رسائی کے لنکس

logo-print

افغان تنازع: طالبان کا 90 روز تک تشدد میں کمی کی تجویز دینے کا دعویٰ


افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنہوں نے بین الافغان مذاکرات کو آگے بڑھانے اور سازگار ماحول کے لیے 90 روز تک تشدد میں کمی کی تجویز دی ہے۔ طالبان نے یہ بھی​ دعویٰ کیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ یہ تجویز امریکہ نے دی تھی۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "ہم نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت تمام فریق تشدد میں کمی کریں۔ تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ یہ مکمل سیز فائر نہیں ہو گا۔"

ایک دوسرے طالبان رہنما نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس تجویز پر حالیہ دوحہ مذاکرات کے دوران امریکہ اور طالبان نے غور بھی کیا تھا۔

مذکورہ رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد اور طالبان وفود کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران اس بارے میں تبادلۂ خیال ہوا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان ترجمان کے علاوہ کسی اور رہنما کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں۔ لہذٰا وہ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہیں۔

یہ تجویز امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن کی جانب سے افغان صدر اشرف غنی کو لکھے گئے خط میں بھی سامنے آئی تھی۔ خط میں بلنکن نے کہا تھا کہ وہ 90 روز کے لیے افغانستان میں تشدد میں کمی کی تجویز پر کام کر رہے ہیں۔ تاکہ طالبان موسمِ بہار میں اپنے حملے روک کر سیاسی تصفیے کے لیے افغان دھڑوں کے ساتھ بات چیت کو آگے بڑھائیں۔

طالبان شدید سرد موسم اور ناہموار علاقوں میں سخت موسمی حالات کے خاتمے کے بعد موسمِ بہار کی آمد پر مزید توانائی کے ساتھ اپنے مخالفین پر حملے کرتے ہیں۔ ماضی میں اس موسم میں کیے گئے طالبان کے حملوں میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوتے رہے ہیں۔

اتوار کو ایک بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ اس تجویز پر غور کر رہے ہیں۔

مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے موسمِ بہار کے حملوں کے اعلان میں اب بھی ایک ماہ باقی ہے۔ تاہم وہ سیاسی معاملات میں پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اُن کے بقول اگر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ایک ماہ بعد موسمِ بہار کے حملوں سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

طالبان پر عالمی دباؤ

طالبان پر امریکہ سمیت کئی ممالک یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں تشدد کم کریں اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں سیاسی تصفیہ کر لیں۔

ان ممالک کا یہ گلہ ہے کہ حالیہ عرصے میں طالبان نے افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جو ملک میں 20 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

اگر نوے روز تک تشدد میں کمی کی تجویز پر تمام فریق متفق ہو جاتے ہیں تو 20 سال سے جاری افغان تنازع کے حل میں یہ اہم پیش رفت ہو گی۔

افغان امن عمل کی تاریخ پر ایک نظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:32 0:00

اس سے قبل طالبان نے گزشتہ سال فروری میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے دوران ایک ہفتے کے لیے سیز فائر کیا تھا جب کہ مسلمانوں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر بھی وہ حملوں سے گریز کرتے رہے ہیں۔

البتہ، طالبان نے اپنا یہ مؤقف دوہرایا ہے کہ اگر دوحہ معاہدے کے تحت یکم مئی تک امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان سے نہ نکلیں تو وہ پھر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔

طالبان نے دوحہ معاہدے کے بعد افغانستان میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ تاہم طالبان افغان سیکیورٹی فورسز پر اپنے حملے بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حالیہ عرصے میں افغانستان میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے الزامات بھی طالبان پر لگتے رہے ہیں۔ تاہم طالبان ان کی تردید کرتے رہے ہیں۔

طالبان اور افغان حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں بین الافغان مذاکرات شروع کیے تھے۔ تاہم اس میں پیش رفت نہ ہونے پر حال ہی میں روس کی میزبانی میں ایک روزہ افغان کانفرنس بھی ہوئی تھی۔

البتہ، طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور جب ماسکو سے واپسی پر وفود دوحہ میں دوبارہ ملیں گے تو اس معاملے پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG