رسائی کے لنکس

دلیپ کمار نے رپورٹر سے کہا، 'ممبئی نہیں مسلمانوں کے گھر جل رہے ہیں'


دلیپ کمار (فائل فوٹو)

انٹرویو ختم ہونے کے بعد دلیپ صاحب نے کہا، "میرا یہ پیغام اپنے قارئین تک پہنچا دیجیے کہ جب تک اردو زندہ ہے، ہندوستانی مسلمانوں کی غیرت بھی زندہ ہے۔ ان کی ثقافت بھی زندہ ہے اور ان کا تاریخی کردار بھی زندہ ہے۔"

بالی وڈ میں پہلے بھی خان ہوا کرتے تھے یعنی فیروز خان، عباس خان، سنجے خان اور اب بھی بھارت کی فلم انڈسٹری پر شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان سپر اسٹار ہیں۔ لیکن ایک زمانہ تھا جب فلمی دنیا میں صرف ایک ہی خان ہوا کرتے تھے: یوسف خان، جنھیں دنیا نے دلیپ کمار کے نام سے جانا اور سراہا۔

دلیپ کمار کی شہرت کے عروج کے زمانے میں گفتگو کے دوران جب ’خان صاحب‘ نام لیا جاتا تو سب سمجھ جاتے تھے کہ یہ یوسف خان یعنی دلیپ کمار کا تذکرہ ہے۔

بھارت میں دلیپ کمار کی مقبولیت کسی مذہبی یا طبقاتی شناخت کی محتاج نہیں تھی اورنہ ہی اسے کسی دائرے میں قید کیا جا سکتا ہے۔ انہیں ہر طبقے میں مقبولیت حاصل تھی۔ لیکن مسلمانوں میں وہ نہ صرف بے انتہا مقبول تھے بلکہ لوگ انھیں عقیدت کی حد تک چاہتے تھے۔

جب بھی ان کی کوئی فلم ریلیز ہونے والی ہوتی تو پہلے سے ہی اس کا چرچا شروع ہو جاتا اور اس قسم کی گفتگو ہونے لگتی کہ دیکھیں اس بار دلیپ کمار نے کیسی اداکاری کی ہے یا کیا اسٹائل اپنایا ہے۔

اپنے کالج کے زمانے میں اسٹیج پر دلیپ کمار کی نقل اور ان کی ممکری کرنے والے شاعر و ادیب، مصنف اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اے رحمان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ایک ہوتی ہے پسندیدگی اور ایک ہوتی ہے عزت و توقیر۔ دلیپ کمار کو پسندیدگی اور مقبولیت ہی نہیں ملی بلکہ عزت و توقیر بھی ملی۔

اے رحمان دہائیوں قبل دہلی کے نیو ہورائزن اسکول میں منعقد ہونے والے ایک پروگرام کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس تقریب میں دلیپ کمار بھی شریک تھے۔

انھوں نے دلیپ کمار سے ملاقات کی اور ان کو بتایا کہ آپ تو نوجوانوں کے آئیڈیل بھی ہیں اور ’آئیڈل‘ بھی۔ لوگ آپ کی پوجا کرتے ہیں لیکن میں آپ کی اردو کا عاشق ہوں اور آپ کی اردو سن کر "دل پشوری ہو جاتا ہے۔"

وہ کہتے ہیں کہ چوں کہ دلیپ کمار پشاور کے رہنے والے تھے اور دل پشوری ہونا ایک محاورہ بھی ہے لہٰذا دلیپ کمار اس جملے سے بہت محظوظ ہوئے۔ انھوں نے قہقہہ لگایا اور ان کی طرف مخاطب ہو کر ان سے گفتگو کرنے لگے۔

اے رحمان ایڈووکیٹ کے بقول دلیپ کمار کے عہدِ شباب میں جب وہ ہر نوجوان کے دل کی دھڑکن ہوا کرتے تھے تو بعض حلقوں کی جانب سے دیو آنند کو ان کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن وہ کوشش ہر طبقے میں دلیپ کمار یکساں مقبولیت کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکی۔

مذہبی حلقوں میں مقبولیت

لکھنئو کے ایک سینئر صحافی سمیع اللہ قمر بھی دلیپ کمار کے چاہنے والوں میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے مسلم گھرانوں میں اگرچہ فلموں میں کام کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے اس کے باوجود وہ دلیپ کمار سے عقیدت رکھتے تھے۔

ان کے مطابق بھارت کے مسلمانوں کو اس بات پر فخر تھا کہ دلیپ کمار جو کہ بالی وڈ کے بے تاج بادشاہ ہیں، ہمارے ہم مذہب ہیں۔ اسی لیے مذہبی حلقوں میں بھی دلیپ کمار کو بہت زیادہ عزت و توقیر حاصل تھی۔

دہلی کے فلمی ماہنامہ 'گلفام' کے لیے 1982 میں دلیپ کمار کا پہلا غیر فلمی انٹرویو کرنے والے اور 'شہنشاہِ جذبات: دلیپ کمار' نامی کتاب کے مصنف فاروق ارگلی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اس انٹرویو کے لیے مشہور فلم صحافی سلطان اختر کے ساتھ انھوں نے پالی ہل علاقے میں واقع دلیپ کمار کے گھر پر قیام کیا تھا۔

ان کے بقول دلیپ کمار نے تفصیلی انٹرویو دیا اور اسے ریکارڈ کرنے کی بھی اجازت دی۔ انہوں نے اپنے عقیدے کے متعلق بھی اس انٹرویو میں تفصیلی گفتگو کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور انہیں اس پر فخر بھی ہے۔

فاروق ارگلی نے بتایا کہ دلیپ کمار نے تین بار عمرہ کیا تھا۔ اپنے سیاسی نظریات کے متعلق دلیپ کمار کا کہنا تھا کہ وہ بہت سے سیاست دانوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود با رہا یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اس پر انھوں نے اقبال کا یہ شعر پڑھا تھا:

گاہ مری نگاہِ تیز چیر گئی دلِ وجود
گاہ الجھ کے رہ گئی اپنے توہمات میں

’ سیاسی تہذیب کے فریم میں فٹ نہیں ہو سکتا‘

دلیپ کمار نے انہیں بتایا تھا کہ وہ ذاتی طور پر سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور جوڑ توڑ سے دور رہتے ہیں لیکن ایک شہری ہونے کے ناتے سیاست اور الیکشن میں دل چسپی لینا قدرتی بات ہے۔ ووٹ کا استعمال کرنا جمہوری حق ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب الیکشن صنعت بن چکا ہے۔

ان کے بقول دلیپ کمار نے کہا تھا کہ وہ کبھی یہ پسند نہیں کریں گے کہ کوئی انھیں سیاست داں کہے یا یوں کہے کہ دلیپ کمار یا یوسف خان کے کچھ سیاسی مقاصد ہیں۔ وہ ایک سوشل قسم کے آدمی ہیں اور اس سلسلے میں ان کے نظریات غالباً رائج طور طریقوں اور موجودہ سیاسی تہذیب کے فریم میں فٹ نہیں ہو سکتے۔

یاد رہے کہ دلیپ کمار 2000 سے 2006 تک کانگریس کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے تھے۔

پنڈت نہرو نے دلیپ کمار کو الیکشن مہم چلانے کا کہا

سیاست سے ان کا تعلق پرانا تھا۔ وہ بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ان کی بہت سی فلموں میں نہرو کے نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ ان دونوں میں دوستی بھی تھی۔

اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے 26 اپریل 1996 کے شمارے میں پنکج وہرہ نے لکھا تھا کہ دلیپ کمار نے ان کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے والد غلام سرور خان اور دادا حاجی محمد خان پشاور میں کانگریس پارٹی سے متعلق تھے۔

پنڈت نہرو نے 1962 میں دلیپ کمار کو فون کرکے ’نارتھ بومبے‘ کے حلقے سے کانگریس کے امیدوار وی کے کرشنا مینن کی انتخابی مہم چلانے کے لیے کہا تھا۔ وہ بہت سخت مقابلہ تھا۔ کیوں کہ کرشنا مینن کے مقابلے میں معروف سوشلسٹ رہنما آچاریہ جے بی کرپلانی کانگریس کے خلاف انتخاب لڑ رہے تھے۔

پنڈت نہرو کے علاوہ مہاراشٹرا کے سیاست دان رجنی پٹیل، شیوسینا کے لیڈر بال ٹھاکرے اور مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ شرد پوار بھی دلیپ کمار کے چند سیاسی دوستوں میں شامل رہے ہیں۔ بعد میں سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی سے بھی ان کے تعلقات قائم ہوئے۔

شیرف آف ممبئی

رجنی پٹیل اور شرد پوار نے 1980 میں دلیپ کمار کو ’شیرف آف ممبئی‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت دلیپ کمار ممبئی سے 200 کلومیٹر دور ایک ہل اسٹیشن مہابلیشور میں تعطیلات گزار رہے تھے۔ اسی دوران رجنی پٹیل نے ان کو فون کرکے اس کی اطلاع دی اور کہا کہ انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی اطلاع ذرائع ابلاغ کو دے دی گئی ہے۔

بھارت میں شیرف ایک اعزازی منصب ہے جو کسی ممتاز شہری کو دیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے انتظامی اختیارات نہیں ہوتے۔

یاد رہے کہ شیرف آف ممبئی کا منصب پہلے سے قائم تھا لیکن عوامی حلقے اس سے ناواقف تھے۔ دلیپ کمار کے شیرف بننے کے بعد ہی لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ بھی کوئی اعزازی منصب ہے۔

دلیپ کمار نے راجیہ سبھا کے رکن، شیرف آف ممبئی کی حیثیت سے اور ایک سوشل شخصیت ہونے کے ناتے عوامی فلاح و بہبود کی بہت سی تحریکوں میں حصہ لیا اور ضرورت مند عوام کی خدمت کی۔

فسادات کے متاثرین کی امداد

بابری مسجد کے انہدام کے بعد جب 1993 میں ممبئی میں بدترین فساد پھوٹ پڑا تو دلیپ کمار نے اپنے گھر کا دروازہ فساد زدگان کے لیے کھول دیا۔ انھوں نے محمد علی روڈ اور بھنڈی بازار کے مسلم متاثرین کے لیے بڑے پیمانے پر ریلیف کا کام بھی کیا۔

انوپما چڈھا نے انگریزی رسالہ 'سنڈے میگزین' کے 28 فروری سے چھ مارچ 1993 کے شمارے میں لکھا ہے کہ دلیپ کمار نے ان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذہب کے نام پر مذہب کو ہی گالیاں دی جا رہی ہیں۔ تمام مذاہب رحم دلی اور بھائی چارے کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ممبئی میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس طرح بے قصور عوام نفرت کے شکار بن رہے ہیں، وہ مذہب دشمنی ہے۔

ممبئی کے سینیئر صحافی، ادیب اور شاعر ندیم صدیقی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ دلیپ کمار نے فسادات کے دوران اپنے سیاسی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ممبئی کے مسلمانوں کی زبردست مدد کی تھی۔

ان کے مطابق دلیپ کمار ملت دوست شخص تھے۔ غالباً 1986 میں یا اس کے بعد ممبئی کے اردو روزنامہ ’انقلاب‘ کے 50 سالہ جشن میں دلیپ کمار اور رفیق زکریا وغیرہ نے شرکت کی تھی۔

بالی وڈ لیجنڈ دلیپ کمار چل بسے
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:51 0:00

اس موقعے پر دلیپ کمار نے جو تقریر کی تھی اس میں انھوں نے ایک جملہ یہ بھی کہا تھا جو بھولتا نہیں کہ "لوگ قومی دھارا قومی دھارا کی دہائی دیتے ہیں۔ مجھے بتائیے کہ وہ قومی دھارا بہتا کہاں ہے۔"

انھوں نے کہا کہ دلیپ کمار صرف ملت نواز ہی نہیں تھے بلکہ پوری انسانیت کی خدمت میں یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت لوگوں کی مدد کی۔

ان کے مطابق دلیپ کمار نے اردو ادیبوں کی بھی بڑی خدمت کی اور یہاں تک کہ بعض لوگوں کو لندن بھجوا کر ان کے علاج معالجے تک کا انتظام کیا۔ البتہ وہ اس کی تشہیر نہیں کرتے تھے۔

ہفت روزہ 'گواہ' حیدرآباد کے مدیر فاضل حسین پرویز نے 1986 میں روزنامہ ’رہنمائے دکن حیدرآباد‘ کے رپورٹر کی حیثیت سے دلیپ صاحب کا انٹرویو کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ دلیپ کمار نے اس موقع پر اپنی رفاہی سرگرمیوں کی تفصیلات بتائیں اور اپنے مینیجر سے ایک فائل منگوا کر بہت ساری درخواستیں دکھائیں اور بتایا کہ وہ کس طرح عوامی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔

ان کے بقول جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ سیاست میں کیوں نہیں آتے؟ تو انھوں نے کہا کہ سیاست اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ اگر وہ سیاست میں آجائیں تو پھر وہی ہوگا کہ "اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی۔"

دلیپ کمار نے ان سے کہا کہ لوگ دلیپ کمار کو دیکھتے ہیں، یوسف خان کو کوئی نہیں دیکھتا کہ وہ ممبئی کی جھگی جھونپڑی بستیوں میں کیا کام کر رہا ہے۔

فاضل حسین پرویز نے بتایا کہ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے فسادات کے موقع پر سرکاری ٹیلی ویژن ’دوردرشن‘ کے ایک صحافی نے ان کا انٹرویو کیا اور ان سے پوچھا کہ دلیپ صاحب ممبئی جل رہا ہے آپ کو کیسا لگتا ہے؟ تو انھوں نے کہا تھا کہ ممبئی کہاں جل رہا ہے؟ صرف مسلمانوں کے گھر جل رہے ہیں۔

اردو ڈگمگاتی نہیں

دہلی کے اردو ہفت روزہ ’نئی دنیا‘ کے لیے دلیپ کمار کا انٹرویو کرنے والے سینئر صحافی ایم ودود ساجد نے بتایا کہ جب حکومتِ پاکستان نے ان کو اپنا اعلیٰ سول اعزاز 'نشانِ امتیاز' دیا تو بھارت میں ایک حلقے کی جانب سے دلیپ کمار پر تنقید کی جا رہی تھی جس سے وہ بہت دل برداشتہ تھے۔

جب وہ دہلی کے ہوٹل تاج میں ان کا انٹرویو کرنے پہنچے تو وہاں انگریزی اور ہندی کے کئی صحافی بیٹھے ہوئے تھے۔ جب دلیپ کمار اپنے کمرے سے نکل کر ویٹنگ روم کی طرف بڑھے تو متعدد صحافی ہڑبڑا گئے اور کسی کے ہاتھ سے کیمرہ چھوٹا تو کسی کے ہاتھ سے ٹیپ ریکارڈر۔

پنڈت نہرو اور دلیپ کمار کی آپس میں دوستی تھی۔ فائل فوٹو
پنڈت نہرو اور دلیپ کمار کی آپس میں دوستی تھی۔ فائل فوٹو

ان کے مطابق وہ چپ چاپ کھڑے رہے۔ دلیپ کمار نے ان کی طرف دیکھا اور نام پوچھا اور خود ہی کہا کہ "اچھا آپ اردو سے ہیں۔ اردو ڈگمگاتی نہیں ہے۔"

ودود ساجد کے بقول انھوں نے انٹرویو کے دوران نشانِ امتیاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ہنگامہ مچانے والے نامعقول اور بے وقوف لوگ ہیں۔ ایک مفروضہ دشمن نے ہندوستان کو امتیازی درجہ دے دیا اور یہ احمق اس پر چیں بہ چیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انٹرویو ختم ہونے کے بعد دلیپ صاحب نے کہا، "میرا یہ پیغام اپنے قارئین تک پہنچا دیجیے کہ جب تک اردو زندہ ہے، ہندوستانی مسلمانوں کی غیرت بھی زندہ ہے۔ ان کی ثقافت بھی زندہ ہے اور ان کا تاریخی کردار بھی زندہ ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG