رسائی کے لنکس

اژدھے کا کھوج لگانے اور پکڑنے والے کتے


اژدھے کو پکڑنے والا تربیت یافتہ کتا

اب تک کتے مجرموں کو پکڑنے، منشیات اور باردوی مواد کا کھوج لگانے اور کئی مہلک بیماریوں کی نشاندہی کرنے کا کام کر رہے تھے، اب سانپ اور اژدھے بھی ان کے دائرہ اختیار میں شامل ہو گئے ہیں۔

ہمارے ہاں جہاں کہیں سانپ آ جائے، اسے پکڑنے کے لیے سنپیرے کو بلا لیا جاتا ہے۔ وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے تھیلے میں سے بین نکال کر بجانے لگتا ہے۔ تھوری ہی دیر میں کہیں سے سانپ نکل کر سامنے آ جاتا ہے اور جھومنے لگتا ہے، جسے سنپیرا پکڑ کر اپنی پٹاری میں بند کر لیتا ہے۔

سانپ کے کان نہیں ہوتے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے پورے جسم سے سننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ سانپ بین کی آواز پر نہیں جھومتا بلکہ جیسے جیسے سنپیرا اپنی بین کو حرکت دیتا ہے، وہ خود کو بچانے اور حملہ کرنے کے لیے بین پر نظر رکھتے ہوئے اس کے ساتھ لہراتا ہے۔

سانپ کا زہر کئی دوائیوں، بالخصوص زہر کا تریاق بنانے میں کام آ تا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کے سانپ پکڑنے کے ماہرین بین کی بجائے ایک خاص انداز میں ڈیزائن کی گئی چھڑی استعمال کرتے ہیں اور اس سے باآسانی سانپ پکڑ لیتے ہیں، لیکن اب امریکی ریاست فلوریڈا میں سانپ پکڑنے کے لیے کتوں کو سدھایا جا رہا ہے۔ اور حال ہی میں اس سلسلے میں ایک کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

فلوریڈا کے وسیع قدرتی پارکوں اور شکار گاہوں میں اژدھوں کی بہتات ہو گئی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے تین لاکھ کے درمیان ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے قدرتی پارکوں میں جنگلی حیات کا نظام متاثر ہو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ تعداد اندازوں سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

چھوٹے جانور اور پرندے ان اژدھوں کی مرغوب خوراک ہے۔ وہ ان پر گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں اور پکڑ کر نگل لیتے ہیں۔ اژدھوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے وہاں جنگلی حیات کا قدرتی تناسب بگڑ رہا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے اژدھوں کو پکڑنا اور ان کی تعداد گھٹانا ضروری ہو گیا ہے۔

مشکل یہ ہے کہ اژدھے خود کو جنگلی گھاس پھونس اور کھائیوں میں اس طرح چھپا لیتے ہیں کہ انہیں ڈھونڈنا آسان نہیں ہوتا۔

جنگلی حیات کے ماہرین کو خیال آیا کہ اگر سدھائے ہوئے کتے منشیات اور بارود کا کھوج لگا سکتے ہیں۔ کسی شخص کو محض سونگھ کر کرونا وائرس سمیت کئی امراض کی نشاندہی کر سکتے ہیں تو پھر وہ اژدھوں کو پکڑنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔

عموماً ہر جاندار کے جسم سے ایک خاص قسم کی بو خارج ہوتی ہے، چونکہ کتے کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہے اس لیے وہ بہت سی ایسی بوئیں سونگھ اور انہیں شناخت کر سکتا ہے جو انسان کے علم میں نہیں آتیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے حالیہ عرصے میں دو کتوں کو اژدھوں کی بو سونگھ کر ان کا کھوج لگانے کی تربیت دی ہے، ان میں سے ایک کتے کا نام ٹرومین اور دوسرے کا ایلی نار ہے۔ ٹرومین نے گزشتہ دنوں میامی کے قریب ایک چھوٹی عوامی شکارگاہ میں 8 فٹ لمبے اژدھے کو سراغ لگا کر اسے پکڑنے میں مدد دی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پہلی کامیابی سے جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک نئی راہ کھل گئی ہے۔

جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق فلوریڈا کے کمشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایرک سوٹن نے کہا ہے کہ ہم اس سلسلے میں نئی دریافتین کرنا چاہتے ہیں۔ کتے اس حوالے سے پہلی کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ یہ کتے بہت محنت اور خلوص سے کام کرتے ہیں۔ ہمیں ان پر فخر ہے۔

اس علاقے میں اژدھوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک مادہ اژدھا 100 کے لگ بھگ انڈے دیتی ہے۔ اگرچہ سانپ اپنے کچھ بچے کھا جاتا ہے لیکن پھر بھی بہت سے سنپولے اپنی جان بچا کر بھاگ نکلنے اور دوسروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG