رسائی کے لنکس

جبری تبدیلیٴ مذہب کے تدارک کا مجوزہ قانون، پارلیمانی کمیٹی نے معاملہ ختم کیوں کیا؟


فائل فوٹو

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی نے ایک غیر معمولی فیصلے میں جبری تبدیلیٴ مذہب کے تدارک سے متعلق قانونی بل کا مسودہ خارج کر دیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے جبری تبدیلیٴ مذہب کے چیئرمین سینیٹر لیاقت ترکئی نے یہ فیصلہ وفاقی وزیرِ مذہبی امور نور الحق قادری اور وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی جانب سے اس قانون سازی کو غیر ضروری قرار دینے کے بعد کیا۔

پارلیمانی کمیٹی کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں غیر مسلم اور حکومتی و مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کے درمیان مسودہٴ قانون کے نکات پر دو گھنٹے تک بحث ہوتی رہی۔

اقلیتی اراکین نے بل پر ووٹنگ کا بھی مطالبہ کیا تھا اس کے باوجود پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین لیاقت ترکئی نے مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے قانونی بل کے مسودے کو خارج کر دیا۔

لیاقت ترکئی نے پہلے سے لکھا ہوا تحریری بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اس قانونی بل کو عوام کے مفاد میں خارج کرتی ہے۔

تحریری بیان میں کہا گیا کہ حکومت جبری تبدیلیٴ مذہب کے واقعات کو روکنے کے لیے پہلے سے رائج قوانین کو بہتر بنانے کے لیے ترامیم لائے اور انتظامی سطح پر اقدامات کرے۔

کمیٹی کے اقلیتی اراکین نے چیئرمین کی رولنگ کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے اقلیتوں کے خلاف سازش قرار دیا۔

مجوزہ قانون کا یہ مسودہ پاکستان اور بالخصوص سندھ میں اقلیتی افراد کی مبینہ طور پر جبری طور مذہب کی تبدیلی کے روک تھام کے واقعات کو دیکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

مجوزہ قانون میں تجویز کیا گیا تھا کہ اگر کوئی بالغ غیر مسلم اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے علاقے کے ایڈیشنل سیشن جج سے تبدیلیٴ مذہب کا سرٹیفیکٹ لینا چاہیے۔

بل کے مسودے میں تبدیلیٴ مذہب کے لیے 18 سال کی عمر کی قید بھی رکھی گئی تھی۔ اقلیتی قانون سازوں کی اکثریت اس قانون کو منظور کرانا چاہتی تھی۔

پارلیمانی کمیٹی برائے جبری تبدیلیٴ مذہب سینیٹ اور قومی اسمبلی کے 21 ارکان پر مشتمل ہے جس میں وفاقی وزیرِ مذہبی امور سمیت سینیٹ اور قومی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی۔

کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بتایا کہ قانونی بل کا مسودہ اسی پارلیمانی کمیٹی کے سابق چیئرمین سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے تحریر کیا تھا اور وزارتِ انسانی حقوق نے صرف اسے قانونی شکل دے کر کمیٹی کو واپس ارسال کر دیا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانونی مسودہ حکومت یا وزارتِ انسانی حقوق نے پیش نہیں کیا بلکہ پارلیمانی کمیٹی اس بل کی نگران ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس بل سے مناسب برتاؤ نہیں برتا اور سندھ میں اقلیتوں کے جبری مذہب تبدیلی کے واقعات میں ملوث میاں مٹھو جیسے افراد کو بلا کر بریفنگ بھی لی گئی۔

دوسری جانب وزیرِ مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ مذہب سے متعلق معاملات وزارتِ مذہبی امور کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور وہ اس بل کو مسترد کر چکی ہے جسے اسلامی نظریاتی کونسل بھی رد کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون سازی کے لیے اس وقت ماحول سازگار نہیں ہے۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بھی اس بل کو مسترد کرتے ہوئے اس کی کئی شقوں کو شریعت اور آئین سے متصادم قرار دیا۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس قانونی مسودے کو آئین پاکستان کے آرٹیکل دو، 20 اور 32 کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات کو روکنے کے لیے نئی قانون سازی کی نہیں بلکہ انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 6051 لوگ جو گزشتہ 20برس میں مسلمان ہوئے۔ ان میں سے 4490 افراد پورے خاندان کے ساتھ مسلمان ہوئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ 2018 سے 2020 تک سندھ میں 100 ہندو لڑکیاں مسلمان ہوئیں جن میں سے ان کے بقول 95 فی صد لڑکیوں نے کہا کہ وہ خود مسلمان ہوئیں۔

اس پر ہندو رکن لال ملہی نے سوال اٹھایا کہ سوچنے کی بات ہے کہ مذہب تبدیل کرنے والی صرف لڑکیاں ہی کیوں ہیں؟

کمیٹی کے حکومتی و حزبِ اختلاف کے اقلیتی اراکین لال ملہی، ڈاکٹر رمیش کمار واکوانی، سینیٹر دانش کمار، لال چند، جے پرکاش، کھیشو مل اور نوید عامر جیوا نے کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے بل کو خارج کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

ان اراکین کا کہنا تھا کہ اگر جبری مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے قانون سازی کرنا مقصود نہیں ہے تو کمیٹی کا قیام کیوں عمل میں لایا گیا۔

واضح رہے کہ امریکہ کی مذہبی آزادی کے حوالے سے گزشتہ برس کی رپورٹ میں پاکستان کو ان نو ممالک میں شامل کیا گیا تھا جہاں مذہبی آزادیوں کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

اس بل کے مسودے کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وزارتِ مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ماہرین کی مشترکہ کمیٹی نے اس بل کے مختلف نکات پر اعتراضات کیے تھے اور اسی وجہ سے پارلیمانی کمیٹی نے اس بل کو خارج کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جبری تبدیلی مذہب کی نہ اسلام میں گنجائش ہے اور نہ ہی آئینِ پاکستان میں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پر تحقیق ہونی چاہیے کہ کیا ملک میں جبری تبدیلیٴ مذہب کا مسئلہ ہے۔ اگر ثابت ہو جائے کہ ملک میں جبری مذہب کی تبدیلی کے واقعات ہو رہے ہیں تو اس پر سزا ہونی چاہیے جس کے لیے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کہتے ہیں کہ نظریاتی کونسل کے اراکین کی رائے ہے کہ پاکستان میں جبری مذہب تبدیلی کا مسئلہ ہے ہی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلیٴ مذہب عمومآ شادی کے نتیجے میں ہوتی ہے جب کہ سندھ اور پنجاب کے بعض علاقوں میں یہ واقعات ہوتے ہیں۔

قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ مجوزہ بل کے مسودے میں تبدیلیٴ مذہب کے لیے عدالتی سرٹیفیکٹ کے حصول اور اس عمل کے لیے 90 دن کا وقت تجویز کیا گیا تھا جسے کونسل نے غیر شرعی قرار دیا اور اسی طرح مذہب تبدیل کرنے کے لیے عمر کی حد 18 برس ہونے شرط بھی شریعت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ بل کا مسودہ سندھ اسمبلی میں لائے گئے ایک قانون کا عکس تھا جو کہ گزشتہ پارلیمانی کمیٹی برائے جبری تبدیلیٴ مذہب کی سفارشات پر وزارتِ انسانی حقوق نے تیار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG