رسائی کے لنکس

صدر بائیڈن کی پہلی پریس کانفرنس میں افغانستان، شمالی کوریا اور چین کا ذکر


صدر بائیڈن کی وائٹ ہاؤس سے پہلی پریس کانفرنس۔ 25 مارچ،2021

امریکی صدر جو بائیڈن نے آج وائٹ ہاوس سے اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہیں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاٗ، شمالی کوریا اور چین سے امریکہ کے تعلقات، ملک کی جنوب مغربی سرحد پر تارکین وطن کی بڑی تعداد کے علاوہ چند دیگر معاملات پر صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاٗ پر سوال کے جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان سے ضرور نکلے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کب ہوسکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم مئی کی مقررہ تاریخ تک افغانستان سے امریکی افواج انخلا مشکل ہو گا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں آئندہ برس افواج افغانستان میں نہیں ہونگی۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ آئندہ سال بھی امریکی افواج افغانستان میں موجود ہوں گی، تو ان کا کہنا تھا کہ میں ایسا نہیں دیکھ رہا۔

بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے یورپ کا دورہ کیا ہے جس کے دوران انہوں نے اُن امریکی اتحادیوں سے بات چیت کی، جن کی افغانستان میں افواج موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم افغانستان سے نکلتے ہیں تو ایسا ایک محفوظ اور منظم انداز میں کیا جائے گا۔

ان کے بقول، سوال یہ ہے کہ کیسے اور کن حالات میں ہم افغانستان سے نکلنے کے اس سمجھوتے کو پورا کرنے کے قابل ہوں گے جسے صدر ٹرمپ نے طے کیا تھا، اور جو بظاہر لگتا ہے کہ پورا کرنا مشکل ہے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ ان کی خارجہ پالیسی کی اہم ترین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ کسی درجے کی سفارت کاری کے لئے تیار ہیں، لیکن اس کا نتیجہ شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے الگ ہونے سے مشروط ہوگا۔

چین کے بارے میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ "چین کا دنیا کا سب سے دولت مند اور طاقتور ملک بننے کا خواب ان کے دور میں پورا نہیں ہوگا"۔

انہوں نے کہا کہ وہ سائنس اور ریسرچ کے میدان میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ کر کے چین کے اثر کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چین کے صدر ژی جن پنگ پر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق چین کے ریکارڈ پر مسلسل سوال اٹھاتا رہے گا۔

اس سال بیس جنوری کو امریکہ کی صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد، وہ پہلی مرتبہ صحافیوں کے رو برو ان کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ یہ پریس کانفرنس پاکستانی وقت کے مطابق رات سوا گیارہ بجے، جبکہ واشنگٹن میں جمعرات کو دن ایک بج کر پندرہ منٹ پر شروع ہوئی۔

صدر بائیڈن، گزشتہ چار عشروں کے دوران، پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نےاپنی صدارت کے ابتدائی سو دنوں کے دوران نیوز میڈیا کے ارکان کے ساتھ باضابطہ سوال و جواب کی کسی نشست کا سامنا نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے وائٹ ہاوس کی پریس سیکرٹری کے ذریعے میڈیا کے سوالوں کے جواب دینے کی روزانہ بریفنگ کا سلسلہ بحال کیا ہے۔

صدر بائیڈن نے اپنی پریس کانفرنس میں گوئٹے مالا، ہنڈورس، ایل سیلواڈور اور میکسیکو سے آنے والے پناہ گزینوں پر زور دیا کہ وہ ابھی اپنے وطن میں ہی رہیں۔

اپنے ابتدائی کلمات میں صدر بائیڈن نے اپنے ایک اعشاریہ نو ٹریلین ڈالر کے ریلیف پیکج کی کانگریس سے منظوری کا ذکر کیا، جس میں کروڑوں امریکیوں کی بھیجے جانے والا چودہ سو ڈالر کا امدادی چیک بھی شامل ہے۔ انہوں نے امریکہ میں پرانے انفرا سٹرکچر کی بحالی کے لئے تین ٹریلین ڈالر کی تجویز کا بھی ذکر کیا جس میں پرانی، سڑکوں، پلوں اور اس کے ساتھ، بقول ان کے، امریکی معیشت میں ماحول دوست تبدیلیوں کیلئے فنڈنگ شامل ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد ،امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کو روکنے کا اعلان کیا تھا، جسے بہت سے پناہ کے خواہشمندوں نے امریکہ آنے کی دعوت ہی سمجھا تھا۔ یہ دیوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دشوار گزار سفر طے کر کے میکسیکو کے شمالی علاقے سے امریکی سرحد پر پہنچے والے ہزاروں افراد نےامریکہ کے سرحدی محافظوں کے لئے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی۔ بدھ کے روز صدر بائیڈن نے اپنی نائب صدر کاملا ہیرس کو نقل مکانی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والےچار ممالک کے ساتھ مذاکرات اور پالیسی سازی کی نگران بنایا تھا اور یہ کہ اُن ممالک میں معیارِ زندگی کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے تا کہ پناہ گزینوں کی امریکہ آمد کو روکا جا سکے۔

صدر بائیڈن کی بطور صدر پہلی نیوز کانفرنس کو دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے گزشتہ روز میڈیا بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ یہ صدر بائیڈن کیلئے ایک موقع ہے کہ وہ میڈیا کے ذریعے امریکی عوام سے براہ راست بات کر سکیں۔ ساکی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں صدر یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں، وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، کہاں وہ تازہ ترین معلومات دے سکتے ہیں اور یقیناً میڈیا کے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کو ممکنہ طور پر متعدد داخلی معاملات پر سوالات کا سامنا ہوگا، جن میں امریکہ میکسیکو سرحد کی صورتحال، ریاست جارجیا اور کولوراڈو میں فائرنگ کے ہلاکت خیز واقعات، اور کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا پر امریکہ کے حکومتی ردِ عمل جیسے موضوعات شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG