رسائی کے لنکس

کیا حکومتی اقدامات سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیں جمود کا شکار ہو گئی ہیں؟ 


فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے ضلعی ترقیاتی کونسلز کے انتخابات کے سبب سیاسی جماعتیں ایک بار پھر سے سرگرم تو ہو گئی ہیں۔ البتہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی تنظیمیں ابھی بھی سیاسی جمود کا شکار ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے غیر فعال ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان جماعتوں کی اعلیٰ قیادت یا تو جیلوں میں ہے۔ یا پھر انہیں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ جب کہ دوسرے درجے کی قیادت پر مختلف پابندیاں عائد ہیں۔ جس کی وجہ سے سیاسی کارکن خوف زدہ ہیں یا پھر بہت زیادہ محتاط ہیں۔

تجزیہ کاروں کے بقول علیحدگی پسند کیمپ پوری طرح انتشار میں مبتلا نظر آ رہے ہیں اور عام لوگوں میں شامل اس کے حامی پریشان اور مایوسی کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو وفاقی حکومت کی طرف سے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے اور ریاست کو وفاق کے زیرِ نگرانی دو حصوں میں تقسیم کیے جانے کے بعد سے وادی میں سیاسی سرگرمیاں تعطل کا شکار تھیں۔

علیحدگی پسند قیادت مسلسل زیرِ حراست

استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے قائدین مرکزی حکومت کے اقدام سے قبل کشمیر کی سیاست پر حاوی نظر آ رہے تھے۔ خاص طور پر مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں، جسے بھارت سے آزادی کی تحریک کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں ان کا سکہ خوب چلتا تھا۔

بھارتی حکومت نے آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے سے کئی ماہ پہلے جماعت اسلامی جموں و کشمیر اور قوم پرست جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کو غیر قانونی تنظیمیں قرار دے کر ان کی قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا تھا۔

قدامت پسند کشمیری خواتین کی تنظیم 'دخترانِ ملت' کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی اور ایک اور سرکردہ آزادی پسند سیاسی رہنما شبیر احمد شاہ بھی گزشتہ تین برس سے مختلف الزامات کے تحت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔

ان کے اہل خانہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور پاکستان نے مبینہ طور پر اُن کی تیزی کے ساتھ بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور مطالبہ کیا ہے کہ یا تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ یا پھر ان پر بین الاقوامی قوانین کے تحت مقدمے چلائے جائیں۔

فعالیت کی توقع رکھنا غیر موزوں

تجزیہ کار اور یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہ قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے سابق پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی دو ہی تنظیمیں جماعتِ اسلامی اور جے کے ایل ایف قلیدی افراد پر مشتمل تنظیمیں ہیں. ان کے بنیادی ڈھانچے کافی مضبوط رہے ہیں۔ ان کے بقول حریت کانفرنس محض استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی تنظیموں کا ایک اتحاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جے کے ایل ایف دونوں کو دو سال پہلے حکومت نے غیر قانونی تنظیمیں قرار دے کر ان پر پابندی عائد کی تھی۔ تب سے ان سے وابستہ لوگ زیرِ عتاب ہیں۔ ان کے بقول ان سے فعالیت کی توقع رکھنا موزوں نہیں۔

شیخ شوکت کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقامی اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے دوسرے ادارے غالباً حکومت اور مختلف سرکاری اداروں کے دباؤ میں آکر ان تنظیموں کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیانات تک کو نظر انداز کر رہے ہیں. یا پھر ان میں اس قدر ترامیم کر کے انہیں اندرونی صفحات میں چھاپ دیتے ہیں کہ ان کی افادیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بلکہ قارئین انہیں پڑ ھ ہی نہیں پاتے۔

علیحدگی پسند قیادت کے لیے واپسی کا مرحلہ

شیخ شوکت کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ تنظیمیں مستقبل قریب میں دوبارہ منظم اور متحرک ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت جو حالات ہیں اور زمینی سطح پر گزشتہ دو سال میں جو کوئی بھی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہو پائی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ جو کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کے احیا کے لیے موقع فراہم کرتی ہے۔

لیکن ان کے بقول علیحدگی پسند کیمپ کے حامی عام لوگ اور اس کے رہنماؤں کے بعض پُرعزم کارکن بھی یہ شکایت کر رہے ہیں کہ وہ ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے پر ان کی رہنمائی کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔

تاہم شیخ شوکت حسین کا کہنا ہے کہ کم از کم بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی سے فعالیت کی توقع رکھنا ناموزوں بلکہ عبث ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اُن کی صحت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی حآلت میں ہیں ہی نہیں۔

92 سالہ سید علی شاہ گیلانی نے گزشتہ سال جون میں غیر متوقع طور پر کُل جماعتی حریت کانفرنس کے اُس دھڑے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے وہ چیئرمین مقرر تھے۔

'میں تھکا ضرور ہوں ہارا نہیں'

سید علی شاہ گیلانی نے اپنے ساتھیوں کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ حریت کانفرنس کی موجودہ صورتِ حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے وہ اس فورم سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

ان کے بقول وہ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے ساتھ ساتھ اس فورم کے ساتھیوں کی کارکردگی کے لیے جوابدہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

سید علی شاہ گیلانی نے اس نکتہ چینی کا کہ 5 اگست 2019 کے بعد وہ بھی لوگوں کی رہنمائی کرنے میں ناکام رہے، جواب دیتے ہوئے اپنے خط میں کہا تھا کہ وہ جسمانی کمزوری اور مختلف بیماریوں کا شکار ہیں اس کے باوجود ان کے جذبہ حریت میں کمی نہیں آئی۔

انہوں نے اس کھلے خط میں حریت کانفرنس (گیلانی) کی اس سُستی اور غیر فعالیت کے لیے اپنے ساتھیوں کو موردِ الزام ٹھیرایا تھا۔

بعد ازاں بعض ناقدین کے ان پر کشمیر میں جاری تحریکِ مزاحمت سے منہ موڑنے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا اور کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک تحریکِ آزادی کشمیر سے جڑے رہیں گے اور اس ضمن میں خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

کشمیریوں کی پسندیدہ غذا 'ندرو'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:22 0:00

'کوششیں تھوڑی سی ماند پڑ گئی ہیں، لیکن ختم نہیں ہوئیں​'​

حریت کانفرنس (میر واعظ) کی مجلسِ عاملہ کے رکن مولوی مسرور عباس انصاری اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی تنظیمیں جمود کا شکار ہیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے اور اس کا حل ان کا مقصد ہے۔ اس کے لیے ان کی کوششیں اگرچہ بین الاقوامی اور مقامی سطح پر تھوڑی سی ماند پڑ گئی ہیں۔ لیکن ختم نہیں ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے بعد بھارت کی سیاسی قیادت خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جو مؤقف اختیار کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر ختم ہو گیا ہے، عسکریت پسندی ختم ہو گئی ہے اور اب جموں و کشمیر میں امن و امان آئے گا۔ وہ تو ہوا نہیں۔

ان کے بقول ریاست میں زمینی سطح پر کسی بھی حیثیت سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ آج بھی مر رہے ہیں۔ بھارت کی سیکیورٹی فورسز آج بھی لوگوں کو مار رہی ہیں۔ مسائل اسی طرح سے موجود ہوئے ہیں۔

'دہشت گردوں کا نام و نشان تیزی کے ساتھ مٹ رہا ہے​'

حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ نریندر مودی حکومت نے کشمیری علیحدگی پسند قیادت اور جماعتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

پارٹی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے بتایا کہ دیکھا گیا ہے کہ حالیہ ضلع ترقیاتی انتخابات میں جہاں نام نہاد مین اسٹریم جماعتوں کے مقابلے میں بی جے پی کو زیادہ ووٹ ملے اور یہ سب سے بڑی واحد پارٹی کے طور پر ابھری۔ وہیں 5 اگست 2019 کے بعد چشمِ فلک نے یہ بھی دیکھا کہ پاکستان کی خیرات پر پلنے والی کشمیری جماعتیں اور ان کے رہنما ایسے غائب ہو گئے ہیں۔ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

ان کے بقول دہشت گردوں کا نام و نشان بھی تیزی کے ساتھ مٹ رہا ہے۔ یہ نریندر مودی کا ہی کرشمہ ہے۔

نئے طوفان کا پیش خیمہ

مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے مقامی رہنما محمد یوسف تاریگامی خبر دار کرتے ہیں کہ اگر سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کو ہٹایا نہیں جاتا، علیحدگی پسند رہنما رہا نہیں ہوتے۔ بے روزگاری کے اہم مسئلے پر فوری طور پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ نئی نسل میں بڑھتی ہوئی بے چینی دور نہیں کی جاتی ہے اور یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان تیزی کے ساتھ بندوق کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں۔ تو لگتا ہے نریندر مودی حکومت ایک ایسی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھے گی جو جموں و کشمیر میں ایک نئے اور زیادہ خطرناک طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG