوؤں اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔

دارالحکومت کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل ملر نے صورت حال کو یہ کہہ کر بیان کیا کہ ’ یہ اس وقت یہ ٹھیک نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جنگجوؤں کا مختلف علاقوں کو اپنے قبضے میں لینا پریشان کن ہے۔ انہوں نے متنبہہ کیا کہ طالبان دوبارہ ملک پر بذریعہ طاقت کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’’ فوجی طور پر قبضہ کر لینا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ یقینی طور پر یہ افغانستان کے عوام کے بھی مفاد میں نہیں ہے‘‘۔ یہ الفاظ تھے جنرل آسٹن ملر کے۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یکم مئی کے بعد، جب سے باقی ماندہ امریکی اور اتحادی افواج نے انخلا شروع کیا ہے، اس وقت سے لے کر اب تک افغانستان کے کل 419 اضلاع میں سے 100 سے زائد اضلاع پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی سیکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں بعض اضلاع طالبان سے واپس لیے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دیگر اضلاع کو بھی عسکریت پسندوں کے قبضے سے واگزار کرا لیا جائے گا۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق، افغان سیکیورٹی سیکٹر کے ترجمان جنرل امجد عمر شنواری نے کہا ہے کہ افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں 1906آپریشن کیے جن میں ان کے دعوے کے مطابق 6030 طالبان جنگجو مارے گئے اور 3485 زخمی ہوئے۔ مارے جانے والوں میں 33 پاکستانی جنگجو بھی شامل تھے۔

کابل میں افغان ایئر فورس کمان کے صد دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عمر شنواری نے کہا کہ ان کارروائیوں میں طالبان کے چھ حراستی مراکز سے افغان سکیورٹی اہل کاروں اور عام شہریوں پر مشتمل 162 افراد کو بازیاب کرایا گیا ہے۔

ترجمان نے امریکہ کی طرف سے عطیے کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ بہت جلد 37 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور دو A-29 سپر ٹوکانو نامی جنگی جہازوں پر مشتمل فوجی امداد افغانستان پہنچ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کہ فوجی ساز و سامان افغاستان کی زمینی فورسز کی کارروائیوں میں معاونت کے لیے استعمال ہو گا۔

سیکیورٹی فورسز کے ترجمان جنرل اجمل عمر شنواری نے مزید بتایا کہ سینکڑوں مقامی شہریوں کو، جنہوں نے طالبان کے خلاف اسلحہ اٹھایا ہے، انہیں فوجی رینکس میں بھرتی کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف اسلحہ اٹھانے والے اپنے طور پر کاروائیاں نہیں کر سکیں گے۔ اور فی الحال، ترجمان کے بقول، وہ افغانستان کی فوجوں کے ساتھ کھڑے ہو کر طالبان سے لڑ رہے ہیں۔

افغانستان کی پارلیمنٹ نے، وی او اے کی افغان سروس کے مطابق، پیر کے روز حکومت سے کہا تھا کہ وہ طالبان کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو قانونی طور پر سیکیورٹی کے ڈھانچے میں لے آئے۔ پارلیمنٹ کے اراکین کو تشویش تھی کہ اگر طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو سیکیورٹی ڈھانچےکا حصہ نہ بنایا گیا تو وہ ملیشیا گروپوں میں تبدیل ہو جائیں گے اور افغانستان کو ایک مرتبہ پھر 90 کی دہائی جیسی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

امریکی کمانڈر جنرل آسٹن ملر نے بھی، وائس آف امریکہ کے لیے ایاز گل کی رپورٹ کے مطابق، اپنی گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ حکومت کی حامی ملیشیاز کو ملک بھر میں تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کر سکیں۔ یہ صورت حال ان کے بقول ایک خانہ جنگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

تاہم جنرل آسٹن ملر نے اس بات پر زور دیا کہ انخلا کا عمل افغانستان کے اندر تشدد کے باوجود صدر جو بائیڈن کے احکامات کے مطابق جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG