رسائی کے لنکس

امریکی فوج کے انخلا کے بعد کا افغانستان کیسا ہوگا؟


افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا باقاعدہ عمل آج یکم مئی سے شروع ہو رہا ہے۔ اس عمل کو 11 ستمبر 2021 سے قبل مکمل کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے انخلا کے عمل کو محفوظ بنانے اور فضائی نگرانی کے لئے بمبار طیارے بھجوانے کی تصدیق کی ہے۔

یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب افغانستان میں تشدد کے واقعات میں کمی کے بجائے اضافے کی رپورٹس سامنے آرہی ہیں اور افغان فوج پر اندرونی حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

ایسے میں ماہرین ان سوالوں پر بھی غور کر رہے ہیں کہ امریکہ کو فوجی انخلا کے بعد افغانستان کے امن عمل اور سیاسی استحکام میں کتنی دلچپسی رہ جائے گی؟ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج کے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو کون پر کرے گا؟ پاکستان اور خطےکے ممالک کا کردار کیا ہو گا؟ کیا پاکستان ماضی کی طرح کسی ایک افغان دھڑے کی حمایت کرے گا ؟ اور کیا آگے چل کر بین الافغان امن عمل کسی سیاسی تصفیے کی طرف لے جائے گا یا پھر افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری شورش ایک اور باقاعدہ خانہ جنگی کی طرف جا سکتی ہے؟

وائس آف امریکہ نے بھی ان میں کچھ سوالات کو اپنے ماہرین کے سامنے رکھا ہے۔

"لامتناہی جنگ جاری نہیں رہ سکتی تھی"

پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چئیرمین مشاہد حسین سید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کو شاید افغانستان سے اب زیادہ دلچسپی نہ رہے۔ اگر لاکھوں کی فوج افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی، تو آٹھ دس ہزار بھی فاتح نہیں ہو سکتے تھے۔

مشاہد حسین کہتے ہیں کہ صدر بائیڈن کا افغانستان سے انخلا کا فیصلہ بہرحال درست ہے کہ یہ لا متناہی جنگ تھی۔ امریکہ کو، ان کے بقول، اس جنگ میں شکست ہوئی ہے لیکن وہ اپنی کامیابی کے دعوے کے ساتھ نکل رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ ویتنام اور کمبوڈیا سے نکل گیا تھا۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ وزیٹنگ اسکالر، پاکستان میں نمل یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثروت رؤف وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں اس موقف سے اتفاق نہیں کرتیں کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کے بعد یہاں کی صورتحال سے کوئی سروکار نہیں رہے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس مسئلے پر تشویش تھی اور رہے گی۔ اگرچہ اس وقت تک امریکہ افغانستان کے اندر امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، لیکن وہ امن عمل کا حصہ رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جنگ اب افغانوں کی جنگ نہیں رہی۔ یہ سرحدیں عبور کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اور دیگر بڑی طاقتوں کی کوشش ہو گی کہ اس جنگ کو کسی سیاسی تصفیے پر ختم کیا جائے۔

امریکہ اور اتحادی فورسز کا خلا کون پورا کرے گا؟

سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ فوجی انخلا کا فیصلہ درست ہے، لیکن اس کا سیاسی پہلو تشنہ ہے۔ ایک تو یہ کہ ابھی تک بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہوئے اور دوسرا یہ کہ امریکہ ایسے میں افغانستان کو خیرباد کہہ کر جا رہا ہے، جب اس نے ایران اور چین کے ساتھ، ان کے بقول، ایک سرد جنگ بھی شروع کر دی ہے۔ یہ ایسے دو ملک ہیں جو افغانستان کے امن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پروفیسر ثروت رؤف کہتی ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ترکی کا کردار بہت ابھر کر سامنے آیا ہے۔ استبول کانفرنس اگر منعقد ہو جاتی ہے تو امید رکھی جا سکتی ہے کہ افغان دھڑے مستقبل کے کسی لائحہ عمل پر متفق ہو جائیں۔ ان کے بقول، سلطنت عثمانیہ کے دور سے اب تک ترکوں کا ایشیا کے اس خطے پر اثر و رسوخ رہا ہے۔

ثروت رؤف کے خیال میں چین کا کردار بہت اہم ہو گا، جو پہلے ہی افغانستان کو اپنے 'ون بیلٹ ون روڈ' منصوبے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان اور ازبکستان بھی افغانستان کے ساتھ ریلوے ٹریک کے ذریعے جڑنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان کی حکمت عملی کیا ہو گی؟

سینیٹر مشاہد حسین سید اور پروفیسر ثروت رؤف، دونوں اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائے گا اور وہ صرف طالبان کی حمایت کرنے کی بجائے افغانستان کے تمام فریقوں کے ساتھ تعلق رکھے گا اور چاہے گا کہ افغان قیادت خود مسائل کا حل نکالے۔

مشاہد حسین کے مطابق، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ بالخصوص فوج کے موجودہ سربراہ نے افغانستان پر ماضی کی غلطیوں کی تلافی کی ہے۔

ان کے بقول،’’ پہلے ہم نے اپنے فیورٹ بنا لیے تھے، اب پالیسی ہے کہ افغانستان کے عوام خود فیصلہ کریں‘‘

انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں میں افغانستان کے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ بھی آئے، ہزارہ لیڈر کریم خلیلی بھی آئے، گلبدین حکمت یار بھی ائے اور احمد شاہ مسعود کے بھائی بھی پاکستان آئے۔ اب افغانستان میں پشتون ہوں، تاجک ہوں، ازبک یا ہزارہ، پاکستان سب کے ساتھ بات کرنا چاہ رہا ہے۔

امریکہ اور اتحادیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں امن قائم رہے گا؟

ثروت رؤف کہتی ہیں کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ افغان سر زمین کو بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس استعمال نہ کر سکیں۔ اب اس کے بعد یہی حل رہ جاتا ہے کہ طالبان امن کے لئے آگے بڑھیں۔ ان کے بقول، ایک اندرونی تبدیلی آنی ہے جس پر دو سے تین سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ افغانستان چالیس سال کی قتل و غارت گری سے باہر آجائے گا۔

تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ جب طالبان کو پاکستان جیسے ملک سے مکمل مدد حاصل نہیں ہو گی، انہیں بین الاقوامی جہادی گروپوں سے بھی خود کو دور رکھنا ہوگا اور اگر کسی سطح پر وہ حکومت میں آئے تو انہیں بین الاقوامی مالی امداد کی اہمیت کے پیش نظر جنگ و جدل کا راستہ اختیار کرنے سے بھی بچنا ہوگا۔

سینیڑ مشاہد حسین کا بھی کہنا ہے کہ افغانستان کے قائدین سیاسی تصفیے کی طرف جانا چاہیں گے۔ ان کے بقول، انہوں نے بھی غلطیوں سے سیکھا ہے کہ خانہ جنگی سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان روس یا امریکہ کی بمباری سے اس قدر تباہ نہیں ہوا جتنا خود افغان دھڑوں کی آپس کی لڑائی سے اسے نقصان پہنچا ہے۔

مشاہد حسین کے مطابق، پاکستان، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کی بھی کوشش ہو گی کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ ان کے بقول، امید کی ایک کرن یہ ہے کہ امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں کوئی اور سپر پاور موجود نہیں ہو گی اور یہ ملک اب بڑی طاقتوں کے لیے میدان جنگ نہیں بنے گا۔

واشنگٹن میں تجزیہ کاروں کی سوچ کتنی مختلف ہے؟

واشنگٹن کے تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے پاکستان سینٹر سے منسلک تجزیہ کار مارون وائن بام کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد شورش زدہ ملک کو مزید خانہ جنگی کی طرف جاتا دیکھ رہے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، "وہاں خانہ جنگی کے لیے درکار تمام اجزا موجود ہیں"۔

ان کے بقول، "امریکہ کے نکلنے سے افغان سکیورٹی فورسز پر غیر معمولی دباو میں اضافہ ہو گا۔ کنٹریکٹرز کو ملک سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ چیزیں افغانستان کی صورتحال کو تیزی سے بدتر بنا سکتی ہیں۔ افغانستان میں مسلح گروپ بھاری اسلحہ رکھتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''طالبان کے اندر بھی دھڑے بندی ہو گی، جلد نہ سہی لیکن کچھ عرصے بعد یا آگے چل کر وہ بھی تقسیم ہوں گے۔ یہ اجزا خانہ جنگی اور غیر یقینی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اور نوے کی دہائی کی نسبت کئی محاذوں پر غیر یقینی صورتحال ہو گی"۔

ان کا کہنا ہے کہ جب امریکہ اور تمام غیر ملکی افواج مکمل طور پر افغانستان سے چلی جائیں گی تو وہ کابل سمیت بڑے شہروں پر حملے کریں گے۔ اس سے افغان عوام کا اعتمام متزلزل ہو گا کہ وہ ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔

کیا امریکہ افغان فوج کو فضائی مدد دینا جاری رکھ سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں مارون وائن بام کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا۔ امریکہ کے پاس افغانستان میں کسی بھی طرح کی کارروائی کا جواز انسداد دہشتگردی ہے کہ وہاں القاعدہ یا داعش ہے، لیکن وہ افغان فوج کی مدد نہیں کریں گے۔ نہ ہی امریکہ کے پاس انٹیلی جنس رپورٹس ہوں گی اور نہ ہی اس کے فوجی زمین پر ہوں گے، جو اس فضائی مدد کے لیے ضروری عوامل ہیں۔

کیا طالبان 2001 کے مقابلے میں آج مستحکم حیثیت میں ہیں؟

مارچ میں یو ایس کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کئی پیمانوں سے پتا چلتا ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ فوجی حیثیت سال دو ہزار ایک کی بنسبت آج کہیں زیادہ مستحکم ہے۔

اس رپورٹ میں افغانستان کے چونتیس صوبوں کے چار سو اضلاع میں طالبان یا حکومت کے کنٹرول قائم ہونے سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ہے۔

افغانستان میں تعمیر نو کی نگرانی کے امریکی ادارے سگار نے بتایا ہے کہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ تک افغان حکومت کو 54 فیصد اضلاع پر کنٹرول حاصل تھا۔ 34 فیصد میں کنٹرول کے لیے رسہ کشی جاری تھی جبکہ 12 فیصد اضلاع طالبان کے قبضے میں تھے۔

واشنگٹن کے ایک اور تھنک ٹینک ووڈرو ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام سے منسلک تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ صدر بائیڈن نے افغانستان سے امریکہ کی جنگ کو ختم کر دیا ہے لیکن افغان جنگ ختم نہیں ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG