رسائی کے لنکس

افغانستان میں قیامِ امن: ’پاکستان سیاسی تصفیے کی توقع رکھتا ہے‘


پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد افغانستان میں سیاسی تصفیے کی توقع رکھتا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد افغانستان میں سیاسی تصفیے کی توقع رکھتا ہے جس کے نتیجے میں امن قائم ہو۔ تاکہ افغانستان کے راستے سے پاکستان اور ازبکستان کی ایک دوسرے سے منسلک ہونے کے راہ ہموار ہو سکے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے یہ بات تاشقند میں ایک پاکستان، ازبکستان تجارتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے وسیع امکانات ہیں۔ البتہ وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ان تعلقات کا انحصار اس بات پر ہے دونوں ممالک کس قدر جلد ایک دوسرے سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ذریعے ازبکستان پاکستان کے ساتھ منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر خطوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔

منصوبے کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو ازبکستان اور وسطی ایشیا کی دیگر ریاستوں تک تجارتی رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تکمیل کے لیے افغانستان میں امن ضروری ہے۔ پاکستان افغانستان میں سیاسی تصفیے کا خواہاں ہے تاکہ افغانستان کے راستہ پاکستان اور ازبکستان کے منسلک ہو سکے جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان ازبکستان کے صدر کی دعوت پر دو روزہ دورے پر جمعرات کو تاشقند پہنچے۔ اس دورے کے دوران پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہے۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر بھی دستخط ہونے کی توقع ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم عمران خان ازبکستان کی میزبانی میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے جس کا محور علاقائی رابطوں کے امکانات اور چیلنجز ہیں۔

اس کانفرنس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم کے علاوہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے علاوہ کئی دیگر ممالک کے اعلیٰ حاکم بھی شرکت کررہے ہیں۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے کے اہم ملک افغانستان کو ایک غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف غیر ملکی افواج کا انخلا ہو رہا ہے۔ دوسری جانب طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا عمل معطل ہے۔ دوسری جانب حال ہی تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران تنظیم کے رکن ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں نے افغانستان کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کرتے ہوئے افغان امن عمل کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ تاشقند میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر شرکا کی توجہ افغانستان کی تازہ ترین صورتِ حال پر بھی مرکوز ہو جہاں غیر ملکی فورسز کے انخلا کے بعد سیکیورٹی کی صورتِ حال مزید خراب ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

افغانستان کے راستے تجارت کے حوالے سے اقتصادی امور کے تجزیہ کار فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر وسطی اور جنوبی ایشیا کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرنے کی راہ میں کئی چیلنج حائل ہیں۔ ان کے بقول جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا اس وقت تک تجارتی رابطوں کا حقیقت بننا شاید ممکن نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کی خواہش ہے کہ افغانستان میں فریقین کے درمیان شراکت داری سے جامع حکومت بنے۔ البتہ طالبان اس بات پر تیار نظر نہیں آتے۔

فرخ سلیم نے کہا کہ تجارتی راستوں اور راہداریوں کی تعمیر کے لیے خطے کے دو بڑے دیگر ممالک چین اور بھارت کی شمولیت بھی ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت بھی خطے کے ممالک کے درمیان تجارتی رابطوں کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG