رسائی کے لنکس

کالعدم تنظیم کا لاہور میں پھر دھرنا، مطالبات منوانے کے لیے حکومت کو دو روز کی 'مہلت'


فائل فوٹو

پاکستان میں کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے تحریک کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی اور اپریل میں حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو دو روز کی مہلت دیتے ہوئے لاہور میں پھر دھرنا دے دیا ہے۔

چوک یتیم خانہ لاہور میں ٹی ایل پی کی جانب سے منگل کی شام سے دھرنا جاری ہے جس کی وجہ سے ملتان روڈ پر بیشتر کاروباری ادارے بند جب کہ سمن آباد موڑ سے اسکیم موڑ تک ٹریفک بھی بند ہے۔

حکومت نے ٹی ایل پی کے احتجاج کے باعث اورنج لائن میٹرو ٹرین کو بھی بند کر دیا ہے۔ واضح رہے ٹی ایل پی کے کارکنوں نے گزشتہ احتجاج میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کے دو اسٹیشنز کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

ٹی ایل پی نے ملتان رورڈ پر کنٹینر کھڑے کر کے سڑک بند کر رکھی ہے جب کہ اطراف کی گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کر رکھے ہیں۔ جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے سعد رضوی اپنے والد خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ٹی ایل پی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ جو رواں برس اپریل سے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔ اُن کے خلاف انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

ٹی ایل پی کے مرکزی کنونیئر سجاد احمد سیفی کہتے ہیں کہ حکومت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کی رہائی میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ سعد حسین رضوی کی رہائی سے متعلق عدالتوں کے تین مختلف فیصلے آئے ہیں۔ لیکن اِس کے باوجود اُنہیں رہا نہیں کیا جا رہا۔

سجاد احمد کہتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کی جانب سے اس اقدام کی حمایت پر حکومت نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو بے دخل کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کو دو روز کی مہلت دے رہے ہیں کہ اُں سے بات چیت کی جائے ورنہ 21 اکتوبر کو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

ٹی ایل پی کے مرکزی کنونیئر کے مطابق حکومت کی جانب سے تاحال اُن سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس کے اعلٰی حکام نے اُن سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جیسے ریاست چاہتی ہے ٹی ایل پی ویسے عمل کرے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جو ریاست نے اُن کے ساتھ جو کیا ہے وہ وعدہ خلافی ہے۔

سجاد احمد سیفی دعوٰی کرتے ہیں کہ ریاست نے ٹی ایل پی کے بہت سے کارکنوں کو گرفتار کر کے اُنہیں اور اُن کے اہلِ خانہ کو فورتھ شیڈول میں ڈال دیا ہے۔ اُن کے کاروبار بند کرا دیے ہیں اور ان کے شناختی کارڈ بلاک کرا دیے ہیں۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے یکم اکتوبر کو سعد رضوی کی نظر بندی ختم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم ابھی تک اُن کی رہائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

البتہ ڈپٹی کمشنر لاہور محمد عمر شیر کا کہنا ہے کہ سعد حسین رضوی کی رہائی کے احکامات پر عمل ہو گا۔

پولیس کے مطابق ٹی ایل پی کے مرکز کے سامنے مین ملتان روڈ پر اسٹیج کے سامنے اور اطراف میں تحریک کے دو سو سے ڈھائی سو کارکن جمع ہیں۔ جب کہ مرکز کے اندر اور اردگرد گلیوں میں کارکنان کی تعداد تقریباً چار سے پانچ سو ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ کے ترجمان انسپکٹر رانا عارف بتاتے ہیں کہ وہ ٹی ایل پی کے احتجاج کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ پولیس کا کام امن و امان کو برقرار رکھنا ہے جس کے لیے وہ کوشش بھی کر رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر رانا عارف نے کہا کہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری یا رہائی سے متعلق پولیس کا کوئی نقصان ہے نہ کوئی فائدہ۔

ترجمان سی سی پی او لاہور نے کہا کہ ٹی ایل پی کے مظاہرین نے پیٹرول کے دو کنٹینر پکڑے ہوئے ہیں، جو خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت جو بھی احکامات دے گی، پولیس اُن پر عمل کرے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر تحریکِ لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا۔ جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر 2020 کو معاہدے کے تحت ختم کر دیا گیا تھا۔

معاہدے میں کہا گیا تھا کہ حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تین ماہ میں پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرے گی۔

بعد ازاں ٹی ایل پی نے جنوری میں حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر 17 فروری تک توہینِ مذہب کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکالنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرے گی۔ مطالبات کی عدم منظوری پر ٹی ایل پی نے 16 فروری کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ اور احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری اور معاہدے پر عمل درآمد نہ کیے جانے پر ٹی ایل پی نے 20 اپریل کو پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد امن و امان میں خلل کے پیشِ نظر حکومت نے سعد رضوی کو حراست میں لے لیا۔ جس کے نتیجے میں ٹی ایل پی کے کارکنوں نے پاکستان بھر میں اُن کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

یاد رہے سعد رضوی کے خلاف صوبہ پنجاب میں مختلف مقدمات بھی درج ہیں۔ جن میں دہشت گردی کی دفعات سمیت دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کہتے ہیں کہ جمہوری طریقے سے احتجاج کرنا سب کا حق ہے مگر کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ کالعدم تحریک لبیک کے حوالے سے جو بھی اقدامات ہوں گے قانون کے دائرے میں رہ کر ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG