رسائی کے لنکس

یہ خام خیالی ہوگی کہ طالبان لبرل مغربی ریاست کا ماڈل ہوں گے، ہما بقائی


طالبان محافظ حامد کرزئی ایئرپورٹ پر فرائض انجام دیتے ہوئے۔ 31 اگست 2021 (فائل فوٹو)

طالبان نے منگل کے روز اپنی کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، نائب وزراء کی اس فہرست میں کسی خاتون کا نام شامل نہیں ہے، حالانکہ اس ماہ کے شروع میں کابینہ میں تمام مرد وزراء کی شمولیت پر دنیا کے بہت سے ملکوں نے نکتہ چینی کی تھی۔ لیکن، ایسا لگتا ہے کہ طالبان عالمی سطح پر اس تنقید سے متاثر نہیں ہوئے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے درمیان طالبان کے رویّے کے حوالے سے مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کی ممتاز تجزیہ کار اور عالمی امور کی ماہر ڈاکٹر ہما بقائی کہتی ہیں کہ اگر کوئی یہ توقع کر رہا ہے کہ طالبان ایک لبرل مغربی ریاست کا ماڈل ہونگے تو یہ خام خیالی ہے۔ لیکن، جس قدر لچک کا وہ اظہار کر رہے ہیں وہ خوش آئند ہے اور اسے بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان کی جو اعلیٰ قیادت ہے وہ تو شاید بین الاقوامی حساسیت سے آگاہ ہو، لیکن انکا جو دوسرا اور تیسرا کیڈر ہے، اسکی سوچ کا انداز مختلف ہے۔ اور یہ وہ کیڈرز ہیں جن کے خلاف اعلیٰ قیادت نہیں جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نظریاتی فوج ہیں، کوئی باضابطہ فوج نہیں ہے کہ احکامات کی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں ان کا کورٹ مارشل کردیا جائے۔

اس لئے، بقول تجزیہ کار، ان کی قیادت اس حد سے آگے نہیں جاسکتی جہاں انکے اپنے لوگ ان سے متنفر ہو جائیں۔ وہ توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں احساس ہے کہ یہ بیس سال پہلے والا افغانستان نہیں ہے۔

لیکن، ان کے الفاظ میں، ''میرے خیال میں یہ توقع غیرحقیقت پسندانہ ہو گی کہ وہ ایک لبرل ماڈل اسٹیٹ بنائیں گے۔ وہ اب ایک زمینی حقیقت ہیں اور دنیا کو انہیں کے ساتھ کام کرنا ہے''۔

کابینہ میں خواتین کو اب تک شامل نہ کرنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ہمابقائی نے کہا کہ دنیا کو دکھانے کے لئے ایک دو خواتین کو لے آئیں گے۔ لیکن، خواتین پر، بقول ان کے، اسی نوعیت کی قدغنیں ہوں گی جو سعودی عرب اور ایران میں بھی نظر آتی ہیں۔ لیکن، وہ سمجھتی ہیں کہ جتنا کچھ اب تک خواتین کو مل چکا ہے وہ مکمل طور سے ختم نہیں ہو سکے گا۔

انکا کہنا تھا کہ انکو انگیج کرکے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ ورنہ اگر انہیں دیوار سے لگا دیا گیا جہاں انکے پاس کھونے کے لئے کچھ نہ رہ جائے تو پھر عدم استحکام اور افراتفری کو روکنا ممکن نہ ہو گا۔

ڈاکٹر حسین یاسا ایک افغان صحافی اور مصنف ہیں۔ وائس آف امریکہ سے طالبان کی کابینہ میں توسیع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں نمائشی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب کی شراکت سے بننے والی حکومت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس میں صرف آپ کے نظریات سے اتفاق کرنے والے ہی شامل نہ ہوں، بلکہ آپ سے اختلاف رکھنے والے بھی موجود ہوں۔

افغانستان میں عام معافی کے باوجود، بقول ان کے، اس دعوے پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور شمالی افغانستان میں طالبان کے مخالفین کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر حسین یاسا نے کہا کہ خواتین سے نہ جانے انکا کیا مسئلہ ہے۔ اور خواتین کے ساتھ انکا نامناسب رویہ گزشتہ ایک ماہ سے کھل کر دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG