رسائی کے لنکس

گرمی کے سبب ہر سال 10 ہزار اموات کی وجہ موسمیاتی تغیر ہے: رپورٹ


دنیا میں گرمی کی شدت سے ہونے والی اموات میں سے ایک تہائی کا تعلق براہ راست عالمی حدت میں اضافے سے ہے۔ یہ بات موسمیاتی تبدیلی کے انسانوں پر اثرات سے متعلق ایک تازہ ترین مطالعاتی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

مطالعے میں شریک سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جانی نقصان کا یہ تخمینہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے جانی نقصان کا صرف ایک حصہ ہے۔ باقی ماندہ افراد کی ہلاکت کی وجہ عالمی حدت بڑھنے سے موسموں کی شدت میں اضافہ ہے، جس سے طوفان، سیلاب اور خشک سالی پیدا ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں درجنوں سائنس دانوں نے حصہ لیا۔ انہوں نے سن 1991 سے 2018 کے دوران دنیا کے 732 شہروں میں گلوبل وارمنگ کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار اکھٹے کیے۔

سائنسی جریدے 'نیچر کلائمیٹ چینج ' میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران آب و ہوا کی تبدیلی سے ہونے والی کل ہلاکتوں میں سے 37 فی صد افراد درجہ حرارت بڑھنے یا گرمی کی لہر کے سبب ہلاک ہوئے۔

جون 2015 میں کراچی میں گرمی کی لہر سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تصویر میں لو لگنے سے ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔ 26 جون 2015
جون 2015 میں کراچی میں گرمی کی لہر سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تصویر میں لو لگنے سے ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔ 26 جون 2015

رپورٹ کے مطابق ان شہروں میں گلوبل وارمنگ نے سالانہ لگ بھگ 9700 لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کیے۔ مگر دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ یہ ڈیٹا صرف 732 شہروں کی ترجمانی کرتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی برن یونیورسٹی میں وبائی امراض کے مطالعے کی سائنس کی ایک ماہر اینا ویکڈہ کیبرا کہتی ہیں کہ ان اموات کا تعلق درحقیقت گرمی سے ہے جنہیں تھوڑی سی توجہ سے بچایا جا سکتا تھا۔

آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں جنم لینے والی گرمی کی لہروں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں جنوبی امریکہ کے شہروں میں ہوئیں۔ جب کہ جنوبی یورپ اور ایشیا کے جنوبی حصے گرمی کا دوسرے بڑے اہداف تھے۔

فرینکفرٹ جرمنی کی ایک پہاڑی پر نصب ٹربائیں گہری دھند اور بادلوں میں لپٹے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ 6 جنوری 2021
فرینکفرٹ جرمنی کی ایک پہاڑی پر نصب ٹربائیں گہری دھند اور بادلوں میں لپٹے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ 6 جنوری 2021

رپورٹ کے مطابق برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں شدید گرمی نے سب سے زیادہ انسانی زندگیاں نگلیں، جن کی سالانہ اوسط 239 ہے۔

امریکہ میں گرمی کی وجہ سے ہونے والی 35 فی صد ہلاکتوں کا تعلق براہ راست آب و ہوا کی تبدیلی سے ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے 200 شہروں میں ہر سال 1100 سے زیادہ ہلاکتیں گرمی سے ہوتی ہیں، جن میں 141 سالانہ اوسط ہلاکتوں کے ساتھ نیویارک سر فہرست ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہر سے سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکی ریاست ہوائی کے شہر ہونولولو میں ہوئیں جو 82 رہیں۔

پاکستان گلوبل وارمنگ کے نشانے پر، حل کیا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:53 0:00

یونیورسٹی آف وسکانسن میں گلوبل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جوناتھن پیٹز کہتے ہیں کہ لوگ مسلسل اس بارے میں ثبوت مانگتے ہیں کہ آب وہو ا کی تبدیلی ہماری صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ مطالعہ، جو وباؤں سے متعلق اعدادو شمار جمع کرنے کے طریقے سے ترتیب دیا گیا ہے، اس سوال کا براہ راست جواب فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹرجوناتھن پیٹز، جو اس مطالعے میں شامل نہیں تھے، کہتے ہیں کہ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے بڑھتی گرمی کی لہروں سے موجودہ وقت میں اموات کی پہلی تفصیلی رپورٹس میں سے ایک ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG