رسائی کے لنکس

کرونا ویکسین کی تیسری خوراک، تجویز پر فائزر کمپنی اور امریکی حکام کی مشاورت


فائل فوٹو

دوا ساز کمپنی فائزر کے نمائندوں نے پیر کے روز امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے حکام سے کرونا ویکسین کی تیسری خوراک لگانے کی اجازت لینے کے معاملے پر بات چیت کی۔

فائزر کمپنی کے مطابق اس کی تیار کردہ ویکسین کی دو خوراکوں کے دیے جانے کے بارہ ماہ کے اندر تیسری خوراک بوسٹر کا کام کرتی ہے، اور یہ کہ تیسری خوراک لوگوں کی قوت مدافعت کو مزید تقویت دے گی۔

حالیہ دنوں میں صدر جو بائیڈن کے ایک مشیر نے اس تجویز کے متعلق کہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں لوگوں کو تیسری خوراک دینے کی ضرورت پڑے۔

یاد رہے کہ صدر بائیڈن نے کووڈ نائنٹین کی عالمی وبا کے خلاف عوام کو ویکسین لگانے کے اہم ترین کام کو ترجیح قرار دیتے ہوئے ویکسین لگانے کے عمل پر بھرپور توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

خبر رساں ادارے، ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے فائزر کے ماہر ڈاکٹر مکیل دولستن نے بتایا کہ دو خوراکوں کے مقابلے میں اضافی تیسری خوراک دینے سے لوگوں کے اندر قوت مدافعت بڑھانے والی اینٹی باڈیز کے بننے میں پانچ سے دس گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ لہذا، اس بوسٹر خوراک کا دینا ایک ضرورت ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے مشیر اور متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاوچی نے کرونا ویکسین کی تیسری خوراک کی تجویز کو رد نہیں کیا، لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی حکومت کے لیے اس تجویز کی سفارش کرنا قبل از وقت ہو گا۔

اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ امراض کی روک تھام کے ادارے سنٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن اور ایف ڈی اے نے بجا طور پر کہا تھا کہ فی الوقت لوگوں کو کرونا ویکسین کی تیسری خوراک دینا لازم نہیں ہے۔

ڈاکٹر فاوچی نے کہا کہ کلینیکل اسٹڈیز اور لیبارٹریوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا نے ابھی یہ ثابت نہیں کیا کہ فائزر یا موڈرنا کمپنی کی دو خوراکوں اور جانسن اینڈ جانسن کی ایک خوراک کے بعد اضافی بوسٹر خوراک دینا درکار ہوگا۔

ساتھ ہی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا بالکل ممکن ہے کہ آئندہ مہینوں میں جوں جوں نیا ڈیٹا دستیاب ہوگا حکومت لوگوں کو ان کی عمر اور میڈیکل حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تیسری اضافی خوراک کو بطور بوسٹر لگوانے کی تلقین کرے گی۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق،اب تک امریکہ کے 48 فیصد عوام کو کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔

لیکن، چیلنج یہ ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں ابھی تک ویکسین لگوانے کی شرح بہت کم ہے اور انہی علاقوں میں کرونا وائرس کی انتہائی متعدی ڈیلٹا قسم تیزی سے پھیل رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG