رسائی کے لنکس

محمد رضوان سے حسن علی تک، پاکستان کی کامیابی میں ہر کھلاڑی نے حصہ ڈالا


پاکستان نے لگ بھگ 17 برس بعد جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے۔

بالآخر وہ دن آ گیا جس کا شائقین کو بے صبری سے انتظار تھا۔ اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی غیر موجودگی کے باوجود پاکستان کرکٹ ٹیم نے جس جوش اور ولولے سے راولپنڈی ٹیسٹ کے آخری دن جنوبی افریقہ کا مقابلہ کیا وہ قابلِ تعریف ہے۔

نئے کپتان بابر اعظم کی کپتانی اور قدرے نئے کھلاڑیوں کی موجودگی میں اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے میزبان ٹیم کی دو۔صفر سے تاریخی کامیابی نے پاکستان کرکٹ کے مداحوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔

370 کے تعاقب میں مہمان ٹیم کو 274 رنز پر آؤٹ کرنا ایک مشکل کام تو تھا۔ لیکن پاکستانی پیسرز نے نئی گیند تھامتے ہی اس مشکل کام کو آسان کر دکھایا۔ ایک موقع پر جیت کی جانب گامزن نظر آنے والی مہمان ٹیم آخری دن کے دوسرے سیشن میں پاکستانی بالرز کے سامنے لڑکھڑا گئی۔

دو میچز کی سیریز میں دو۔صفر سے کامیابی ہر لحاظ سے ایک بڑی فتح ہے۔ پاکستان نے آخری بار جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ سیریز میں شکست 2003 میں دی تھی جب محمد یوسف کی کپتانی میں پاکستان نے لاہور میں مہمان ٹیم کو آٹھ وکٹ سے ہرا کر سیریز میں برتری حاصل کی تھی۔ یہ وہی میچ تھا جس میں اوپنر توفیق عمر نے 111 رنز اسکور کیے تھے۔ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے عاصم کمال 99 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تھے۔ اس کے بعد پاکستان نے 2013 میں ابوظبی میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔ لیکن سیریز میں کامیابی کے لیے انہیں 17 سال کا طویل انتظار کرنا پڑا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے لگ بھگ 17 سال بعد جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے لگ بھگ 17 سال بعد جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس سیریز سے قبل پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف صرف چار ٹیسٹ میچز جیتے تھے۔ لیکن ان دو کامیابیوں کے بعد پاکستان نے 28 میچز میں سے چھ جیتے اور 15 میں اسے ناکامی ہوئی جب کہ سات میچز ڈرا ہوئے۔

سترہ سال کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی سے نہ صرف بابر اعظم کو بحیثیت کپتان حوصلہ ملے گا، بلکہ کوچنگ اسٹاف کو ایک اور موقع مل جائے گا جو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں ناقص کارکردگی کی وجہ سے تنقید کی زد میں تھا۔

پنڈی ٹیسٹ کا ہیرو جس نے میچ میں دس وکٹیں حاصل کیں

پنڈی ٹیسٹ میں جہاں بلے بازوں نے اچھی کارکردگی دکھائی وہیں حسن علی کی شان دار بالنگ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی ٹیسٹ میں اپنی مایوس کن بالنگ کا ازالہ انہوں نے پنڈی میں 10 وکٹیں حاصل کر کے کیا جس میں دونوں اننگز میں پانچ، پانچ شکار نمایاں تھے۔

2018 میں محمد عباس کی آسٹریلیا کے خلاف 10 وکٹوں کے بعد وہ پہلے پاکستانی بالر ہیں جنہوں نے ایک ہی میچ میں 10 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ راولپنڈی کے مقام پر اس سے قبل یہ کارنامہ 1997 میں محمد زاہد اپنے پہلے ٹیسٹ میں انجام دے چکے تھے۔ حسن علی نے نہ صرف محمد زاہد کے بعد آنرز بورڈ پر جگہ بنائی بلکہ اس پرفارمنس کے ذریعے ٹیسٹ ٹیم میں اپنی جگہ بھی پکی کر لی۔

انجری کے بعد ٹیم میں واپس آنے والے حسن علی نے میچ میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔
انجری کے بعد ٹیم میں واپس آنے والے حسن علی نے میچ میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستانی کھلاڑیوں کی فیلڈنگ کا معیار بہتر، کیچز گرانے سے زیادہ پکڑے

اس تاریخی کامیابی کا سہرا صرف بیٹسمین اور بالرز کو نہیں بلکہ فیلڈرز کو بھی جاتا ہے جن کی کارکرگی نے مہمان ٹیم کے ساتھ ساتھ مداحوں کو بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔

قومی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے فیلڈ میں جس قسم کی پھرتی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ دید تھا۔ فہیم اشرف سے لے کر عمران بٹ، عابد علی سے لے کر شاہین شاہ آفریدی تک ہر کھلاڑی نے جان مار کر نہ صرف رنز روکے بلکہ کچھ ناقابلِ یقین کیچز بھی تھامے۔

خاص طور ہر سلپس میں جہاں عموماً کیچز چھوٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ سیریز سے قبل پریکٹس کے دوران ہیڈ کوچ مصباح الحق کو فیلڈنگ ڈرلز کرتے دیکھا گیا تھا اور انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ قومی ٹیم اس بار فیلڈ میں زیادہ متحرک نظر آئے گی اور ان کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل اسکورر کی کہانی
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:21 0:00

محمد رضوان کی صورت میں پاکستان کو رنز بنانے والا وکٹ کیپر مل گیا

دنیا کی زیادہ تر کرکٹ ٹیموں کے پاس ایک ایسا وکٹ کیپر ہے جو وکٹ کے پیچھے کیچز پکڑنے کے ساتھ ساتھ مشکل وقت میں وکٹوں کے آگے رنز بھی اسکور کرتا ہے۔ سابق کپتان سرفراز احمد کی ناقص فارم کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ میں کئی عرصے سے پاکستان کو ایک ایسے گلوزمین کی تلاش تھی جو بالآخر محمد رضوان پر آ کر ختم ہو گئی۔

2019 میں آسٹریلیا کے خلاف 95 رنز کی اننگز ہو، گزشتہ سال انگلینڈ میں نصف سینچریاں یا پھر رواں سال کیویز کے خلاف شان دار سیریز، محمد رضوان کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا وکٹ کیپر مل گیا جو رنز بھی بناتا ہے اورکیچز بھی پکڑتا ہے۔

پنڈی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں انہوں نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی پہلی سینچری بنا کر ان سات وکٹ کیپرز کے کلب میں جگہ بنا لی جنہوں نے پاکستان کے لیے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ اس سے قبل امتیاز احمد، تسلیم عارف، معین خان، کامران اکمل، سرفراز احمد اور راشد لطیف پاکستان کے لیے ٹیسٹ سینچریاں بنا چکے ہیں اور اس کلب میں محمد رضوان کی انٹری ایک شان دار اضافہ ہے۔

فہیم اشرف، آل راؤنڈر کی تلاش مکمل

پاکستان کرکٹ ٹیم نے نوے کی دہائی میں اظہر محمود اور عبد الرزاق جیسے آل راؤنڈرز دنیائے کرکٹ کو دیے جنہیں رنز بنانے کے ساتھ ساتھ وکٹیں لینے کا بھی ہنر آتا تھا۔ گزشتہ 10 سالوں سے پاکستان کو ایک ایسے آل راؤنڈر کی تلاش تھی جو میڈیم پیس بالنگ کے ساتھ ساتھ رنز بنانا بھی جانتا ہو لیکن انور علی، حماد اعظم اور دیگر کھلاڑیوں کی انٹرنیشنل لیول پر ناکامی کی وجہ سے پاکستان کو محمد حفیظ اور شعیب ملک پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

فہیم اشرف کی ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب واپسی سے پاکستان کا یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ 2018 میں آئرلینڈ کے خلاف ڈیبیو ٹیسٹ میں 83 اور پھر اسی سال لارڈز میں 37 رنز کی اننگز کھیلنے والے کھلاڑی کو 2019 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے بعد ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ لیکن پھر دسمبر 2020 میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے انہوں نے جو واپسی کا راستہ اختیار کیا اس میں انہیں روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔

کیویز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 91 رنز کے بعد انہوں نے دوسرے ٹیسٹ میں 48 اور 28 رنز کی اننگز کھیلی۔ کراچی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 64 رنز کی اہم اننگز اور پھر پنڈی ٹیسٹ میں 78 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز اس کارکردگی کے بعد نہ صرف وہ ٹیسٹ ٹیم کے مستقل رکن بن گئے ہیں بلکہ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں بھی انہیں منتخب نہ کرنا زیادتی ہوگی۔

میرٹ پر سلیکشن، ڈومیسٹک کرکٹ کے اسٹارز، ٹیسٹ کے ہیروز

جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں جہاں پاکستان ٹیم نے نئے کپتان بابر اعظم کو موقع دیا وہیں یہ سیریز نئے چیف سلیکٹر محمد وسیم کے لیے بھی کسی چیلنج سے کم نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جس پراعتماد انداز میں خراب کارکردگی والے کھلاڑیوں کو باہر کیا تھا۔ اس سے ایک بات تو واضح ہو گئی تھی کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے اسٹارز کو ٹیسٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ قومی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف فیلڈ پر جان مارتی نظر آئی۔

محمد وسیم نے جہاں حسن علی کو محمد عباس پر فوقیت دی وہیں 34 سالہ نعمان علی کو ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنایا۔ مسلسل فیل ہونے والے حارث سہیل کی جگہ فواد عالم کو موقع دیا جب کہ فہیم اشرف کو ایک آل راؤنڈر کی حیثیت سے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ ان تمام کھلاڑیوں نے چیف سلیکٹر کو مایوس نہیں کیا اور شان دار کھیل پیش کیا۔

آل راؤنڈر فہیم اشرف نے دو میچز میں 85 کی اوسط سے 171 رنز اسکور کیے۔ فواد عالم 57 کی اوسط سے 170 رنز بنا کر دوسرے نمبر پر رہے جب کہ وکٹ کیپر محمد رضوان 83 کی اوسط سے 166 رنز اسکور کر کے تیسرے نمبر پر رہے۔

اور تو اور نعمان علی نے نچلے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 77 اور یاسر شاہ نے 69 رنز بنا کر پاکستان کی اس تاریخی فتح میں اپنا کردار بخوبی ادا کیا۔ نئے اوپنر عمران بٹ نے دو میچز میں صرف 36 رنز اسکور کیے لیکن فیلڈ میں چھ کیچز لے کر سب کو حیران کردیا۔

کیا کپتانی کی وجہ سے بابر اعظم کی بیٹنگ متاثر ہو رہی ہے؟

بابر اعظم کی صورت میں جہاں پاکستان کو ایک اچھا قائد مل گیا وہیں ان کی بیٹنگ فارم پر سب کو تشویش ہو رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کیشو مہاراج جیسے بالر کی گیند پر تین مرتبہ آؤٹ ہونا بابر اعظم جیسے بلے باز کو زیب نہیں دینا۔

انہوں نے سیریز کے دو میچز میں 122 رنز اسکور کیے جن میں ایک نصف سینچری شامل ہے جب کہ اس سیریز سے قبل وہ ہوم سیریز میں مسلسل تین سینچریاں اسکور کر چکے تھے۔

کیا کپتانی کا پریشر بابر اعظم کو اپنے نیچرل اسٹائل میں کھیلنے سے روک رہا ہے یا پھر انجری سے واپسی اس کی ذمہ دار ہے۔ اس کا فیصلہ تو اگلی ٹیسٹ سیریز میں ہو گا۔ فی الحال ان کی تمام تر توجہ ٹی ٹوئنٹی سیریز پر مرکوز ہے جس کا آغاز 11 فروری سے لاہور میں ہو گا جس میں قومی ٹیم پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن سے قبل آخری بار ایکشن میں نظر آئے گی۔

XS
SM
MD
LG