رسائی کے لنکس

جنسی ہراسانی کا الزام:ضیا چشتی کی کمپنی نے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دی


امریکی کانگرس کی ایک فائل فوٹو جہاں پر ایوان نمائندگان کی کیمیٹی کی سماعت میں کاروباری ماہر ضیا چشتی پر ان کی سابقہ ساتھی اٹانیا سپوٹس ووڈ نے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔

ٹیکنالوجی کی ایک بڑی امریکی کمپنی افینیٹی نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جو اس کے سابقہ چیئرمین پاکستانی نژاد ضیا چشتی کے خلاف جنسی ہراسانی اور تشدد کے الزام اور ان کے طرز عمل کی تحقیق کرے گی۔

پاکستانی نژاد امریکی کاروباری ماہر ضیا چشتی جو افینیٹی کے بانی اور چیف ایگزیکیٹو افسر تھے، کمپنی میں کام کرنے والی اپنی سابقہ امریکی ساتھی ٹاٹانیا سپوٹس ووڈ کے ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی کی سماعت کے دوران لگائے گئے جنسی تشدد کے سنگین الزامات کے بعد گزشتہ ہفتے مستعفی ہوگئے تھے۔

کمپنی کے ایک ترجمان کے بقول ضیا چشتی نے 16 نومبر کو ان کے خلاف لگائے لگائے الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

افینیٹی نے کمپنی کی تنظیم سازی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کے ڈائریکٹر لیری بیبایو کو بورڈ کا چیرمین مقرر کیا گیا ہے۔

ساتھ ہی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ سابقہ سی ای او کے طرز عمل کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جسے امریکہ کے محکمہ انصاف میں خدمات سر انجام دینے والی سابقہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل لیزلی کالڈویل لیڈ کریں گی۔

کمپنی افینیٹی کے سابقہ چیئرمین ضیا چشتی
کمپنی افینیٹی کے سابقہ چیئرمین ضیا چشتی

مصنوعی ذہانت سے کاروباری رابطوں کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے نئے چیرمیں لیری بیبایو نے کہا کہ چیئرمین کی حیثیت سے یہ ان کی اولین ترجیح ہو گی کہ کمپنی کے ورکرز کو محفوظ رکھا جائے اور یہ کہ کمپنی اپنے کلائنٹس کو بہترین خدمات فراہم کرتی رہے۔

انہوں نے ضیا چشتی کا نام لیے بغیر ان پر عائد الزام کے معاملے پر تحقیق کے حوالے سے کہا کہ یہ کمپنی کے لیے ایک بہتر مستقبل کے حصول کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم ہے۔

خیال رہے کہ کمپنی میں کام کرنے والی 27 سالہ ٹاٹانیا سپوٹس ووڈ نے واشنگٹن میں ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کے روبرو ضیا چشتی پر 2017 میں برازیل کے دورے کے دوران جنسی تشدد کا سنگین الزام لگایا تھا۔

اس الزام کے عائد ہونے کے بعد کمپنی نےایک بیان میں کہا تھا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اعلان کے مطابق ضیا چشتی چیئرمین کی پوزیشن سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

اخبار فائنینشل ٹائمز نے اس مسئلے پر خبر دیتے ہوئے کمپنی کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا تھا کہ ضیا چشتی "خود پر لگائے گئے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہیں۔"

اخبار کے مطابق، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، جو کمپنی کی ایڈوائزری بورڈ کے چیرمین تھے، ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد کمپنی سے استعفی دے کر علیحدہ ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ افینیٹی میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ داروں نے ان الزامات کے سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس سے قبل الزامات کے ردعمل میں افینیٹی نے کہا تھا کہ کمپنی اس قسم کے الزامات کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ اخبار دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق، کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ کمپنی نے چیرمین کے خلاف دعووں کی آزادانہ تحقیقات کرائی تھی جس کے بعد کمپنی اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ ٹاٹانیا کی طرف سے ثالثی کے دیے گئے حوالے درست نہیں تھے۔

یاد رہے کہ اپنے بیان میں ٹاٹانیا نے کہا تھا کہ جب انہوں نے کمپنی میں ملازمت اختیار کی تو ان کے معاہدے میں ثالثی کے حوالے سے رازداری کی ایک شق تھی اور یہ کہ ضیا چشتی کو یہ معلوم تھا کہ ثالثی کی یہ شق انہیں بچا لے گی۔

ٹاٹانیا سپوٹس ووڈ، جنہوں نے کولمبیا یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی، کہتی ہیں کہ وہ ضیا چشتی کو 12 یا 13 برس کی عمر سے جانتی ہیں کیونکہ وہ ان کے والد کے بزنس ایسوسی ایٹ اور دوست تھے۔ اکیس سال کی عمر کے بعد، ان کے بیان کے مطابق ٹاٹانیا ضیا کے ساتھ کئی بار ان کے ساتھ ڈیٹ پربھی گئیں، بعد میں یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ بعد ازاں ٹاٹانیا نے کہا کہ انہوں نے ضیا چشتی کی طرف سے افینیٹی کمپنی میں ترقی کے شاندار موقع کے امکان کے پیش نظر کمپنی میں ملازمت کرلی۔

خیال رہے کہ ضیا چشتی کو کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر حکومت پاکستان نے 2016 میں 'ستارہ امتیاز' سے نوازا تھا۔

XS
SM
MD
LG