رسائی کے لنکس

پاکستان میں 15 لاکھ مزید خوراکیں پہنچ گئیں، کرونا ویکسی نیشن کا دوبارہ آغاز


گذشتہ ہفتے کرونا ویکسین کی کمی سے معلق اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

پاکستان میں کرونا ویکسین کی مزید 15 لاکھ خوراکیں موصول ہونے کے بعد تعطل کا شکار کرونا ویکسی نیشن مہم دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

چین سے آنے والی 15 لاکھ کرونا ویکسین کی خوراکیں مختلف سینٹرز میں فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن میں مزید 50 لاکھ ویکسین کی خوراکیں پاکستان پہنچ جائیں گی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ ویکسین لگانے کا ریکارڈ بنایا گیا ہے جس میں ویکسین کی 23 لاکھ خوراکیں لگائی گئی ہیں۔

دریں اثنا پاکستان میڈیکل ایسویسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو کرونا ویکسین کی زیادہ خریداری کرنا ہوگی۔ عوام کرونا ویکسین لگوانا چاہ رہے ہیں لیکن ملک میں اس کی کمی ہے۔

پاکستان میں کرونا وبا سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے لیکن گزشتہ ہفتے کرونا ویکسین کی کمی سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں لیکن حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس ایک ہفتے کے دوران ملک میں زیادہ سے زیادہ ویکسین لگانے کا ریکارڈ بنایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر کے مطابق 12 جون سے 18 جون کے عرصے میں 23 لاکھ ویکسین کی خوراکیں لگائی گئی ہیں جن کی یومیہ تعداد تین لاکھ 32 ہزار877 بنتی ہے۔ یہ اب تک ایک ہفتے کے دوران لگائی جانے والی ویکسین کی خوراکوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 15 لاکھ مزید خوراکیں پاکستان پہنچ گئی ہیں اور آئندہ 10 روز میں مزید 50 لاکھ خوراکیں آنے سے آئندہ ہفتے ملک میں کرونا کی ویکسی نیشن کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہو گا۔

دوسری جانب سندھ اور پنجاب کے مختلف ویکسی نیشن مراکز میں ویکسین کی قلت رہی اور بیشتر مراکز کو دو روز کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

’ویکسی نیشن کا رحجان بڑھ رہا ہے‘

پاکستان میڈیکل ایسویسی ایشن(پی ایم اے) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کہتے ہیں کہ جب عوام میں ویکسین کے حوالے سے شعور پیدا ہو رہا ہے تو ایسے حالات میں ویکسین کی قلت اس پورے نظام کے لیے مشکل کا باعث بنے گی۔

ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند ہے کہ ملک میں عوام اپنی مرضی سے ویکسین لگوانا چاہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا پھر بھی عوام ویکسین لگوا رہے ہیں۔ ملک میں 18 برس سے زائد عمر کے افراد کے لیے واک ان ویکسی نیشن شروع ہونے کے بعد مراکز پر رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر افراد دوبارہ ویکسی نیشن کے لیے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ زیادہ مقدار میں ویکسین کی خریداری کرے اور ہر شخص کے لیے اس کی فراہمی یقینی بنائے۔

ڈاکٹر قیصر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے بدھ سے ویکسین کی قلت کا آغاز ہوا اور ہفتہ و اتوار کے روز یہ ویکسین سرے سے دستیاب ہی نہیں تھی لیکن پیر سے فراہمی دوبارہ بحال ہو رہی ہے اور مختلف مراکز میں ویکسین موجود ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ویکسین کی خوراکوں کی آمد سے یہ قلت دور ہو گئی ہے اور اب ملک بھر میں ویکسین سپلائی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کا دورہ کیا اور بتایا کہ اب تک 632 سفارت کاروں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

سب سے زیادہ چینی ویکسین کیوں؟

پاکستانیوں کو لگائی جانے والی چینی ساختہ ویکسین کے بارے میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس ویکسین کو منظور کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں چین کی تیار کردہ کرونا ویکسین لگانے کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں سب سے زیادہ مدد چین نے فراہم کی اور پاکستان کو مفت ویکسین دینے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں یہ فروخت بھی کی گئی۔

پاکستان پر متحدہ عرب امارات کی سفری پابندیوں کے حوالے سے شاہ محمود نے کہا کہ اس بارے میں متحدہ عرب امارات سے بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور امید ہے کہ جولائی میں اچھی خبر سننے کو ملے گی۔

این سی او سی کے مطابق اب تک پاکستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد ویکسین کی خوراکیں لگائی جاچکی ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ چین کی تیارکردہ سائنو فارم اور سائنو ویک ویکسین لگائی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG