رسائی کے لنکس

افغانستان کی صورت حال کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟


17 ستمبر کو دوشنبے میں 'ایس سی او' کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم عمران خان نے کی۔

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا جب افغانستان اپنی تاریخ کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور دنیا کے ملکوں، خاص طور سے خطے کے ملکوں میں، یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ افغانستان کی صورت حال آنے والے دنوں میں ان پر کس طرح اثر انداز ہوگی۔

تجزیہ کاروں میں اس بارے میں آرا مختلف ہیں کہ تنظیم کا رول افغانستان پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس وقت کیا صورت حال بن رہی ہے۔

نجم رفیق پاکستان کے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز سے وابستہ ہیں۔ وائس آف آمریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس تنظیم کے قیام کے بنیادی مقاصد میں یہ باتیں بھی شامل تھیں کہ خطے میں دہشت گردی سے کس طرح نمٹا جائے اور خطے کے ممالک باہم اقتصادی تعلقات کس طرح بڑھا سکتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں اس تنظیم کا رول بہت اہم ہو گیا ہے جب افغانستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے کہ اگر اسے اقتصادی مدد اور حمایت حاصل ہوجائے تو وہاں استحکام آ سکتا ہے اور وہاں سے دہشت گردی کے امکانات ختم ہو سکتے ہیں۔

اور اگر وہاں عدم استحکام رہا تو پھر خطے کے سارے ممالک کے لئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے کرداراور وزیر اعظم عمران خان کے بیانات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو باتیں انہوں نے طالبان کے حق میں کیں،خطے کے تمام ہی ممالک یہی باتیں کر رہے ہیں کہ صورت حال کو کسی بھی طور پر عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان منتخب ہو کر نہیں آئے، بلکہ وہ اس تصادم میں فاتح بن کر آئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس پر بہت سے ملکوں کے تحفظات ہیں، اور بقول ان کے، خود پاکستان کے بھی تحفظات ہیں۔

تجزیہ کار نے مزید کہا کہ پاکستان یا کسی اور ملک نے اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ لیکن، بقول ان کے، ان حالات میں افغانستان میں استحکام لانے کے لئے اسی طرح کے مارشل پلان کی ضرورت ہے جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ ''اور یہ کہ خطے کے ممالک، خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن اور مبصر ملکوں کی ذمہ داری ہے، کہ وہ مل کر صرف اجلاس منعقد نہ کریں بلکہ افغانستان میں تعمیر نو کا عمل شروع کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں''۔

ڈاکٹر پرتاپ ویدک بھارت کے ایک ممتاز صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔ اس موضوع پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس سی او کانفرنس میں بس وہی کچھ دہرایا گیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کہتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہاں اور کچھ نہیں ہوا۔

بقول ڈاکٹر پرتاپ، ''بھارت کے لئے جو خراب بات ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ایران، چین، پاکستان اور روس مل کر آپس میں بات کر رہے ہیں مگر بھارت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے ملک ہونے کے ناطے بھارت کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ اور اس وقت سارے ملک خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے ملکوں میں جو مختلف تحریکیں چل رہی ہیں، کہیں، بقول ان کے، طالبان انکی مدد نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ''بھارت کو افغانستان میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ پاکستان ان کی مجبوری ہے، جبکہ بھارت سے ان کی دوستی ہے۔ اسلئے بھارت کو پہل کرنی چاہئیے۔ طالبان سے بات کرنی چاہئیے اور افغان عوام کی مدد کرنی چاہئیے''۔

ڈاکٹر زبیر اقبال، ورلڈ بنک کے ایک سابق عہدیدار اور اب مڈ ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔ انہوں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کو توسیع دی جا رہی ہے اور افغنستان بھی اسکا رکن بننے والا ہے۔

''اس کا مطلب یہ ہے کہ افغنستان کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اگر وہاں عدم استحکام رہتا ہے تو سب ہی اس کی زد میں آئیں گے؛ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر ایس سی او کو خود کو بین الاقوامی سطح پر منوانا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان جیسے ملکوں کو اپنے ساتھ متحد کرے اور وہاں استحکام پیدا کرائے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسی بنیاد پر اجلاس کے دوران اس بار افغانستان کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کئے رہا۔

لیکن، انہوں نے کہا کہ ایک بڑا سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ امریکہ کے انخلا کہ بعد وسائل کی کمی کا جو خلاء پیدا ہوگا کیا خطے کے ممالک اس خلاء کو پر کر سکیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو افغانستان بھی مستحکم ہو گا۔ اور اس تنظیم کی پوزیشن بہتر ہوگی، ورنہ وہ ایک غیر موثر علاقائی تنظیم بن کر رہ جائے گی اور افغانستان بھی استحکام کی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا۔

XS
SM
MD
LG