رسائی کے لنکس

افغان حکومت کی درخواست پر پاکستان کا واہگہ بارڈر کھولنے کا فیصلہ


فائل فوٹو

پاکستان نے ہمسایہ ملک افغانستان کی درخواست پر واہگہ بارڈر کو رواں ماہ 15 جولائی سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ سرحد کرونا وائرس کے باعث بند ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔ افغان تاجر برادری نے بھی پاکستانی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت کے لیے افغان برآمدات کی اجازت دی ہے۔ اس دوران کرونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا پھوٹنے کے بعد پاکستان نے رواں سال مارچ میں افغانستان اور ایران سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی سرحدوں کو بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے پاک افغان سرحد پر دو طرفہ تجارت اور واہگہ کے راستے بھارت جانے والی افغان برآمدات بھی رک گئی تھیں۔

حال ہی میں پاکستان نے پاک افغان سرحد پر دو طرفہ تجارتی راستوں کے ذریعے باہمی تجارت کی دوبارہ اجازت دی ہے۔ پاکستان نے افغان سرحد سے ملحقہ تجارتی راستوں کو دوبارہ کھول دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت جانے والی افغان برآمدات کے لیے واہگہ بارڈر کھول کر 'افغان ٹرانزٹ ٹریڈ' معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر دیا ہے اور افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کو 'کووڈ 19' سے پہلے کی حالت پر بحال کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ باہمی تعلقات اور تجارت سمیت تمام شعبوں میں رابطے مزید مضبوط بنانے اور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت افغانستان کو راہداری تجارت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان کی طرف سے واہگہ بارڈر کو افغانستان کی برآمدات کے لیے دوبارہ کھولنے پر تاحال افغان حکومت کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ افغانستان میں تجارت سے وابستہ حلقوں اور کاروباری برادری کے نمائندوں نے حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

'پاکستان افغانستان چیمبر آف کامرس' کے کابل دفتر کے سیکریٹری جنرل نقیب اللہ صافی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے سبب سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے پاک افغان تجارت بھی خاصی متاثر ہوئی ہے۔

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کو تجارت کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ (فائل فوٹو)
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کو تجارت کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ (فائل فوٹو)

انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد کی بندش کی وجہ سے دونوں ملکوں کی کاروباری برادری کو بہت مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے بقول کرونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان اور افغان حکومت نے اپنی سرحد کو باہمی تجارت کے لیے دوبارہ فعال کر دیا تھا لیکن واہگہ کے راستے سے افغانستان کی بھارت جانے والی برآمدات کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان کی برآمدات کے لیے واہگہ بارڈر کھولنے کا اعلان ایک اچھی خبر ہے۔

نقیب اللہ صافی کے مطابق افغانستان کی کاروباری برادری کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اب واہگہ کے راستے اپنی تجارتی اشیا برآمد کر سکتے ہیں۔

نقیب اللہ صافی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومت اگر اپنے تجارتی روابط کو مزید فروغ دیتے ہوئے سیاسی اور تیکنیکی معاملات حل کر لیں تو ناصرف دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان علاقائی تجارتی مرکز بھی بن سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ اور بعض تیکنیکی مسائل کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔

نقیب اللہ صافی کے بقول سن 2012 میں پاک افغان باہمی تجارت کا حجم تقریباً تین ارب ڈالر تھا لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی معاملات اور دیگر مسائل کی وجہ سے یہ کم ہو کر تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ملک باہمی تجارت کے حجم کو سن 2012 کی سطح پر دوبارہ لے جائیں تو یہ اسلام آباد اور کابل دونوں کے لیے نہایت مفید ہوگا۔

تجزیہ کار بھی یہ امید ظاہر کر رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کو کھولنے کے اقدامات نا صرف اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد کی بحالی میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ اس سے دونوں ملکوں کو باہمی تجارت کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG