رسائی کے لنکس

رینسم ویئر چلانے والے ایک مشتبہ گروپ نے سات کروڑ ڈالر بطور تاوان مانگ لیے


رینسم ویئر کی تشبیہ، دیا بخیت

رینسم ویئر چلانے والے ہیکرز کے ایک گروپ نے رینسم ویئر سے متاثر ہونے والے کمپیوٹر سسٹمز کو کھولنے کے بدلے سات کروڑ ڈالر کرپٹو کرنسی میں مانگ لیے۔

یہ مطالبہ اتوار کے روز 'ڈارک ویب' میں مبینہ طور پر روس سے تعلق رکھنے والی ایک ویب سائٹ 'آر ایول گینگ' پر سامنے آیا۔

تفصیلات کے مطابق، جمعے کے روز دنیا بھر میں سینکڑوں نجی کمپنیوں اور سرکاری ایجنسیوں کے کمپیوٹر سسٹمز پر رینسم ویئر کا حملہ ہوا۔

رینسم ویئر ایک طرح کا سافٹ ویئر ہے جس کے ذریعے حملہ آور ہیکرز کمپیوٹر نظام پر قبضہ کر لیتے ہیں اور پھر انہیں کھولنے کے بدلے رینسم یعنی تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس حملے کی زد میں امریکی شہر میامی سے تعلق رکھنے والی سافٹ ویئر کمپنی کیسیا کا کمپیوٹر نظام بھی شامل ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ حملہ بہت باریکی سے کیا گیا۔

کیسیا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے صارفین کے لیے کمپنی کی جانب سے ایک 'ٹول' یعنی سافٹ ویئر دستیاب ہے، جس کی مدد سے وہ پرکھ سکتے ہیں آیا اس رینسم ویئر کے حملے میں ان کے کمپیوٹر تو متاثر نہیں ہوئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پیر کے روز کے اختتام تک اپنا تمام ڈیٹا واپس آن لائین لے آئے گی۔

امریکہ میں تاوان کے لیے سائبر حملے ایک نیا چیلنج
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:43 0:00

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس سال مئی کے اواخر میں دنیا کے سب سے بڑے گوشت کی پراسیسنگ کرنے والے گروپ،جے بی ایس پر رینسم ویئر حملہ کرنے والا گروہ بھی آر ایول گینگ ہی تھا۔

ہفتے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے پچھلے ماہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس حملے میں روس کا تعلق ہوا تو امریکہ اسے ذمہ دار ٹھہرائے گا۔

انہوں نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر اس حملے کا روس کو علم تھا یا اس کی وجہ سے یہ حملہ ہوا تو میں یہ پیوٹن کو بتا چکا ہوں کہ ہم اس کا جواب دیں گے۔‘‘

اس رپورٹ میں کچھ مواد رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا۔

XS
SM
MD
LG