رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کا تین روزہ دورۂ سعودی عرب: کیا اہداف حاصل ہو سکیں گے؟


مبصرین کا کہنا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر ہونے والا یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات پہلے کی سطح پر لانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے تین روزہ دورے کا آغاز کر دیا ہے جس کو دیرینہ اتحادی ممالک کے درمیان تناؤ کے بعد تعلقات میں بحالی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دورے پر روانہ ہونے سے قبل وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ، تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں جس کی جڑیں مشترکہ عقیدے، مشترکہ تاریخ اور باہمی حمایت کے ساتھ ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر ہونے والا یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات پہلے کی سطح پر لانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی عرب کو صحافی جمال خشوگی کے قتل اور بائیڈن انتظامیہ کے سخت رویے کے باعث عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

مبصرین خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی تناظر میں اس دورے کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے اس دورے سے قبل اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات گزشتہ سال میں کم ترین سطح پر دیکھے گئے تھے۔ یمن جنگ سے تعلقات میں پیدا ہونے والی دوریاں 2020 میں اس وقت انتہائی سطح تک پہنچ گئی جب وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلانیہ طور پر سعودی عرب سے مسئلہ کشمیر پر حمایت نہ کرنے کی صورت نیا اسلامی بلاک بنانے کی بات کی تھی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہِ کشمیر اور یمن جنگ پر پیدا ہونے والی دوریوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہو گا اور اسلام آباد و ریاض کے تعلقات ماضی کی سطح پر بحال ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ماضی میں گہرے اور مثالی رہے ہیں۔ دونوں ملک دفاع، معیشت اور خطے و عالمی امور میں مشترکہ حکمتِ عملی اور ایک دوسرے پر انحصار کرتے رہے ہیں۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور کابینہ کے دیگر ارکان پر مشتمل ایک وفد بھی اس دورے میں وزیرِ اعظم عمران خان کے ہمراہ ہے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ دورے میں فریقین باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہِ خیال کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی قیادت کے ساتھ وزیرِ اعظم کی مشاورت میں دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا جس میں معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، پاکستان کی افرادی قوت کے لیے ملازمت کے مواقع اور مملکت میں پاکستانی آبادی کی فلاح و بہبود شامل ہیں۔

سابق سفارت کار غالب اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں تناؤ رہا ہے اور عمران خان کے دورہٴ ریاض کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو ماضی کی سطح پر بحال کیا جائے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عالمی حالات اور خطے کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کی پالیسی کے مشترکات کی سطح بڑھ گئی ہے اس وجہ سے دونوں ایک دوسرے کی زیادہ مدد کر سکتے ہیں۔

غالب اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بحالی کے محرکات کئی ہیں جن میں بائیڈن انتظامیہ کی سعودی عرب کی جانب سخت رویہ اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ مثالی رہا ہے اور دونوں نے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی بہت زیادہ مدد کی ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان حفیظ چوہدری کہتے ہیں کہ یہ دورہ دو برادر ممالک کے تعلقات میں مضبوطی کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے پرامن تعلقات استوار ہوں اور محمد بن سلمان نے بھی ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی بات کی ہے۔

محمد بن سلمان صحافی خشوگی کے قتل کے ذمہ دار ہیں: امریکی سینیٹ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:15 0:00

وزیرِِ اعظم عمران خان نے بھی گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے ایران کے ساتھ امن کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل مسلم امہ کے لیے باعث تقویت ثابت ہوگا۔

سفارت کار علی سرور نقوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی مستقل پالیسی ہے کہ وہ تمام اسلامی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور اس ضمن میں ممالک کے باہمی اختلافات میں فریق نہیں بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسی پالیسی کے تحت پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے تنازعے میں ہمیشہ ثالثی کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممالک کے درمیان رشتوں کی صورتِ حال ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ سعودی عرب کے قطر سے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اب ریاض تہران کے درمیان بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔

علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی حکمتِ عملی کے تحت چلا ہے اور ریاض نے اسلام آباد کے اس مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔

سابق سفارت کار غالب اقبال کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں پہلے جیسی قربت نہیں رہی اور اس تناؤ کو دیکھتے ہوئے ریاض کا متبادل ذرائع پر کام کرنا دانش مندانہ حکمتِ عملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ سے عالمی سیاست میں اکھٹے رہے لیکن ایران سعودی عرب تعلقات میں بہتری خطے اور عرب دنیا کے لیے بہت بہتر ثابت ہوگی۔

دوسری جانب وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے توقع ظاہر کی ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں سعودی عرب پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں مدد دے گا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے دورے سے قبل منگل کو پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ریاض پہنچے جس پر مبصرین کے بقول پاکستان کی تعلقات میں بحالی کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

جنرل باجوہ نے جمعے کو ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ دفاع، علاقائی صورتِ حال اور افغان امن عمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG