رسائی کے لنکس

'ورلڈ کپ 2011 کا فائنل فکس تھا، سری لنکا نے بھارت کو کپ فروخت کیا تھا'


فائل فوٹو

سری لنکا کے سابق وزیرِ کھیل نے میچ فکسنگ کا ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلا گیا 2011 کے ورلڈ کپ کا فائنل میچ فکس تھا۔ سری لنکا نے بھارت کو ورلڈ کپ 'فروخت' کیا تھا۔

سری لنکا کے سابق وزیر کھیل مہندآنندہ الوتھ گماگے نے یہ انکشاف جمعرات کو ایک مقامی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔ مہندآنندہ 2011 میں سری لنکا کے وزیر کھیل تھے جب لنکن ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت سے میچ ہار گئی تھی۔

مہندآنندہ 2010 سے 2015 تک وزیر کھیل رہے جب کہ اس وقت وہ بجلی اور متبادل توانائی کے وزیر ہیں۔ سن 1996 کا ورلڈ کپ جیتنے والے وکٹ کیپر ارجنا رانا تنگا کے بعد وہ ورلڈ کپ 2011 کو فکس قرار دینے والی دوسری اہم شخصیت ہیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق سری لنکا کے سابق وزیرِ کھیل کے اس بیان سے کرکٹ حلقوں میں میچ فکسنگ تنازعات پر ایک مرتبہ پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ سابق وزیر نے انکشاف کیا کہ انہیں میچ فکس ہونے کا تب بھی یقین تھا جب وہ وزیر کھیل تھے۔

انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ اس وقت یہ انکشاف نہیں کرنا چاہتے تھے مگر اب انہیں لگتا ہے کہ یہ سب بتانے کا یہی صحیح وقت ہے۔

انہوں نے کہا وہ تمام کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ میں ملوث نہیں سمجھتے لیکن یہ سچ ہے کہ کچھ کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث تھے۔

ایک سوال کے جواب میں مہندآنندہ کا کہنا تھا کہ 2011 میں ورلڈ کپ کا فائنل ہم جیت رہے تھے لیکن اچانک ایک ڈرامائی موڑ آیا اور شاید ہم جان بوجھ کر ہم یہ میچ ہار گئے۔

یاد رہے کہ 2011 کے عالمی کپ کا فائنل ممبئی کے 'ون کھیڑے اسٹیڈیم' میں کھیلا گیا تھا جس میں سری لنکا، بھارت سے 6 وکٹوں سے مات کھا گیا تھا۔

اس سے قبل رانا تنگا، جو اس میچ ایک مبصر کی حیثیت سے اسٹیڈیم میں موجود تھے، نے بھی سری لنکا کی بھارت کے ہاتھوں شکست کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

رانا تنگا نے جولائی 2017 میں کہا تھا کہ انہیں سری لنکا کی شکست سے بہت تکلیف پہنچی تھی۔ ان کے بقول "مجھے میچ فکسنگ کا شک تھا اور ہے۔ لہٰذا اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ 2011 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں سری لنکا کے ساتھ کیا ہوا تھا۔"

رانا تنگا نے مزید کہا تھا کہ میں سب باتیں سب کو بتا بھی نہیں سکتا لیکن کسی نہ کسی دن انہیں ظاہر ضرور کروں گا۔

ورلڈ کپ 2011 کے فائنل میں سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصآن پر 274 رنز بنائے تھے۔ بھارت اس میچ میں ابتدائی طور پر بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکا تھا۔ حتیٰ کہ اسٹار بیٹس مین سچن ٹنڈولکر بھی دوسرے کھلاڑیوں کی طرح بڑا اسکور نہیں کر سکے تھے اور صرف 18 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تھے۔

رانا تنگا کے بقول "اس کے بعد بھارت نے کھیل کو ڈرامائی انداز میں موڑ دیا اور سری لنکا ناقص فیلڈنگ اور کمزور باؤلنگ کی آڑ میں میچ ہار گیا تھا۔"

دوسری جانب بھارتی کھلاڑیوں نے میچ فکسنگ کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

'اے ایف پی' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سری لنکا میں کرکٹ باقاعدگی سے کرپشن اور میچ فکسنگ سمیت دیگر تنازعات میں گھری رہی ہے۔ کرکٹ میں بدعنوانی اور میچ فکسنگ جیسے معاملات کو روکنے کی غرض سے بورڈ نے سخت قوائد کا اعلان کرتے ہوئے جرمانے کی سزائیں بھی متعارف کرائی تھیں۔

رواں ماہ کے شروع میں سری لنکن کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل مبینہ بدعنوانی پر تین نامعلوم سابقہ کھلاڑیوں سے تفتیش کر رہی ہے۔

سری لنکا کے ایک اور سابق وزیر کھیل ہیرن فرنینڈو نے بھی کہا ہے کہ سری لنکا کی کرکٹ شروع سے اب تک ناجائز سیاسی یا تجارتی فائدے اٹھانے کے سبب بری طرح متاثر ہے۔ ان کے بقول آئی سی سی، سری لنکا کو دنیا کی بدعنوان ترین ٹیموں میں شمار کرتا ہے۔

سری لنکا کے سابق فاسٹ بولر دلہارا کو بدعنوانی کے الزام میں 2018 میں معطل کر دیا گیا تھا۔

سابق کپتان اور سابق چیف سلیکٹر سنتھ جے سوریا اور سابق فاسٹ بولر نووان زویسا کے بعد دلہارا آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی کوڈ کے تحت سزا پانے والے تیسرے سری لنکن کھلاڑی تھے۔

اس سے قبل جے سوریا میچ فکسنگ تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر مورد الزام ٹھیرائے جا چکے ہیں۔ آئی سی سی نے ان پر دو سال تک کرکٹ نہ کھیلنے کی پابندی بھی عائد کی گئی تھی جب کہ زویسا کو میچ فکسنگ کے الزام میں معطل کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG