رسائی کے لنکس

صحافی عزیز میمن قتل کیس میں نئی 'جے آئی ٹی' بنانے کی سفارش


عزیز میمن کو گزشتہ برس فروری میں قتل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن نے گزشتہ برس صوبۂ سندھ میں قتل ہونے والے صحافی عزیز میمن کے کیس میں نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی سفارش کر دی ہے۔

خیال رہے کہ سندھ کے علاقے محراب پور سے تعلق رکھنے والے عزیز میمن کو گزشتہ برس فروری میں قتل کر دیا گیا تھا جس پر مقامی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

قومی اسمبلی کی کمیٹی نے کیس کے مدعی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انہیں رینجرز کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

قائمہ کمیٹی میں سندھ پولیس کی جانب سے ڈی آئی جی بے نظیر آباد عرفان بلوچ نے بتایا کہ مقتول صحافی کے قتل میں ملوث دو ملزمان اب تک گرفتار نہیں ہو سکے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے ان کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر انعامی رقم مقرر کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس کیس میں چھ ملزمان پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں جن کے خلاف مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ دو برس گزر جانے کے بعد بھی کیس کا حل نہ ہونا باعثِ شرم ہے۔

کمیٹی میں یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ اگر تفتیش کو درست طریقے سے آگے نہیں بڑھایا جاتا تو اس کیس کو کسی دوسرے صوبے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی صحافی روایتی میڈیا سے ہٹ کر غیر روایتی میڈیا کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:54 0:00

تاہم کمیٹی نے غور و خوض کے بعد تجویز دی ہے کہ عزیز میمن کے کیس کی دوبارہ تحقیقات کے لیے نئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے جس میں خیبر پختونخوا، سندھ اور وفاق میں تعینات افسران کو شامل کیا جائے۔

’تفتیش پر کیسے اطمینان کر لیں، پولیس افسران فون اٹھانا بھی گوارا نہیں کرتے‘

نئی جے آئی ٹی کی تشکیل، مقتول صحافی عزیز میمن کے بھائی حفیظ میمن کی جانب سے اب تک کی تفتیش پر عدم اطمینان ظاہر کرنے پر کی جا رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں حفیظ میمن کا کہنا تھا کہ کیس اب بھی 14 مہینے پہلے والی سطح پر ہی ہے جب پولیس نے اس کیس میں کرائے کے قاتلوں کو گرفتار کیا تھا۔

ان کے بقول لیکن اب تک مرکزی ملزم مشتاق سہتو اور اس کا بھائی اشفاق سہتو گرفتار نہیں ہوئے جنہوں نے مبینہ طور پر گرفتار ملزمان کو قتل کرنے کے لیے پیسے دیے تھے۔ ان کی گرفتاری تک قتل کے اصل محرکات سے پردہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ حد تو یہ ہے کہ پولیس افسران اس معاملے پر تفتیش سے متعلق جاننے کے لیے فون اٹھانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے اس معاملے کی تحقیقات میں دوبارہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔

’مقتول بھائی کے بیان کو اہمیت دینے کے بجائے ملزم کے بیان پر کہانی گھڑی جارہی ہے‘

حفیظ میمن نے مزید کہا کہ ان کے بھائی نے اپنے قتل سے پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ انہیں محراب پور میں خواتین کے گھروں پر قبضے کے خلاف احتجاج کی کوریج پر وہاں کے رکن قومی اسمبلی سید ابرار علی شاہ کے کارندوں نے جان سے مارنے کی دھکمیاں دی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسی طرح مارچ 2019 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ایک ٹرین مارچ کیا گیا تھا جس پر ان کے بھائی نے ایک ٹی وی رپورٹ تیار کی تھی۔ اس رپورٹ میں بعض خواتین نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹرین مارچ کے دوران محراب پور میں استقبال کے لیے آنے والوں کو کرائے پر لایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق استقبال کے لیے آنے والوں سے فی شخص دو ہزار روپے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن انہیں 200 روپے دیے گئے تھے۔

عزیز میمن کے بھائی کے بقول اس رپورٹ پر بھی پیپلز پارٹی کے بعض مقامی رہنماؤں کی جانب سے انہیں جان سے مارنے کی دوبارہ دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے اسلام آباد پہنچ کر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اُنہیں تحفظ دیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود بھی انہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

مقتول کے بھائی حٖفیظ میمن کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بھائی کے اس بیان پر کوئی توجہ دینے یا تفتیش کا آغاز یہاں سے کرنے پر کوئی دھیان دینے کو تیار ہی نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کرائے کے قاتلوں کو پکڑ کر کیا ملا، ہمیں تو یہ معلوم کرنا ہے کہ اصل میں یہ منصوبہ کس نے بنایا، سازش کس نے تیار کی۔

حفیظ میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اصل محرکات تک پہنچنے سے گریز کر رہی ہے۔ لہٰذا وفاق کی سطح پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی اس معاملے کی تہہ تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ ایک جانب سندھ پولیس میرے مقتول بھائی کے بیان کو اہمیت دینے کو تیار نہیں جب کہ دوسری جانب گرفتار ملزم کے اس بیان پر کہانی گھڑی جا رہی ہے کہ اس نے مقتول کو خواتین کے ساتھ برے سلوک پر قتل کیا۔"

'قاتلوں تک پہنچنا اولین ترجیح ہے'

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکنِ قومی اسمبلی اور اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن کی رکن ناز بلوچ نے کہا کہ سندھ پولیس نے اس معاملے پر تحقیقات کی ہیں، اس کے لیے جے آئی ٹی بھی صوبائی حکومت نے تشکیل دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ دو کے سوا تمام ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کوشاں ہے۔

ناز بلوچ کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بہت زیادہ سیاست زدہ کیا گیا اور اس میں سیاسی جماعتوں کو منسلک کیا گیا تو اس معاملے پر پیپلزپارٹی نے خود تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ مقتول کے خاندان کو انصاف ملے، لہٰذا صوبائی حکومت پہلے دن سے ہی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات پر زور دے رہی ہے۔

سولہ فروری 2020 کو نوشہرو فیروز کی ایک نہر سے سندھی روزنامہ 'کاوش' اور ٹی وی چینل 'کے ٹی این' سے وابستہ صحافی عزیز میمن کی لاش ملی تھی جن کے گلے کے گرد تار بندھی ہوئی تھی۔

چھپن سالہ عزیز میمن تقریباً 30 برس سے صحافت سے وابستہ تھے اور ان کے قتل پر نہ صرف ملکی بلکہ عالمی صحافتی تنظیموں نے بھی مذمت اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG