رسائی کے لنکس

ہرات میں طالبان کے انکار کے باوجود لڑکیوں کا اسکول کیسے کھلا؟


ہرات کے تاجورباوائی گرلز اسکول میں 3900 طالبات زیر تعلیم ہیں۔

افغانستان میں تقریباً ہر جگہ ہائی اسکول کی لڑکیاں گھروں میں بیٹھی ہیں اور انہیں یہ امید کم ہی ہے کہ طالبان کے اقتدار میں ان کے اسکول کھلیں گے۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایک افغان صوبے میں لڑکیوں کے کلاس روم آباد ہیں اور وہ باقاعدگی سے پڑھنے کے لیے آ رہی ہیں۔

اس صوبے کا نام ہرات ہے۔ یہاں اسکول کھلنے کا سہرا ٹیچرز اور لڑکیوں کے والدین کے سر بندھتا ہے جنہوں نے طالبان کی مقامی قیادت کو دوبارہ اسکول کھولنے پر آمادہ کیا۔

ہرات کے طالبان عہدے داروں نے کبھی بھی لڑکیوں کے اسکول کھولنے کی باضاطہ اجازت دینے کا اعلان نہیں کیا، لیکن انہوں نےان علاقوں میں اسکول بند کرانے کی کوشش بھی نہیں کی، جہاں ٹیچرز اور والدین نے اپنی کوششوں سے اکتوبر کے اوائل میں کلاس رومز میں پڑھائی شروع کرا دی تھی۔

ہرات میں لڑکیوں کے اسکول کھولے جانے کے متعلق محمد صابر مشال نے بتایا کہ اسکول کھولنے کے لیے والدین، ٹیچرز اور طالبات نے مل کر مہم چلائی اور ان کی کوششیں رنگ لے آئیں۔

ہرات کے تاجوروباوائی گرلز اسکول میں طالبات کی تعداد 3900 کے لگ بھگ ہے۔
ہرات کے تاجوروباوائی گرلز اسکول میں طالبات کی تعداد 3900 کے لگ بھگ ہے۔

مشال صوبہ ہرات کی ٹیچرز یونین کے سربراہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہرات افغانستان کا واحد علاقہ ہے جہاں سماجی کارکنوں اور ٹیچرز نے اپنی آواز بلند کرنے اور طالبان سے بات کرنے کا خطرہ مول لیا۔

ہرات میں سماجی کارکنوں، ٹیچرز اور والدین کی کامیابی افغانستان میں طالبان کے موجودہ دور اور 1990 کی دہائی کے سابقہ اقتدار میں پائے جانے والے نمایاں فرق کو اجاگر کرتی ہے۔ گزشتہ دور میں طالبان عسکریت پسند اپنے سخت گیر نظریات پر کسی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے سماجی زندگی میں خواتین کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ انہیں کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا تھا اور وہ اپنے ضابطوں پر عمل کرانے کے لیے سخت سزاؤں کا اطلاق کرتے تھے۔

لیکن اس بار بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ انہوں نے یہ قبول کر لیا ہے کہ وہ افغانستان کو اس بے رحمانہ انداز میں نہیں چلا سکتے جیسا کہ انہوں نے 20 سال پہلے کیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے پرانے دور کے کچھ ضابطوں کو لاگو کیا ہے، لیکن اس میں یہ ابہام بھی رکھ دیا ہے کہ کس چیز کی اجازت ہے اور کس بات کی نہیں۔

اس ابہام کی وجہ غالباً یہ ہے کہ طالبان ایک ایسے وقت میں دنیا کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے جب ملک معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، بین الاقوامی فنڈز منجمد ہیں، ملک میں بھوک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور داعش کی شورش ایک خوفناک عفریت کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

انہوں نے عوام کے لیے تھوڑی سی جگہ چھوڑی ہے جس کے اندر رہتے ہوئے وہ طالبان پر دباؤ ڈالنے اور انہیں پیچھے ہٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اگست کے وسط میں جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو اس وقت ملک میں زیادہ تر تعلیمی ادارے کووڈ-19 کی وجہ سے بند پڑے تھے۔ شدید عالمی دباؤ کے پیش نظر طالبان نے جلد ہی لڑکوں کے تمام اسکول کھولنے کے ساتھ ساتھ پہلی سے چھٹی جماعت تک لڑکیوں کے اسکول بھی کھول دیے۔ لیکن انہوں نے ساتویں سے بارہویں جماعت تک کی لڑکیوں کے اسکول یہ کہتے ہوئے بند رکھے کہ انہیں کھولنے سے پہلے وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان میں اسلامی انداز میں تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان نے زیادہ تر خواتین کو اپنی سرکاری ملازمتوں پر واپس جانے سے بھی روک دیا۔

تاہم، ہرات میں ٹیچرز نے اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو منظم کرنا شروع کیا۔ ہرات کے تاجوروباوائی گرلز اسکول کی پرنسپل بصیرہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب طالبان آئے تو ہم بہت سہمے ہوئے تھے کیونکہ ہر چیز ہمارے سامنے تھی۔

ٹیچرز یونین کے عہدے داروں نے طالبان کے گورنر اور محکمہ تعلیم کے سربراہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے شروع میں طالبان سے تعلقات قائم کرنے کے لیے لڑکیوں کے اسکولوں کا معاملہ نہیں اٹھایا۔ اور طالبان کو یہ موقع دیا کہ وہ یہ دیکھ لیں کہ ہم اپنی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کیا طالبان کی حکومت میں افغان لڑکیاں اسکول نہیں جا سکیں گی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:53 0:00

اس کے بعد جب ٹیچرز نے انہیں لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے لیے کہا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ کابل حکومت کے احکامات کے بغیر اسکول نہیں کھول سکتے۔

ٹیچرز نے ان پر اپنا دباؤ برقرار رکھا اور لڑکیوں کے 40 اسکولوں کی سربراہوں نے ستمبر میں محکمہ تعلیم میں طالبان عہدے داورں سے ملاقات کی تاکہ ان کے بنیادی خدشات دور کیے جا سکیں۔

بصیرہ نے کہا کہ ہم نے انہیں یقین دلایا کہ لڑکیوں کو صرف خواتین ٹیچرز ہی پڑھائیں گی اور لڑکیاں حقیقی حجاب کے ساتھ کلاس میں آئیں گی۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم اسلام کی تعلیمات کے مطابق چلتے ہیں۔

اکتوبر شروع ہونے سے پہلے ٹیچرز کو یہ محسوس ہو گیا کہ طالبان ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا، فیس بک اور دوسرے ذرئع سے یہ خبر پھیلانا شروع کر دی کہ لڑکیوں کا اسکول 3 اکتوبر سے کھل رہا ہے اور لوگ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجیں۔ کچھ والدین ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں طالبان یا عسکریت پسند ان کی بچیوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ لیکن کچھ والدین نے صورت حال کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بچیوں کو خود اسکول لانا اور لے جانا شروع کر دیا، جس سے ہرات میں لڑکیوں کے اسکول کھولنے اور انہیں چلانے کی راہ ہموار ہو گئی۔

ہرات میں لڑکیوں کے اسکول میں طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں
ہرات میں لڑکیوں کے اسکول میں طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں

ایک خاتون مستورہ نے بتایا کہ ہمیں خدشات تھے اور اب بھی ہمیں کئی خدشات ہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم حاصل کریں کیونکہ تعلیم کے بغیر آپ زندگی میں بہت پچھلے رہ جاتے ہیں۔

فدیہ اسماعیل زادہ کی عمر 14 سال ہے اور وہ نویں کلاس کی طالبہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب میں نے اسکول کھلنے کی خبر سنی تو خوشی کے مارے چیخ پڑی۔ میری تو امید ہی ختم ہو چکی تھی کہ میں دوبارہ کبھی اسکول جا پاؤں گی۔

جب ہرات کا تاجورباوائی اسکول دوباہ کھلا تو شروع دنوں میں طالبات کی تعداد بہت کم تھی۔ پھر جیسے جیسے والدین کا اعتماد بحال ہوتا گیا، وہ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے لگے۔ پرنسپل بصیرہ نے بتایا کہ چند ہی روز میں تمام کلاسیں بھر گئیں۔

اس اسکول میں پہلی سے بارہویں تک تقریباً 3900 طالبات پڑھتی ہیں۔

اسکول میں بچیوں کے لیے حجاب پہننا لازمی ہے۔
اسکول میں بچیوں کے لیے حجاب پہننا لازمی ہے۔

لڑکیوں کے اسکول کھلنے سے لوگوں کی یہ امید بندھی ہے کہ مشترکہ کوششوں سے ان کے دوسرے مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ٹیچرز کا ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ انہیں بھی دوسرے سرکاری ملازموں کی طرح کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ اس کے علاوہ محکمے نے اسکول کی دیکھ بھال اور دوسری ضرورتوں کے لیے بھی فنڈز جاری نہیں کیے۔

مشال کہتے ہیں کہ ہرات میں لڑکیوں کا ہائی اسکول کھلنا ایک منفرد واقعہ ہے۔ ملک کے دوسرے حصوں میں لوگوں کو بہت کم کامیابیاں ملی ہیں۔

جنوبی شہر قندھار کے ٹیچرز نے بھی لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے لیے مقامی طالبان عہدے داروں سے رابطہ کیا لیکن ان کی جانب سے انکار کر دیا گیا۔ قندھار میں ہنو نمبر ون گرلز ہائی اسکول کی پرنسپل فہیمہ پوپل کہتی ہیں کہ مقامی طالبان عہدے داروں نے انہیں بتایا کہ وہ مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین فون کر کے ان سے پوچھتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی بچیوں کو کب اسکول بھیجیں۔ فہمیہ نے پراعتماد لہجے میں کہا کہ ایک روز ان کے پاس والدین کے لیے ضرور اچھی خبر ہو گی۔

تمام لڑکیوں کی اسکول واپسی بین الاقوامی برادری کا سب سے اہم مطالبہ ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے ٹیچرز کو براہ راست تنخواہیں خود ادا کرنے پر جلد تیار ہو جائیں گے۔

اس وقت تک طالبان نے لڑکیوں کے اسکول کھولنے سے متعلق کوئی نظام الاوقات دینے سے انکار کر رہے ہیں جب کہ زیادہ تر اسکولوں میں جلد ہی مارچ تک کے لیے موسم سرما کی تعطیلات ہو جائیں گی۔ ہفتے کے روز اپنی تقریر میں طالبان کے وزیراعظم محمد حسن اخوند نے یہ بات زور دے کر کہی کہ خواتین پہلے ہی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور جیسے ہی خدا کو منظور ہوا، ہمیں توقع ہے کہ اس کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔

[اس خبر میں شامل مواد ایسو سی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے]

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG