رسائی کے لنکس

افغانستان کے مشیر قومی سلامتی کا دورۂ ماسکو، روس امن عمل میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟


28 نومبر 2019 کو لی گئی اس تصویر میں ایک نوجوان افغانستان میں سوویت فورسز کے انخلا کے بعد روسی ٹینک کے ملبے پر کھڑا کھیل رہا ہے۔ (تصویر اے ایف پی)

افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر روس پہنچے ہیں جہاں وہ کابل اور ماسکو کے درمیان ممکنہ فوجی تعاون پر بات چیت کریں گے۔

افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی کے مشیر کے دفتر سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ روس میں دو روزہ قیام کے دوران حمداللہ محب روس کے سیکیورٹی کے عہدیداروں کے ساتھ باہمی مفاد کے امور پر تبادلۂ خیال کریں گے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کی راہیں تلاش کریں گے۔

افغانستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ روس کس طرح کا تعاون کر سکتا ہے جو ملک میں امن و امان کے قیام میں مدد گار ہو؟ کیا روس کابل کو فوجی ساز و سامان دینے یا فوجی تربیت کی حامی بھی بھر سکتا ہے؟

گزشتہ ماہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے ساتھ جینیوا میں تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جس میں صدر بائیڈن کے مطابق افغانستان کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال ہوا تھا۔

جینیوا سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی جون میں اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوٹن کے ساتھ ملاقا کا ایک منظر (اے پی)
جینیوا سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی جون میں اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوٹن کے ساتھ ملاقا کا ایک منظر (اے پی)

صدر بائیڈن نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ انہوں نے صدر پوٹن سے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کےعمل میں روس کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے، جس پر صدر پوٹن نے کہا کہ روس سے جس طرح کی مدد ہو سکتی ہے ، وہ فراہم کرے گا۔

روس افغانستان کی موجودہ صورتحال میں کیا کر سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ’پالییٹیکٹ‘کے چیف تجزیہ کار عارف انصار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ روس کا افغانستان کے اندر کوئی بھی قدم عالمی سیاست کے رخ کو دیکھتے ہوئے ہو گا۔

’’ امریکہ اور روس کے تعلقات کی کئی جہتیں ہیں۔ چین اور روس کی اپنی شراکت داری ہے، برکس جیسے فورم ہیں۔ اس ملٹی پولر ورلڈ میں روس افغانستان میں کسی کردار سے پہلے عالمی سیاست اور اپنے مفادات کو پیش نظر رکھے گا‘‘

ڈاکٹر سحر خان، واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کیٹو انسٹی ٹیوٹ میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہتی ہیں کہ روس کو سرد جنگ کا تجربہ ہے۔ اور ماسکو جانتا ہے کہ افغانستان میں جب معاملات سنبھل نہیں رہے ہوتے تو تبدیلی باہر سے آتی ہے۔

’’ افغانستان کے مفاد میں ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات قائم رکھے۔ اور امریکہ بھی چاہتا ہے، جیسا کہ صدر بائیڈن نے کہا، روس افغانستان کے امن عمل میں اپنا کردار ادا کرے‘‘

روس نے اس سال مارچ اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے تین بین الاقوامی کانفرنسوں کی میزبانی کی تھی جن کا مقصد کابل حکومت اور طالبان کو ایسے حالات میں قریب لانا تھا جب دوحہ میں امریکہ کی معاونت سےجاری مذاکرات تعطل کا شکار تھے۔ روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے اٹھارہ مارچ کی کانفرنس سے قبل بہتری کی توقعات کا اظہار کیا تھا۔

’’ہمھیں امید ہے کہ یہ مذاکرات بین الافغان مذاکرات کی پیش رفت میں مدد دیں گے‘‘

تجزیہ کار عارف انصار کہتے ہیں کہ ایسے میں جب کابل میں حکومت کی تشکیل پر متضاد آرا پائی جاتی ہیں، افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی کا دورہ یہ معلوم کرنے کے لیے ہو سکتا ہے کہ صدر اشرف غنی کے موقف کے لیے روس میں کتنی حمایت پائی جاتی ہے۔

’’ صدر غنی چاہتے ہیں کہ ملک میں نئے انتخابات ہوں اور جو حکومت بنے اسی کو نمائندہ حکومت خیال کیا جائے۔ جبکہ امریکہ ’’ بلنکن پروپوزل‘‘ کے مطابق چاہتا ہے کہ کابل میں موجودہ حکومت ختم کر کے ایک ایسی عبوری حکومت بنائی جائے جس میں طالبان کو بھی شریک رکھا جائے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ مشیر برائے قومی سلامتی یہ دیکھنے کے لیے ماسکو گئے ہوں کہ وہاں صدر غنی کے موقف کی حمایت کے لیے کتنی گنجائش موجود ہے‘‘

طاہر خان، پاکستان کے سینئر صحافی ہیں اور ان کا شمار ان چند تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے جو افغانستان کے حالات کا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ رکھتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں طاہرخان کہتے ہیں کہ روس نے گزشتہ برسوں میں افغانستان کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا ہے۔

’’ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت روس کا کردار واضح اور صاف ہے۔ وہ دیگر ممالک کی طرح سفارتی زبان استعمال نہیں کرتا۔ افغانستان کی حکومت پرکبھی کبھی تنقید کرتا ہے، اس کے ساتھ طالبان کی طرف سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے مطالبے کی بھی حمایت کرتا ہے۔‘‘

بین الافغان مذاکرات کا ایک جائزہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:33 0:00

طاہر خان کے بقول روس نے طالبان کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

’’ روس نے نومبر دو ہزار اٹھارہ میں ایک گیارہ ملکی کانفرنس بلائی جس میں افغانستان کی اعلی مصالحتی کونسل کے عہدیدار بھی شامل تھے اور اس کانفرنس میں طالبان کو جگہ دی گئی، ان کو ایک بین الاقوامی تعارف ملا جس پر وہ بڑے خوش تھے‘‘

افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ ماسکو کے دو روزہ دورے کے دوران سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے راہیں تلاش کریں گے۔

کیٹو انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ روس اس شعبےمیں افغانستان کی مدد کر سکتا ہے۔

’’ میرے خیال میں فوجی سازوسامان کی فراہمی ہو یا انٹیلی جنس اور افغان فورسز کی تربیت، روس کا ایک کردار ہو سکتا ہے جس کی اس وقت کافی گنجائش موجود ہے‘‘

تجزیہ کار عارف انصار کے مطابق ان حالات میں روس کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائے گا

’’ اس وقت معاملات بہت مختلف ہیں‘‘

ڈاکٹر سحر خان کے الفاظ میں بین الافغان مذاکرات کی صورت میں ’’گارنٹر‘‘ یعنی ضامن کی صورت میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں جس طرح ماسکو نے افغانستان کے مسئلے پر کئی ایک بین الاقوامی کانفرنسوں کی میزبانی کی ہے اور طالبان کے وفد کو بھی روس بلایا ہے، روس فریقین کے لیے قابل بھروسہ ہو سکتا ہے۔

سینئر صحافی طاہر خان کہتے ہیں کہ روس کے طالبان اور کابل حکومت، دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ طالبان کے ساتھ ان کے بقول کچھ زیادہ ہیں اور محب اللہ کے اس دورے کا مقصد روس کو اعتماد میں لینا ہو سکتا ہے۔

’’ افغاں حکومت چاہتی ہے کہ ماسکو کے ساتھ تعلقات میں کبھی کبھی جو تھوڑی تلخی پیدا ہوتی ہے، اس کو دور کیا جائے اور جنگ میں شدت پر روس کے جو خدشات ہیں، ان پر روس کو بریف کیا جائے‘‘

افغانستان کے امور سے متعلق سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کی حالیہ پیش قدمی نے، بالخصوص تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کی سرحد کے نزدیک ان کی کارروائیوں پر روس میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ اور جس وقت یہ پیش قدمی ہو رہی ہے، اس کے نظام الاوقات کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے افغانستان سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار حسیب اللہ ترن نے کہا ہے کہ روس کو وسط ایشیائی ممالک میں ایسے وقت میں انتہاپسندوں کی مداخلت پر پریشانی ہے، جب امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے اور یہ بات افغانستان کے ساتھ روس کے تعاون کے نئے باب کا آغاز ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول، افغانستان کی فوج اس وقت بھی روسی ساختہ فوجی آلات استعمال کر رہی ہے بشمول ایم آئی رشئین ہیلی کاپٹروں کے جنہیں وہ طالبان کے خلاف استعمال میں لاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG