رسائی کے لنکس

طالبان امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نئی شروعات چاہتے ہیں، ترجمان سہیل شاہین

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ "ہم نئی شروعات چاہتے ہیں۔ اب یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کام کرے گے یا نہیں۔ وہ افغانستان میں غربت کے خاتمے، تعلیم کے شعبے، اور افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کو کھڑا کرنے میں مدد کرتا ہے یا نہیں۔


فائل فوٹو
03:28 16.9.2021

افغانستان میں القاعدہ کے دوبارہ قدم جمانے کے خدشات

ایسے اشاروں مل رہے ہیں کہ القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ، دونوں دہشت گرد گروہوں کے حامیوں نے گزشتہ ماہ طالبان کی جانب سے ملک پر قبضے سے حوصلہ پا کر اپنی نگاہیں افغانستان پر مرکوز کر لی ہیں۔

پچھلے ایک ہفتے کی ابتدائی رپورٹوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ دہشت گردوں کے درمیان ایسی گفتگو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں افغانستان جانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن امریکی انٹیلیجنس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کو کہا کہ کچھ دہشت گردوں نے افغانستان کی جانب اپنا پہلے ہی سفر شروع کر دیا ہے۔

سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن نے واشنگٹن کے باہر منعقدہ انٹیلی جنس کے ایک اجلاس میں پینل ڈسکشن کے دوران کہا، "ہم پہلے ہی سے افغانستان میں القاعدہ کی ممکنہ نقل و حرکت کے کچھ آثار دیکھ رہے ہیں۔

"لیکن یہ ابتدائی دن ہیں،" انہوں نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوبارہ تشکیل پا سکتی ہے۔ "ہم واضح طور پر اس پر بہت گہری نظر رکھیں گے۔"

امریکی انٹیلی جنس حکام نے القاتدہ کے ارکان کی افغانستان کی طرف واپسی کے متعلق تفصیلات بتانے، یا اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا کہ وہ کہاں سے آ رہے ہیں، جب کہ آن لائن پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں القاعدہ کے امین الحق کو اپنے آبائی وطن ننگرہار کی جانب لوٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ تورا بورا کی لڑائی کے دوران القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے ساتھ تھا۔

ہلاکت کی افواہوں کے باوجود نائن الیون پر ایمن الظواہری کا مبینہ ویڈیو پیغام

دیگر خفیہ ایجنسیوں میں بھی اس بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جیسا کہ اس وقت ایران میں القاعدہ کے کچھ اہم رہنما موجود ہیں جن کے متعلق خدشات ہیں کہ وہ اس گروپ کے سیکنڈ ان کمانڈ سیف العدل کی طرح افغانستان واپس جائیں گے جہاں ان کے مضبوط تعلقات ہیں۔

سی آئی اے کے انتباہ کی طرح دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے بین الاقوامی عہدیداروں اور تجزیہ کاروں کے بھی یہ خدشات ہیں کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اسلامک اسٹیٹ گروپ، القاعدہ اور طالبان کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کے کوآرڈینیٹر ایڈمنڈ فٹن براؤن نے جمعہ کو ایک آن لائن فورم کو بتایا، "اس بارے میں ہونے والی گفتگو شک و شبہے سے بالاتر ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یقینی طور پر ان میں افغانستان جانے کے لیے ایک بہت توانا جوش و جذبہ پایا جاتا ہے۔

واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار چارلس لیسٹر کی طرح دیگر تجزیہ کاروں نے بھی القاعدہ کے اہم حریف گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے حامیوں کی جانب سے افغانستان میں ان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

'القاعدہ نظریاتی طور پر پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوئی ہے'

اس خطرے سے متعلق ایک سوال پر گزشتہ ہفتے وائس آف امریکہ سے بات کرنے والے امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے اور امریکہ کے افغانستان سے انخلا مکمل کرنے سے پہلے ہی، امریکی خفیہ ایجنسیوں نے افغانستان آنے والے غیر ملکی جنگجوؤں سے خبردار کرنا شروع کر دیا تھا۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اب تشویش کی بات یہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں زمین پر ہونے والی پیش رفت ان کی نگاہوں سے اوجھل رہے گی۔

سی آئی اے کے کوہن نے کہا، "افغانستان میں ہماری موجودہ صلاحیت وہ نہیں ہے جو چھ ماہ پہلے یا ایک سال پہلے تھی۔" تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ناقابل عبور رکاوٹ نہیں ہے۔۔

انہوں نے کہا، "ہمیں ایجنسی اور ہمارے شراکت داروں کے ساتھ ان علاقوں میں جہاں جانے کی اجازت نہیں ہے، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کا تجربہ ہے اور ہم زمین پر اپنی موجودگی کے بغیر ایسا کر رہے ہیں۔" انہوں نے کہا "ہم افغانستان میں اسی طرح کے بہت سی طریقوں کا استعمال کریں گے جن کو ہم بنیادی طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ ہم وہاں ممکنہ حد تک کام کرنے کے طریقے بھی تلاش کر لیں گے۔"

اب تک کی خفیہ اطلاعات یہ بتاتی ہیں کہ القاعدہ اور آئی ایس خراسان دونوں اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ مستحکم بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

خطے میں انسداد دہشت گردی کے لیے کام کرنے والے دیگر مغربی عہدیداروں اور امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ القاعدہ مستقبل قریب میں نمایاں طور پر سامنے نہیں آئے گی، تاہم آئی ایس خراسان گروپ کئی مہینوں سے افغانستان اور پڑوسی ممالک میں اپنا انفراسٹرکچر قائم کر رہا ہے۔

03:23 16.9.2021

غنی کے فرار سے افغاننستان میں اقتدار کی پرامن منتقلی کا منصوبہ دھرا رہ گیا، خلیل زاد

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی ایلچی برائے افغان مفاہمت نے کہا ہے کہ اگست کے وسط میں انھوں نے طالبان کے ساتھ آخری لمحات میں ایک معاہدہ طے کیا تھا جس میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی عبوری دور کے معاملات طے پائے، تاکہ سرکش عناصر کو کابل سے باہر رکھا جا سکے۔

لیکن، انھوں نے بتایا کہ صدر اشرف غنی کی جانب سے ملک سے بھاگ نکلنے کے فیصلے کے نتیجے میں یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔

افغان نژاد امریکی خصوصی ایلچی، زلمے خلیل زاد نے یہ انکشاف روزنامہ 'فنانسشل ٹائمز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ 15 اگست کو طالبان کی جانب سے دارلحکومت پر قبضہ کرنے سے چند گھنٹے قبل انھوں نے طالبان دو ہفتے کی مہلت کا معاملہ طئے کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ غنی کے چلے جانے سے شہر میں سیکیورٹی کا ایک خلا پیدا ہو گیا۔ جس کی وجہ سے اس دن اسلام پسند گروپ نے تیزی سے شہر کے اندر قدم جما لیے۔

خلیل زاد نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کی رو سے غنی اس وقت تک اقتدار میں رہتے جب تک مستقبل کی حکومت سے متعلق دوحہ میں کوئی سمجھوتا نہ ہو جاتا؛ باوجود اس بات کے کہ اس وقت تک طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔

طالبان کی تصدیق

طالبان کے ایک اہل کار نے بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں خلیل زاد کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی تفصیل کی تصدیق کی، جہاں ان کا سیاسی دفتر ہوا کرتا تھا۔

طالبان کے ترجمان، سہیل شاہین نے دوحہ سے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ''ہاں، ہماری طرف سے اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ ہماری فوج کابل شہر کے اندر داخل نہیں ہو گی، اور ہم اقتدار کی پر امن منتقلی کے بارے میں بات کرنے پر تیار تھے''۔

خلیل زاد نے 'فنانشل ٹائمز' کو بتایا کہ انھیں کوئی اندازاہ نہیں تھا کہ غنی متحدہ عرب امارات میں سیاسی پناہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی ایلچی نے کہا کہ ''غنی کے جانے کے بعد کابل میں امن و امان سے متعلق سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر طالبان نے کہنا شروع کیا: ''کیا آپ اب کابل کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لیں گے''؟ ''پھر جو کچھ ہوا وہ آپ کو پتا ہے، ہم یہ ذمے داری نہیں لے سکتے تھے''۔

زلمے خلیل زاد نے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ ایک معاہدے پر بات چیت کی، جس سے امریکہ کی افغان جنگ میں تقریباً 20 سال کی شمولیت کے بعد افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔

وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے بھی حالیہ دنوں میں متعدد بار یہ کہا ہے کہ جب صدر غنی ملک سے فرار ہو رہے تھے اور ان دنوں انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ واشنگٹن کے منصوبے سے متفق ہیں۔

اس مہینے کے شروع میں افغانستان کے ایک نیوز چینل 'طلوع' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، غنی نے ملک سے فرار ہونے سے ایک رات پہلے مجھ سے گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ آخری سانس تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

غنی نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات سے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ افغان باشندوں کو چھوڑ دینے پر ان سے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے صدارتی محل کی سیکیورٹی کے مشورے پر عمل کیا۔ سابق صدر نے لاکھوں ڈالر چوری کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔

نگران حکومت

افغان طالبان نے 20 سال قبل امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج کے حملے کے بعد حالیہ دنوں میں اپنی عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے یہ حملہ اس لیے کیا تھا، کیونکہ طالبان نے القاعدہ کے رہنماؤں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

طالبان نے اپنے پہلے دور حکومت میں 1996 سے 2001 کے دوران اپنے انداز کے سخت قوانین نافذ کیے تھے، جس میں ظالمانہ نظام انصاف تھا، افغان اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا تھا، خواتین کو عوامی زندگی سے دور کر دیا گیا تھا اور لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے تھے، جس کے سبب اس وقت افغانستان عالمی تنہائی کا ہدف بن گیا تھا۔

امریکہ اور کئی دوسرے ممالک اب طالبان پر زور دے رہے ہیں کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک عالمی برادری کا حصہ رہے اور کابل میں ان کی زیر قیادت حکومت سفارتی قبولیت حاصل کرے تو انہیں ماضی کا اپنا سخت گیر نظام واپس لانے سے احتراز کرنا ہو گا۔

02:40 15.9.2021

امریکہ کے تین سابق صدور افغان پناہ گزینوں کی امداد کے لیے سرگرم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما، بل کلنٹن اور جارج بش ایک نئے گروپ کے تحت ان افغان پناہ گزینوں کی مدد کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں جو امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ میں آباد کئے جا رہے ہیں۔

امریکہ میں کاروباروں اور امدادی گروپوں کے اتحاد 'ویلکم یو ایس' نے کہا ہے کہ منگل کے روز سے امریکہ کے یہ سابق صدور اور ان کی بیگمات اس گروپ کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔

اتحاد نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امداد اور رضاکاروں کو حرکت میں لاکر ان ہزاروں افغان باشندوں کی امریکہ میں آبادکاری میں مدد دے گا جو افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد امریکہ لائے گئے ہیں۔

ان میں بہت سے پناہ گزین ایسے ہیں جو 20 برس کی جنگ کے دوران، افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجیوں کے ساتھ یا امریکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور اگر وہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں رہتے تو ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔

امریکہ: نئی زندگی شروع کرنے والا افغان پناہ گزین خاندان

امریکہ کے 43ویں صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک بیان میں کہا ہے کہ ہزاروں افغان شہری ایک محفوظ دنیا کی کوشش میں ہمارے ساتھ اگلے محاذ پر کھڑے رہے اور اب انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں 'ویلکم یو ایس' کی مدد اور اس کام پر فخر ہے جو وہ افغان خاندانوں کو دوبارہ آباد کرنے اور انکی زندگیوں کی دوبارہ تعمیر کے لئے کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم اپنے نئے افغان ہمسایوں اور باقی دنیا کو یہ دکھانے کے لیے تیار ہیں کہ کیسے خیر مقدم کرنے کا جذبہ اور کشادہ دلی ہمارے ملک کو عظیم تر بنانے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔"

خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن اور سابق صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کے خیالات جاننے کے لئے ان کے نمائندوں سے رابطہ کیا گیا، لیکن فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

'ویلکم یو ایس' نامی اس کونسل کو 80 سے زیادہ امریکی شخصیات،اداروں اور کاروباروں کی حمایت حاصل ہے جن میں مائیکروسافٹ کارپوریشن، سٹار بکس کارپوریشن، سی وی ایس ہیلتھ کارپوریشن اور ائیر بی این بی نامی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی غیر منافع بخش تنظیمیں، سابق فوجیوں کے گروپ اور نو آبادکاری کے ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ریپبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے متعدد موجودہ اور سابق گورنر اور امریکہ کے ریاستی اور مقامی لیڈر کہہ چکے ہیں کہ وہ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں خوش آمدید کہیں گے۔ تاہم، امیگریشن کے مسائل فی الحال موجود ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ہزاروں افغان شہریوں کو ہوائی جہازوں کے ذریعے افغانستان سے نکالا گیا ہے اور اس پر کافی تنقید بھی ہوئی ہے۔ لیکن،صدر بائیڈن کی انتظامیہ 50,000 کے لگ بھگ پناہ گزینوں کو امریکی فوجی اڈوں پر رہائش مہیا کر رہی ہے اور دیگر امریکہ آنے کے بعد اسی ائیرپورٹ پر امریکی عمارتوں میں رکھے گئے ہیں۔

اسی دوران خسرہ کی وباء کے پیشِ نظر افغانستان سے امریکہ کے لئے مزید پروازیں ابھی معطل کر دی گئی ہیں۔

(اس خبر میں معلومات رائٹرز سے لی گئی ہے)

02:34 15.9.2021

افغانستان کی مدد کے لیے عالمی برادری کے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر عطیات کے وعدے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے تحت پیر کے روز جنیوا میں افغانستان میں انسانی بحران میں گھرے ہوئے ایک کروڑ دس لاکھ افغان باشندوں کی ہنگامی بنیادوں پر مدد کے لیے ہونے والی کانفرنس میں عطیات دہندگان نے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے فنڈ دینے کے وعدے کیے ہیں۔

ان فنڈز کے ذریعے اس علاقے میں پھیلے ہوئے لاکھوں ضرورت مند افراد کی مدد کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد غربت اور پس ماندگی میں مبتلا ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک ماہ قبل طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے بارے میں پہلی اعلیٰ سطحی کانفرنس میں مغربی حکومتوں، بڑے روایتی عطیہ دہندگان اور دیگر نے اپنے وعدوں کا اعلان کیا۔ یہ وعدے 606 ملین ڈالر کی اس رقم سے زیادہ ہیں جس کے متعلق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سال کے آخر تک کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہو گی۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی سے متعلق امر کے سربراہ مارٹن گریفتھس نے وزارتی اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا کہ انسانی اور ترقیاتی امداد کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے وعدے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں سے 606 ملین ڈالر "فلیش اپیل" کے سلسلے میں مانگے گئے ہیں جس کے متعلق اقوام متحدہ کے مہاجرین امور کے سربراہ فلپپو گرانڈی نے پہلے غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچنے کے بعد کہا تھا۔

افغانستان میں زندگیاں بچانے کے لیے فوری امداد کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ افغانستان میں 35 لاکھ بے گھر ہونے والے افغان باشندوں کی انسانی ضروریات کا جائزہ لیں گے، جن میں سے پانچ لاکھ سے زیادہ افراد اس سال کے دوران بے گھر ہوئے ہیں۔

پاکستان اور ایران پر مہاجرین کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کے عہدیداروں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ مزید افغان باشندے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران میں پناہ لے سکتے ہیں، جہاں پہلے ہی بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین موجود ہیں جو گزشتہ عشروں کے دوران جنگ سے بچنے کے لیے اپنے ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

گریفتھس نے عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ پیر کے روز کیے جانے والے اپنے وعدوں کو جتنی جلدی ممکن ہو سکے پورا کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقوم افغان باشندوں کے لیے 'لائف لائن' کی حیثیت رکھتی ہیں جن کے پاس نہ تو خوراک ہے، نہ ہی انہیں صحت کی دیکھ بھال اور تحفظ میسر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس نے افغان عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ "افغانستان کو ایک طویل اور مشکل راستے کا سامنا ہے" اور یہ "سفر اپنے اختتام سے بہت دور ہے۔"

ترکی پہنچنے والا افغان مہاجرین کا ایک گروپ

خدشہ ہے کہ پچھلے مہینے افغان حکومت کے خاتمے، طالبان کے اقتدار پر قبضے اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری کے بعد افغانستان مزید قحط اور معاشی تباہی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستیں

افغانستان کے بارے میں ملنے والی رپورٹوں سے طالبان اور وسطی ایشیا کی کچھ ریاستوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں پتا چلتا ہے۔ طالبان کے نائب وزیراعظم مولوی عبدالسلام حنفی نے پیر کے روز ایک ویڈیو کانفرنس میں ترکمانستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ راشد میریدوف کے ساتھ انسانی امداد سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

طالبان کے دوحہ میں مقیم ایک ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ مولوی عبدالسلام حنفی نے ترکمانستان کا شکریہ ادا کیا اور راشد میردوف کو دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ترکمانستان نے افغانستان کے لیے انسانی امداد جاری رکھنے کا بھی وعدہ کیا۔

اسی دوران ازبکستان نے منگل کے روز تقریباً 1300 ٹن امداد ٹرین کے ذریعے افغانستان بھیجی ہے۔ اس امدادی کھیپ میں خوراک، ادویات اور کپڑے شامل ہیں جنہیں ایک تقریب میں افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

طالبان کی بین الاقوامی برداری سے مدد کی اپیل

طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے اندر موجود افغان باشندوں کی مدد کریں۔ وہ پیر کے روز یو این ایچ سی آر کے چیف فلپپو گرانڈی سے بات کر رہے تھے۔

فلپپو گرانڈی، طالبان کے افغانستان میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد کابل کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے پہلے اعلی عہدے دار ہیں۔

طالبان کا عالمی برادری سے افغانستان کی امداد جاری رکھنے کا مطالبہ

کابل پہنچنے پر گرانڈی نے کہا کہ وہ وہاں انسانی ضروریات اور 35 لاکھ بے گھر افغان افراد کی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے پیر کو اپنے دفتر میں مہاجرین اور وطن واپس آنے والوں کے لئے طالبان کے قائم مقام وزیر خلیل الرحمٰن حقانی سے بھی ملاقات کی ہے۔

اسی دوران افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے منگل کے روز طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امیر خان متقی نے دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی خاص طور پر انسانی، معاشی اور لوگوں کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے جیسے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

کوئٹہ آنے والے افغان پناہ گزین کس حال میں ہیں؟

چار دہائیوں کی جنگ سے افغانستان کو ناقابل بیان نقصان پہنچا، ریڈکراس

افغانستان کے چار روزہ دورے کے اختتام پر ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے صدر پیٹر مورر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئی سی آر سی کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے دنیا کے کئی جنگی علاقوں میں اذیت، تکلیف اور مایوسی دیکھی ہے۔ لیکن وہ بیان نہیں کر سکتے کہ چار دہائیوں کی جنگ نے اس قوم کے لوگوں کو کس قدرنقصان پہنچایا ہے۔

مزید لوڈ کریں

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG