رسائی کے لنکس

چین افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر تیار ہے: طالبان ترجمان


فائل فوٹو

طالبان کے قائم مقام معاون وزیر برائے اطلاعات و ثقافت، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے چینی کارکنان اور اثاثوں کی سیکیورٹی کی ضمانت کی شرط پر چین افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت یہ ضمانت دینے کے لئے تیار ہے۔

وائس آف امریکہ کی نمائندہ عائشہ تنظیم کے ساتھ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں، ذبیح اللہ مجاہد نے امریکہ اور دیگر ملکوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات، افغانستان کی معاشی مشکلات، خواتین کے حقوق اور افغانستان میں داعش کے متعدد بڑے حملوں کے نتیجے میں ملک کو لاحق سیکیورٹی کے مسائل سے متعلق سوالات کے بھی تفصیلی جواب دئے۔

خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی یقین دہانیوں کے باوجود، تا حال طالبان کی جانب سے ان کی پاسداری یقینی بنانے کے معاملے پر بین الاقوامی برادری طالبان کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ طالبان پر اپنی کابینہ میں دیگر نسلی گروہوں کو خاطر خواہ نمائندگی نہ دینے کے معاملے پر بھی عالمی سطح پر نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔

طالبان 6 سے 11 جماعت کی اسکول کی بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں، جب کہ لڑکوں کو اسکول جانے کی اجازت ہے۔

طالبان کی کابینہ میں صرف مرد حضرات کو شامل کیا گیا ہے، جن کا زیادہ تر تعلق افغانستان کے اکثریتی پشتون نسلی گروپ سے ہے۔

جہاں طالبان نے گزشتہ حکومت کے تمام لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے، جن میں سیکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس کے ادارے شامل ہیں، ایمنسٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان فورسز نے غیر قانونی طور پر ہزارہ نسل کے 13 افراد کو قتل کیا ہے، جن میں ایک 17 سال کی لڑکی بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں افغان سیکیورٹی فورسز کے ارکان شامل تھے جنہوں نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈالے تھے۔

داعش خراسان کے بارے میں ایک سوال پر، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان کے لئے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

بقول ان کے، ’’افغانستان میں داعش زیادہ تعداد میں موجود نہیں ہے، یہاں تک کہ جان بچانے کے لیے اس کے ارکان کو لوگوں سے چھپنا پڑتا ہے۔ باوجود اس بات کے، وہ قندوز میں کیے گئے دھماکے جیسی کارروائیاں کر لیتے ہیں۔ لیکن اسلامی امارات (جیسا کی طالبان اپنی حکومت کا نام لیتے ہیں) ان کا پیچھا کرتی ہے۔‘‘

ذبیح اللہ مجاہد نے اس بارے میں مزید کہا کہ طالبان افواج اس گروہ کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ ہفتے کے دوران طالبان نے داعش سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان کے متعدد محفوظ ٹھکانوں کو مسمار کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے بروقت کارروائی کے ذریعے ان کے کئی حملوں کو روکا ہے۔ داعش کا نام اس لئے آنے لگا ہے کہ جب طالبان نے کئی جیلوں کو ڈھا دیا تو اس وقت داعش کے سہولت کار بھی وہاں سے بھاگ نکلے تھے۔ اس سے انہیں شہہ ملی، لیکن ہم تہیہ کر چکے ہیں کہ ہم افغانستان سے ان کا صفایا کر دیں گے۔‘‘

وائس آف امریکہ کی عائشہ تنظیم کے استفسار پر کہ اطلاعات کے مطابق قندوز کے خودکش حملے میں ایغور باشندہ ملوث تھا، اور کیا چین نے طالبان سے اس متعلق کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ’’اس معاملے پر ہم نے کسی ملک سے کوئی بات نہیں کی۔ داعش کے تمام کارندے افغان ہیں، ان میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں ہے۔‘‘

افغان معیشت کو درپیش مشکلات کے بارے میں ایک سوال پر، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’’معاشی صورت حال معمول پر لوٹ رہی ہے۔ ہم قومی وسائل اکٹھے کر رہے ہیں۔ ہمارے تاجر نئی سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں۔ بشمول سڑکوں کی تعمیر کے، اہم منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ کچھ ممالک کے ساتھ ہم (معدنیات کی) تلاش کے سمجھوتوں پر دستخط کرنے والے ہیں۔‘‘

عائشہ تنظیم کے اس سوال پر کہ آیا منجمد افغان اثاثے حاصل کرنے سے متعلق ان کی امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت چل رہی ہے، طالبان کے معاون وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ’’افغانستان کے اثاثوں کو منجمد کرنا افغان عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم دوسرے ملکوں اور بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ بھی اس کے متعلق بات چیت کر رہے ہیں کہ یہ رقوم افغان عوام کی امانت ہیں جن کو جاری کیا جانا چاہئے۔ یہ افغان عوام کے روزگار کا معاملہ ہے اور افغان معاشرے کے معاشی مسائل کے حل کے لئے یہ رقوم بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔‘‘

خواتین کی تعلیم کے معاملے پر انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ابھی تک امریکہ کا کوئی واضح مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ بقول ان کے امریکہ محض خواتین اور انسانی حقوق کی بات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان انہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ شریعہ کے احکامات اور قانون کے تحت ان حقوق کی حرمت کا خیال رکھیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں طالبان ایک پالیسی وضع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم یہ نہیں کہتے کہ بچیاں اسکول نہ جائیں۔ ہم ایک منصوبہ تشکیل دینے پر مشاورت کر رہے ہیں، اور بہت جلد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔''

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG