رسائی کے لنکس

سعودی وزیرِ خارجہ کا دورہٴ بھارت، افغانستان کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال


فائل فوٹو

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان آلِ سعود بھارت کا تین روزہ دورہ مکمل کر کے واپس جا چکے ہیں۔ انھوں نے بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کیا۔

بھارت کے میڈیا نے وزارتِ خارجہ کی پریس ریلیز کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ علاقائی اور افغانستان کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

رپورٹس کے مطابق انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان قائم ’اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل‘ کے تحت کیے گئے باہمی اقدامات میں پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اکتوبر 2019 میں ہونے والے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

اتوار کو اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے ملاقات کے بعد سعودی وزیر خارجہ نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ سعودی عرب کا رشتہ بہت اہم ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ کے مطابق بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سعودی وزیرِ خارجہ سے پیر کو ہونے والی ملاقات کے دوران توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سعودی سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کی پریس ریلیز کے مطابق وزیرِ اعظم نے کرونا وبا کے دوران بھارتی تارکینِ وطن کی بہتر دیکھ بھال کے لیے سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کیا۔

گزشتہ سال کے اوائل میں کرونا وبا پھوٹنے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے ہونے والے اس پہلے اعلیٰ سطح کے دورے کو بڑا اہم سمجھا جا رہا ہے۔

عالمی صورتِ حال بھی زیرِ بحث

مبصرین کے مطابق 24 ستمبر کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والے امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل کواڈ گروپ کے اجلاس سے قبل بھی سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ کے دورۂ بھارت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں حکومتوں کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا گیا اور نہ ہی بات چیت کے ایجنڈے واضح کیا گیا ہے۔ لیکن ایسا سمجھا جاتا ہے کہ کواڈ کے علاوہ آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل قائم ہونے والے نئے گروپ کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال ہوا ہوگا۔

سابق سفارت کار اور ’انڈو عرب کلچرل سینٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ نئی دہلی کے سابق ڈائریکٹر ذکر الرحمٰن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جب کوئی اعلیٰ عہدے دار کسی ملک کا دورہ کرتا ہے تو بہت سی باتیں زیر بحث آتی ہیں۔ لہٰذا ایسا سمجھا جانا چاہیے کہ اس دورے میں بھی بدلتے ہوئے عالمی حالات پر بات چیت ہوئی ہوگی۔

افغانستان پر سعودی عرب کا مؤقف

ذکر الرحمٰن نے کہا کہ افغانستان کے سلسلے میں سعودی عرب کا بھی وہی مؤقف ہے جو بھارت اور عالمی برادری کا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے میں جو وعدے کیے تھے انھیں پورا کریں اور ایک جامع اور نمائندہ حکومت بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام طبقات کا تحفظ بھی یقینی بنائیں۔

ان کے خیال میں سعودی عرب یہ بھی چاہتا ہے کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے بلکہ عالمی برادری وہاں امن و امان اور سلامتی کے قیام میں طالبان کی مدد کرے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ اگر افغانستان میں تشدد پسند اور دہشت گرد گروپ ہیں تو طالبان وعدے کے مطابق انھیں وہاں سے نکالیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے خود ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ باعثِ تشویش ہے۔

ذکر الرحمٰن نے بتایا کہ سعودی عرب کو القاعدہ سے بہت نقصان پہنچا ہے۔ اس لیے وہ بھی نہیں چاہتا کہ افغانستان میں مبینہ تخریبی قوتیں دوبارہ منظم ہوں۔

ان کے مطابق 1990 کی دہائی اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے۔ سوویت روس کے انخلا کے بعد کے برسوں میں افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی اور امن قائم ہوا۔ لہذا اس وقت سعودی عرب نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ لیکن اب سعودی عرب عالمی برادری کے ساتھ چلنا چاہتا ہے۔

ایرانی اثر و رسوخ میں اضافے سے سعودی عرب کو تشویش

ذکر الرحمٰن نے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے تعلقات کے متعلق کہا کہ ان کو ایک دوسرے میں گڈمڈ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ملک اپنے قومی مفادات کے تحت دوسرے ممالک سے رشتے قائم کرتا ہے۔ ایران سے بھارت کے تعلقات وسیع تر مفاد میں ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے بھی وسیع تر مفاد میں رشتے ہیں۔

ان کے خیال میں خطے میں ایرانی اثر و رسوخ میں اضافے سے سعودی عرب کو تشویش ہے۔ دونوں کا تنازع شیعہ سنی جھگڑا نہیں بلکہ مصلحتوں کا جھگڑا ہے۔ خطے میں اپنے اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کا معاملہ ہے۔ اسے بھارت، ایران اور سعودی عرب کے رشتوں کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ کرونا وبا شروع ہونے کے بعد سعودی عرب اور بھارت میں پہلا بڑا سرکاری رابطہ ہوا ہے اور اس دورے کی اہمیت بھی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب خطے میں بھارت کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے دوسرے ملکوں کو نہیں۔

سعودی عرب کے لیے صرف بھارت اہم نہیں

ان کے بقول اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پہلے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پھر وہ واپس چلے گئے تھے بھارت نہیں آئے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے بھارت کا دورہ کیا۔ اسی طرح وزیر خارجہ بھی صرف پاکستان گئے تھے۔ انھوں نے بھارت یا کسی اور ملک کا دورہ نہیں کیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھارت اور سعودی عرب میں اسٹریٹجک رشتے بھی ہیں، سیاسی بھی ہیں اور اقتصادی بھی ہیں۔ یہ رشتے بہت پرانے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن کی حکومت میں باہمی رشتوں میں کافی استحکام آیا تھا جو اب مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کا محتاط رویہ

ایک اور تجزیہ کار معین اعجاز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کے بارے میں سعودی عرب کا رویہ بہت محتاط ہے۔ سعودی عرب بھی دنیا کے ساتھ چلنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ خواہاں ہے کہ طالبان امریکہ کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کریں۔

ان کے خیال میں پورا عالمی منظرنامہ بدل رہا ہے۔ نئے نئے عالمی گروپ بن رہے ہیں۔ روس، ایران اور چین ایک نئی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کا ایک الگ گروپ بن گیا ہے۔ کواڈ اپنی جگہ پر سرگرم ہے۔ چین کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب میں بھی کافی تبدیلیاں آرہی ہیں۔

اقتصادی رشتے آگے بڑھانے کی کوشش

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور سعودی عرب باہمی اقتصادی رشتوں کو بھی آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ یہاں سعودی عرب کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔

ان کے مطابق سعودی عرب میں 20 لاکھ بھارتی شہری کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں سے کافی زرِمبادلہ یہاں آتا ہے۔

ان کے مطابق ایسا سمجھا جاتا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کے دورے کے موقعے پر بھارت نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب نے کروناوبا کی وجہ سے پروازوں کا جو سلسلہ منقطع کر دیا تھا اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔

رپورٹوں کے مطابق دونوں ملکوں نے تجارتی روابط اور بھارت میں سعودی سرمایہ کاری میں اضافے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ 2014 میں بھارت میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری پانچ کروڑ ڈالر تھی جو اب بڑھ کر تین ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

بھارت میں مقیم افغان طالب علم تشویش کا شکار
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:51 0:00

رپورٹسں کے مطابق دونوں ممالک نے اس سرمایہ کاری کو 2019 تک 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا تھا جس کا حصول بہت دور نظر آتا ہے۔ البتہ کرونا وبا کی وجہ سے بہت سی رکاوٹوں کے باوجود بھارت سعودی عرب کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق 20 لاکھ بھارتی شہری سعودی عرب میں کام کرتے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق کرونا وبا کی وجہ سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں اور پروازوں کا سلسلہ بند ہونے کی وجہ سے ان کی اکثریت بھارت واپس نہیں آسکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG