رسائی کے لنکس

کرونا وائرس نے بھارت میں امیر غریب کا فرق مٹا دیا


بھارت کے شہر گوہاٹی میں حفاظتی سوٹ میں ملبوس طبی عملہ ایک مریض کو اسپتال منتقل کر رہا ہے۔ 24 مئی 2021

بھارت میں کرونا وائرس کی نئی لہر کی وجہ سے امیر اور غریب سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر مالی وسائل رکھنے والے امیروں، دو وقت کی روٹی کے محتاج غریبوں اور بااختیار بیوروکریٹس کو اپنے پیاروں کے علاج کے لیے ایک ہی انداز کی مشکلات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں اب بھی کرونا وائرس کے مثبت کیسوں کی روزانہ تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں ملک بھر سے کرونا کا نشانہ بننے والے تین خاندانوں کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے جس سے وائرس کے پھیلاؤ کے بعد بھارت کی ایک حقیقی تصویر سامنے آتی ہے۔

کرونا کی تازہ لہر اپریل میں پھیلنا شروع ہوئی اور اس کا سب سے بڑا نشانہ دارالحکومت نئی دہلی بنا ہے۔ تقریباً دو ہفتوں کے بعد جنوبی شہر اور آئی ٹی کا مرکز بنگلور بھی اس کا ہدف بن گیا۔ پھر اس وبا نے بڑے شہروں سے نکل کر قصبوں اور دیہاتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا۔

گوہاٹی میں ایک طبی کارکن ایک مریض کا کرونا ٹیسٹ لے رہا ہے۔ 14 مئی 2021
گوہاٹی میں ایک طبی کارکن ایک مریض کا کرونا ٹیسٹ لے رہا ہے۔ 14 مئی 2021

ابھیمانیو چکروتی کی کہانی

نئی دہلی کے ابھیمانیو چکروتی ایک فیکٹری کے مالک ہیں اور وہ ایک پوش علاقے میں رہتے ہیں۔ ان کا خاندان سات افراد پر مشتمل ہے جس میں ان کے بوڑھے والد بھی شامل ہیں، جو ایک عرصے سے گھر پر زیر علاج ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل کے تیسرے ہفتے میں ان کی فیملی میں کھانسی وغیرہ کی شکایت ہوئی جو خاندان کے دیگر افراد میں بھی پھیل گئی۔ احتیاطاً انہوں نے کووڈ-19 کا ٹیسٹ کرانے کا سوچا اور لیبارٹریز کو فون کرنے شروع کیے۔ کئی دنوں تک اس میں ناکام رہنے کے بعد آخرکار ایک لیبارٹری کا عملہ سر سے پاؤں تک حفاظتی سوٹ میں ملبوس ٹیسٹ لینے آیا۔

تیسرے دن رزلٹ آنے پر پتا چلا کہ چار افراد کو کرونا ہے، جس میں ان کے 73 سالہ والد بھی شامل تھے۔ ان کی طبعیت مسلسل خراب ہو رہی تھی۔ وہ ڈاکٹروں کو فون پر فون کرتے رہے۔ مگر کوئی معالج دستیاب نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے شہر کی صورت حال تھی جہاں ملک بھر میں سب سے زیادہ طبی سہولتیں دستیاب تھیں۔

آخرکار انہوں نے تھائی لینڈ میں اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا، جن کے دہلی کی ایک ڈاکٹر سے خاندانی تعلقات تھے۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کرانے کے بعد بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر اسپتال میں داخل کرانے کو کہا۔ چکروتی بتاتے ہیں کہ انہوں نے شہر اور آس پاس کے تمام مہنگے، پرائیوٹ اور سرکاری اسپتال چھان مارے۔ مگر کہیں بستر خالی نہیں تھا۔ آخرکار وہ اپنے والد کو گھر لے گئے اور بلیک میں آکسیجن کا ایک سیلنڈر خرید لیا۔ لیکن انہیں وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی۔ یہاں وہاں مارے مارے پھرنے اور رابطوں کے بعد چندی گڑھ میں انہیں ایک شخص کے پاس مشین مل گئی، جسے لانے کے لیے انہیں پانچ گھنٹے کی ڈرائیو کرنا پڑی۔

چکروتی اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ چند دن کے بعد ان کے والد کی طبیعت سنبھل گئی۔

پدماوتی کی کہانی

دوسری کہانی بنگلور کی پدماوتی کے خاندان کی ہے۔ بنگلور بھارت کا امیر ترین شہر ہے۔ لیکن پدماوتی جھگیوں میں رہنے والی اور کوڑا کرکٹ میں سے چیزیں جمع کر کے ری سائیکل کے لیے بیچنے والی ایک غریب اور ان پڑھ عورت ہے۔اس کے تین بچے ہیں۔ وہ انہیں پڑھا نہیں سکی کیونکہ اس کی ماہانہ آمدنی محض 50 ڈالر ہے۔

چند روز اس کا گلا خراب رہا جسے وہ نظر انداز کرتی رہی۔ لیکن جب کھانسی بڑھی، سانس لینے میں دشواری ہونے لگی اور آکسیجن کی سطح بہت گر گئی تو اسے اسپتال لے جانا پڑا۔

اسپتال میں آکسیجن تو تھی لیکن وینٹی لیٹر کا بیڈ دستیاب نہیں تھا۔ اسے جینے کے لیے مشین کی اشد ضرورت تھی۔ وہ صرف انتظار ہی کر سکتی تھی۔ وہ اپنے بچوں کو تسلی دیتی رہی کہ فکر نہ کریں۔ وہ ٹھیک ہو جائے گی اور سب کچھ اپنے معمول پر آ جائے گا۔

لمبے انتظار کے بعد آئی سی یو کا ایک بیڈ خالی ہوا۔ اسے وہاں منتقل کیا گیا۔ لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ وینٹی لیٹر پر جانے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد وہ مر گئی۔ اس کی عمر 48 سال تھی۔

اشوک امروہی کی کہانی

تیسری کہانی گڑگاؤں کے امروہی خاندان کی ہے۔ اشوک امروہی کو جب 21 اپریل کو ہلکی سی کھانسی ہوئی تو انہیں کوئی فکر نہیں تھی۔ انہیں کرونا کی ویکسین لگ چکی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ محض نزلہ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی، مگر بیورکریسی میں چلے گئے۔ وہ الجیریا، موزمبیق اور برونائی میں بھارت کے سفیر رہ چکے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد گڑگاؤں میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان کا تعلق اپر مڈل کلاس فیملی سے تھا۔ اور ان کا ایک وسیع حلقہ تھا۔

چند ہی دن کے بعد ان کی اہلیہ یمنی بھی بیمار پڑگئیں۔ پھر جب ان کا آکسیجن لیول گرنا شروع ہوا تو انہیں فکر ہوئی۔ آکسیجن کا سیلنڈر خرید کر گھر لایا گیا۔ لیکن آکسیجن کی سطح مسلسل گرتی رہی۔ اس پر انہیں اسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ممبئی میں کرونا ویکسین کے ایک مرکز پر ویکسین ختم ہونے کا بورڈ لگا ہے۔ اپریل 2021
ممبئی میں کرونا ویکسین کے ایک مرکز پر ویکسین ختم ہونے کا بورڈ لگا ہے۔ اپریل 2021

یمنی بتاتی ہیں کہ ان کے ایک دوست نے ایک اسپتال میں بستر کا انتظام کر دیا۔ ہم نے سوچا کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ ہم بھاگم بھاگ اپنی گاڑی میں اسپتال پہنچے اور مرکزی دروازے کے سامنے گاڑی پارک کی۔ ہمارا خیال تھا کہ اب انہیں بستر تک پہنچانا چند منٹ کی بات ہے۔ لیکن ایک طویل انتظار ہمارا منتظر تھا۔ پہلے رجسٹریشن کرانا تھی۔ بہت سے فارم بھرنے تھے اور اس سے بھی پہلے اپنی باری کا انتظار کرنا تھا جہاں ہمارے آگے ایک لمبی قطار تھی۔

باہر شدید گرمی تھی۔ اشوک گاڑی کے اندر تھے۔ ہم نے گاڑی کا اے سی پوری رفتار سے چلا رکھا تھا۔ ہم نے اسپتال کے عملے سے درخواستیں کیں۔ منت سماجت کی۔ انہیں دھمکیاں دیں، واسطے دیے۔ مگر اس کا کہنا تھا کہ باری آنے سے پہلے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ایک گھنٹہ گزرا، پھر دوسرا، تیسرا، پھر چوتھا اور جب پانچواں گھنٹہ شروع ہوا تو اشوک کی کہانی ختم ہو گئی۔ انہوں نے اسپتال کے مرکزی دروازے پر اپنی باری کے انتظار میں دم توڑ دیا۔

کرونا وائرس کی موجودہ لہر نے بھارت میں امیر، غریب اور صاحب اختیار لوگوں کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ علاج کی سہولت حاصل کرنے کے لیے سب کو ایک جیسی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سرکاری بد انتظامی یا غیر سنجیدگی، کرونا بحران کی سنگینی کی وجہ کیا رہی؟

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، بحران کے عروج کے دوران اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر کم پڑ رہے تھے۔ حالات اب بھی اچھے نہیں۔ آکسیجن کی شدید قلت ہے۔ لوگ ڈاکٹروں اور لیبارٹری ٹیسٹوں کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ کئی کئی دن کے انتظار کے بعد باری آتی ہے، حتیٰ کہ کئی مریض اس دوران موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مرنے والے ہندوؤں کی میت کو مذہبی رسومات کے مطابق جلانے کے لیے لمبی قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات بھی رونما ہو ئے ہیں کہ لوگ اپنے مردے دریائے گنگا میں بہانے لگے ہیں جس سے آلودگی اور بیماریوں کے پھوٹ پڑنے سمیت کئی اور طرح کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرونا کی نئی لہر نے ایک ایسے وقت میں حملہ کیا جب نریندرمودی کی حکومت طویل لاک ڈاؤن اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر نمایاں کنٹرول حاصل کر چکی تھی۔ اس سال جنوری میں وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا تھا کہ کووڈ-19 کو شکست دے دی گئی ہے۔ اور مارچ میں وزارت صحت نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ کرونا کا کھیل ختم ہو گیا ہے۔

دوسری جانب صحت کے ماہرین نئی لہر کے خطرے سے مسلسل آگاہ کر رہے تھے، لیکن، بقول ان کے، کوئی بھی ان کے انتباہ پر کان دھرنے کو تیار نہیں تھا۔

اسی دوران گنگا میں نہانے کا ایک بڑا مذہبی تہوار ہوا جب میں ملک بھر سے لاکھوں زائرین نے شرکت کی۔ بھیڑ اس قدر تھی کہ کندھے سے کندھا ملا ہوا تھا۔ پھر انہی دنوں کئی ریاستوں میں انتخابات ہوئے جس کے لیے لاکھوں ووٹر اپنے گھروں سے باہر نکلے۔

ماہرین کے بقول، وسیع پیمانے کی اس بے احتیاطی کے بعد کا منظر نامہ دنیا کے سامنے ہے۔ کئی ہفتوں سے بھارت عالمی سطح پر کووڈ-19 کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں ایک دن میں نئے کیسز اور ہلاکتوں کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ گو روزانہ کی بنیادوں پر کووڈ-19 کے پازٹیو کیسز چار لاکھ سے گھٹ کر تین لاکھ کے لگ بھگ ہو چکے ہیں۔ لیکن خطرات اب بھی موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG