رسائی کے لنکس

پاکستان سے باہر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے پاکستانی فن کار


ملا کی دوڑ مسجد تک اور پاکستانی اداکاروں کی دوڑ بالی وڈ تک۔ یہ بات اس وقت تک تو ٹھیک تھی جب پاکستان کے ٹی وی اور فلم اداکار صرف اپنے ملک میں کام کرتے تھے لیکن 1989 میں برٹش منی سیریز 'ٹریفک' سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی قائم ہے۔

اس سے قبل سوائے لندن میں مقیم ضیا محی الدین کے 'ہالی وڈ' پاکستانی اداکاروں کی پہنچ سے دور تھا لیکن 'ٹریفک' کے بعد بند سگنل ایسے کھلا کہ پاکستان کے کئی اداکاروں کو نہ صرف باہر جانے کا موقع ملا، بلکہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔

ایسے ہی اداکاروں کی فہرست میں شامل ہونے جا رہی ہیں نمرا بچہ جنہوں نے حال ہی میں زی فائیو کی ویب سیریز 'چڑیلز' کے ذریعے سب کو اپنا گرویدہ بنایا۔

لیکن یہ کام تو وہ کافی عرصے سے کر رہی ہیں، چاہے پاکستان یا انگلینڈ میں تھیٹر ہو، پاکستان میں فلمیں یا ٹی وی ڈرامے ہوں۔ نمرا بچہ نے جس جگہ بھی قدم رکھا، اسے فتح کر لیا۔

ہالی وڈ میں ان کی انٹری 'مس مارویل' سے تو ہو رہی ہے لیکن اس کے بعد وہ کہاں جاتی ہیں، اس کا انتظار ان کے مداحوں کو بے چینی سے رہے گا۔

آئیے ایسے چند اداکاروں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے پہلے پاکستان میں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور اس کے بعد رنگ، نسل اور زبان کے فرق کو بھول کر انگریزی فلموں اور ٹی وی شوز میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور کامیاب رہے۔

طلعت حسین

طلعت حسین پاکستان کے وہ واحد اداکار ہیں جو اپنے ملک میں ٹی وی، فلموں اور ریڈیو کے بعد دیگر ممالک میں بھی کام کرنے میں نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ ایوارڈ بھی جیتے۔

70 کی دہائی میں جب وہ انگلینڈ میں زیرِ تعلیم تھے تو انہوں نے ایک برطانوی سٹ کام میں کام کیا تھا لیکن انہیں اصل پذیرائی 1989 میں چینل فور کی سیریز 'ٹریفک' سے ملی جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

2006 میں بھی انہیں ناروے میں بننے والی فلم 'امپورٹ ایکسپورٹ' میں شان دار اداکاری پر 'امینڈا ایوارڈ' بھی ملا۔ اس سے قبل 1989 میں بھارتی فلم 'سوتن کی بیٹی' میں بھی ان کی اداکاری کو شائقین نے بے حد پسند کیا تھا۔

جمال شاہ

'ٹریفک' میں جہاں طلعت حسین کا کردار مرکزی تھا، وہیں جمال شاہ کا رول بھی کم نہ تھا۔

دونوں اداکار اس منی سیریز کی تمام اقساط میں ایکشن میں نظر آئے تھے اور دونوں کے کردار اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل تھے۔

اس سیریز کے بعد جمال شاہ کو 1991 میں بننے والی فلم 'کے ٹو' میں بھی کاسٹ کیا گیا لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنے امیج کے برعکس کردار ملنے پر انٹرنیشنل فلموں میں کام کرنے سے معذرت کر لی۔

'ٹریفک' میں ان کے ساتھ فریال گوہر (جو اس وقت ان کی اہلیہ تھیں)، راحت کاظمی، بہروز سبزواری اور ثاقب شیخ نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے اور ان سب کی کارکردگی کو بے حد پسند کیا گیا تھا۔

فاران طاہر

سینئر اداکار نعیم طاہر اور یاسمین طاہر کے بڑے بیٹے فاران طاہر نے امریکہ جانے سے پہلے پی ٹی وی کے لیے چند ڈرامے کیے تھے لیکن گزشتہ تین دہائیوں سے وہ امریکی ٹی وی اور ہالی وڈ میں لاتعداد کردار ادا کر چکے ہیں جن میں 'آئرن مین' میں ولن، 'چارلی ولسنز وار' میں پاکستانی فوجی، 'اسٹار ٹریک' میں کیپٹن، 'ایلیزیم' میں صدر اور 'ایسکیپ پلان' میں آرنلڈ شوارزنیگر اور سلوسٹر اسٹیلون کے لیے جان دینے والا جاوید کے کردار شامل ہیں۔

1989 میں امریکی ٹی وی شو 'لا اینڈ آرڈر' سے لےکر 2019 میں 'میک گائیور' تک، وہ ہر ہٹ شو کا حصہ رہے ہیں جس میں 'دی پریکٹس ایلیس، 'دی ویسٹ ونگ'، 'جیگ'، '24'، 'منک'، 'ویئر ہاؤز تھرٹین'، 'کرمنل مائنڈز'، 'بلیک لسٹ'، 'ہاوائی فائیو او'،' پرزن بریک' اور 'اسکینڈل' قابل ذکر ہیں۔

فاران طاہر اس وقت ہالی وڈ کی فلم 'دی ونڈو' کے کو پروڈیوسر بھی ہیں جب کہ ساتھی پاکستانی اداکار شاز خان کی فلم 'دی مارشل آرٹسٹ' میں بھی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، 'دی ونڈو' کے ذریعے پاکستانی اداکاروں فیصل قریشی اور سمیع خان کی بھی ہالی وڈ میں انٹری ہو گی۔

علی خان

پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں کام کرنے سے پہلے علی خان نے ہالی وڈ اور بالی وڈ میں اپنا لوہا منوایا تھا، برطانوی شہری ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز بھارتی ٹی وی چینل 'دور درشن' سے کیا۔

بالی وڈ کی چند فلموں میں کام کرنے کے بعد انہیں ہالی وڈ کی 'اے مائٹی ہارٹ' میں مرکزی ولن کے رول میں کاسٹ کیا گیا جس کے بعد انہوں نے انٹرنیشنل فلموں میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیں۔

انہوں نے 2007 میں 'ٹریٹر'، 2011 میں شاہ رخ خان کی' ڈون ٹو'، اور حال ہی میں 'موگل موگلی' میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ٹی وی شوز 'اسٹرائیک بیک'،' انڈین سمرز' اور' پارٹنرز ان کرائم' میں بھی کام کر چکے ہیں۔

عدنان صدیقی، ساجد حسن

علی خان کے ساتھ ساتھ پاکستانی اداکاروں عدنان صدیقی اور ساجد حسن نے بھی 'اے مائٹی ہارٹ' کے ذریعے ہالی وڈ میں قدم رکھا۔ ان دونوں اداکاروں نے اس فلم میں پاکستانی کردار تو ادا کیا لیکن فلم کی کامیابی کی وجہ سے انٹرنیشنل شائقین میں ان کی مقبولیت بڑھی۔

اس کے بعد ساجد حسن نے ایک بھارتی فلم 'اذان' میں اور عدنان صدیقی نے 'موم' میں کام کیا لیکن ٹی وی پر مصروفیت کی وجہ سے وہ دوبارہ ہالی وڈ کا رخ نہ کر سکے۔

میکال ذوالفقار

میکال ذوالفقار ویسے تو متعدد بھارتی فلموں میں اداکاری کر چکے ہیں لیکن 2007 میں انہوں نے ہالی وڈ اداکار برائن کاکس، اور نصیر الدین شاہ اور اوم پوری کے ساتھ انگلش فلم 'شوٹ آن سائٹ' میں کام کیا۔

اس کے بعد انہوں نے پاکستانی فلموں میں بھی اداکاری کی لیکن ان کے مداح انہیں ایک بار پھر کسی انٹرنیشنل پراجیکٹ کا جلد حصہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

ماہ نور بلوچ

پاکستان کی بہت کم اداکاراؤں نے انٹرنیشنل فلموں میں کام کیا ہے لیکن ماہ نور بلوچ نے ہالی وڈ فلم 'ٹورن' میں نہ صرف مرکزی کردار ادا کیا بلکہ اپنی جان دار اداکاری سے انٹرنیشنل فلم بینوں کو بھی اپنا مداح بنا لیا۔

اس فلم میں ماہ نور بلوچ نے ایسی بیوی اور ماں کا کردار ادا کیا تھا جس کے شوہر کو نائن الیون کے وقت بے قصور ہونے کے باوجود پولیس نے حراست میں لیا تھا اور اب اس کے بیٹے کو ایک دہشت گرد حملے میں ملوث کیا جا رہا ہے جس میں اس کی جان گئی۔

اس فلم میں ماہ نور بلوچ کے شوہر فاران طاہر بنے اور اس نے امریکہ میں کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔

علی کاظمی

علی کاظمی کے والدین اداکار راحت کاظمی اور ہدایت کارہ ساحرہ کاظمی کی وجہ شہرت پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستگی ہے لیکن وہ اپنے نانا اداکار شیام کے نقشِ قدم پر چل پڑے جنہوں نے 1940 میں کئی بھارتی فلموں میں بطور ہیرو کام کیا تھا۔

طویل عرصے سے کینیڈا میں مقیم علی کاظمی متعدد انٹرنیشنل پراجیکٹس میں کام کر چکے ہیں جن میں 'بیبا بوائز'، 'دی بریڈ ونر' اور' فنی بوائے 'شامل ہیں۔ دیپا مہتا کی 'فنی بوائے ' کو اس سال آسکرز کے لیے کینیڈا کی آفیشل انٹری قرار دیا گیا ہے۔

اس سے قبل وہ پاکستان میں 'دھوپ کنارے' اور 'ذکر ہے کئی سال کا' میں کام کر چکے تھے لیکن پھر کینیڈا جانے کے بعد انہوں نے کئی کینیڈین اور امریکی ٹی وی شوز میں کام کیا جس میں 'دی بارڈر'، 'ایلفاز'، 'کوورٹ افیئرز'، اور' ٹیکن' قابلِ ذکر ہیں۔

حمید شیخ

پاکستانی اداکار حمید شیخ کا شمار ان چند باصلاحیت لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملک کا نام کئی محاذ پر روشن کیا۔

1990 کی دہائی میں وہ پی ٹی وی کوئٹہ سے منسلک رہے، پھر امریکی نیوز چینل 'سی این این' سے وابستہ رہے اور اس کے بعد فلموں کا رخ کیا تو ایک انٹرنیشنل فلم 'قندھار بریک' پروڈیوس کی۔

ان کی جان دار اداکاری کی وجہ سے پاکستانی فلم 'خدا کے لیے'، انٹرنیشنل فلمیں 'قندھار بریک'، 'ہارٹس اینڈ مائنڈز' اور 'دی مین فرام کھٹمنڈو' آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔

فاران طاہر کی ہالی وڈ فلم 'دی ونڈو' میں فیصل قریشی، اور سمیع خان کے ساتھ ساتھ وہ بھی ایکشن میں نظر آئیں گے۔

میشا شفیع

میشا شفیع نے سن 2013 میں ہالی وڈ، بالی وڈ اور پاکستان میں فلم میں کام کر کے ایک منفرد اعزاز حاصل کیا۔

میرا نائر کی 'دی ریلکٹنٹ فنڈا مینٹلسٹ' میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کرنے والے رز احمد کی بہن اور اوم پوری و شبانہ اعظمی کی بیٹی کا رول نبھایا جب کہ بھارتی فلم 'بھاگ ملکھا بھاگ' میں ملکھا سنگھ کی ساتھی ایتھلیٹ پری زاد بنیں۔

بلال لاشاری کی فلم 'وار' میں وہ مرکزی ولن تھیں اور فلم میں ان کا شمعون عباسی کے ساتھ کیا ہوا ڈانس آج بھی شائقین کے ذہنوں میں نقش ہے۔

آصف رضا میر

پاکستان میں فلموں اور ٹی وی میں اداکاری اور پھر ٹی وی پروڈکشن میں قدم جمانے کے بعد معروف اداکار آصف رضا میر نے رواں سال برٹش ٹی وی سیریز 'گینگز آف لندن' میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

اس سال اپریل میں ریلیز ہونے والی سیریز میں آصف رضا میر نے ہالی وڈ اداکار کولم مینی، سمیت کئی انٹرنیشنل اداکاروں کے ساتھ اسکرین پر جلوے بکھیرے اور آج کل کی نسل جو انہیں احد رضا میر کے والد کے طور پر جانتی ہے، اسے خوش گوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔

عدنان جعفر

اور آخر میں بات پاکستانی اداکار عدنان جعفر کی، جنہوں نے رواں سال مشہور ٹی وی سیریز 'ہوم لینڈ' میں پاکستانی فوجی کا کردار ادا کیا، عدنان جعفر کا شمار ان چند نیوز اینکرز میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کریئر کا آغاز نیوز سے کیا، لیکن بعد میں اسٹیج، ٹی وی اور فلمز میں اداکاری کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG